جہلم

18 سال سے کم عمر نکاح پر پابندی شریعت کے خلاف اور معاشرتی فساد کا سبب ہے۔ سعد محمد مدنی

18 سال سے کم عمر نکاح پر پابندی شریعت کے خلاف اور معاشرتی فساد کا سبب ہے۔ سعد محمد مدنی

نکاح کو آسان بنانا چاہیے، رکاوٹ نہیں۔ نوجون اسکالر سعد محمد مدنی کا مؤقف

جہلم (محمد زاہد خورشید) مرکزی جمعیت اہل حدیث پنجاب کے نائب ناظم اور جامعہ علوم اثریہ جہلم کے مدیر امور داخلی نوجون اسکالر سعد محمد مدنی نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں ملک میں ایسا قانون زیرِ غور ہے جس کے مطابق 18 سال سے کم عمر افراد کو نکاح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مولانا سعد نے اس مجوزہ قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی شریعت، سنت نبوی ﷺ اور فقہی اصولوں کے صریح خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں نکاح کے لیے بنیادی شرط “عقل” اور “بلوغت” ہے۔ جیسے ہی کوئی لڑکا یا لڑکی بلوغت کو پہنچتا ہے اور نکاح کے لیے ذہنی و جسمانی طور پر آمادہ ہوتا ہے، تو شریعت اس کے لیے نکاح کو نہ صرف جائز بلکہ بعض حالات میں لازم قرار دیتی ہے۔ ایسی حالت میں کسی فرد کو محض عمر کی قانونی قید کے تحت نکاح سے روکنا دینِ اسلام کی روح کے منافی ہے۔

مولانا سعد محمد مدنی نے کہا کہ نکاح کو مشکل بنانا یا اس پر غیر ضروری قانونی پابندیاں عائد کرنا درحقیقت معاشرے میں بے راہ روی، فحاشی، زنا، اور دیگر اخلاقی برائیوں کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جب ہمارا معاشرہ فکری و اخلاقی انحطاط کا شکار ہے، نوجوان نسل مغربی تہذیب کے زہریلے اثرات کی لپیٹ میں ہے، تو ایسے وقت میں نکاح جیسے پاکیزہ ادارے کو محدود کرنے کی کوشش معاشرتی بگاڑ کی راہ ہموار کرے گی۔

انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ “یہ قانون دین اسلام کے خاندانی نظام پر ایک حملہ ہے، جس کا مقصد نکاح جیسے پاکیزہ اور سنت پر مبنی عمل کو بدنام اور پیچیدہ بنانا ہے۔ ہم کسی بھی صورت میں اس قانون کو قبول نہیں کریں گے، کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات سے بغاوت کے مترادف ہے۔”

انہوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “ایسے غیر شرعی اور غیر فطری قوانین کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور جید علمائے کرام کی مشاورت کے بغیر ایسے قوانین مرتب کرنا خود آئین پاکستان کی اسلامی شقوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔”

نوجون اسکالر سعد محمد مدنی نے مزید کہا کہ نکاح کو آسان بنایا جائے، معاشرتی رکاوٹیں اور مہنگائی کو کم کیا جائے، تاکہ نوجوان نسل پاکیزگی کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی زندگی کو آگے بڑھا سکے۔ “ہم حکومت وقت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ شعائر اسلام کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ایسے تمام اقدامات کو روکا جائے جو اسلامی اقدار کے خلاف ہوں۔”

آخر میں نوجون اسکالر سعد محمد مدنی نے والدین، علماء، اساتذہ اور معاشرتی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ معاشرے میں نکاح کی اہمیت کو اجاگر کریں، اور نوجوان نسل کی حفاظت کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You