کالم/مضامین

یہ جملہ درست نہیں ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ

تحریر: امیر محمد اکرم اعوان رح
یہ جملہ درست نہیں ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے اور یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اپنی حیثیت سے بڑھ چڑھ کر ادھار لے کر جہیز دیں۔ ہم دونوں طرف افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ایک طبقہ کہتا ہے کہ جہیز ایک لعنت ہے،ایک طبقہ جہیز میں اپنی شان و شوکت ظاہر کرنے کے لئے قرض لیتا ہے حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں اعتدال ہے، توازن ہے۔ کائنات کاسارا نظام، یہ زندگی موت،یہ گرمی سردی، یہ رات دن،ہر چیز میں ایک اعتدال ہے،ایک توازن ہے۔یہ سارے ستارے سیارے،زندگی توازن سے قائم رہتی ہے۔عدم توازن،زندگی کو ڈسٹرب Disturbکرنے کی طرف لے جاتا ہے۔جہیز میں بھی توازن ہے۔
نبی کریم ﷺنے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کو جب حضرت علی کرم اللہ وجہہ کریم کے نکاح میں دیا تو ضروریاتِ زندگی کی بنیادی چیزیں آپ ﷺنے انہیں عطا فرمائیں۔پانی کے لئے ایک مشکیزہ عطافرمایا،اس عہد میں مشکیزے ہوتے تھے۔جہیز میں آٹابنانے کے لیے ایک چکی عطا فرمائی۔اسی طرح ایک بستر،ایک تکیہ،گدایااس طرح کی کچھ چیزیں عطا فرمائیں۔جومادّی چیزیں اس وقت خانہ نبوی ﷺ پر موجود تھیں۔یہ نہیں کہا کہ میں توپوری انسانیت کا نبیﷺ ہوں،اللہ نے مجھے سب سے افضل بنایاہے تو پھر میرا جہیز بھی بے مثل وبے مثال ہو،بولا نہیں۔جو مادّی چیزیں آپﷺ آسانی سے اپنی بیٹی کو دے سکتے تھے،و ہ ضرور دیں۔بعد میں انہیں رہنے کے لیے اپنے حجرات مبارکہ میں سے ایک حجرہ مبارک بھی عطا کردیا۔جہاں روزہ اطہرﷺ ہے، اس کے پیچھے وہ حجرہ مبارکہ ہے جس میں حضرت علی ؓاور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ رہتے تھے۔یہ حجرات نبیﷺ میں سے تھا۔آپ نے شادی کے بعد عطا فرمایا، یعنی جہیز پر بات ختم نہیں ہو جاتی۔ اگر بعد میں بھی اولاد کی مددکر سکتے ہیں تو بچیوں کا حق بنتا ہے۔جس طرح ہم بیٹوں کا دھیان رکھتے ہیں اور زندگی بھر مدد کرتے ہیں لہٰذا بیٹیوں کا بھی وہی حق ہے۔ حضور ﷺنے شادی کے بعد حجرہ مبارک بھی عطا کردیا تو ایک معیار بن گیا کہ جو چیز یں اپنی حیثیت کے مطابق ضروریات زندگی کی ہیں وہ اپنی بیٹیوں کو دے سکتے ہیں۔اگرآپ زیور اچھا دے سکتے ہیں اور آپ کسی سے ادھار لینے پر مجبور نہیں ہیں تو ضرور دیں،وہ ایک سرمایہ ہے یعنی زیور صرف زینت ہی نہیں ہوتی،یہ ایک Balanceہے کہ اس کے پاس کچھ پیسے ہوں،ضروریات زندگی کی چیزیں، لباس کی قسم سے،ضرورت کے برتنوں کی قسم سے،آپ دیتے ہیں تو ضرور دیں لیکن یہ شان وشوکت کے اظہار کے لئے نہ ہوجس کی جتنی حیثیت ہے اس کے مطابق اسے دے اوریہی نہیں ہے کہ جہیز دے کر فارغ کردیا پھر ان کی وراثت میں بھی کوئی حصہ نہیں رہا، نہیں یہ نہیں ہوتا۔ہم نے ایسے زمیندار قسم کے لوگ بھی دیکھے ہیں جواپنی بیٹیوں کو جائیداد سے حصہ نہیں دیتے کیونکہ ان کی بیٹی اپنے حصے کا مال جہیزکی صورت میں لے جا چکی ہے۔بھائی! جہیز آپ نے جائیداد کا حصہ تقسیم کر کے تو نہیں دیاتھا۔وہ تو آپ نے اپنی شان وشوکت کے لیے،اپنا نام بنانے کے لئے، بہت بڑا جہیز دیا تھا۔ والدکی وفات پر جائیداد میں مقرر شدہ حصہ یعنی بچے کی نسبت آدھا اسے ملے گا، جائیداد میں بھی ان کا حق ہے،وہ انہیں دی جانی چاہئے۔مکان ہے،زمین ہے،کوئی غیر منقولہ جائیداد جو کچھ بھی ہے اس میں بھی ان کا حصہ برقرار رہتا ہے۔ ہم افراط وتفریط کا شکار ہو گئے ہیں کچھ لوگ تو بلکل اس کے خلاف چلے جاتے ہیں کہ کچھ دینا ہی نہیں چاہئے اور کچھ لوگ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں کہ میری بڑی شان وشوکت ہو گی۔ یہ دونوں طریقے غلط ہیں۔اپنی حیثیت سے بڑھ کر دینا اور اپنے اوپر بوجھ بنانا بھی ناجائز ہے۔ کس کی شان نبی کریم ﷺ کی شان سے میل کھاتی ہے؟جب آپ ﷺنے اسے اپنی آنر Honourکا سبب نہیں بنایابلکہ ضروریات زندگی کی جو چیزیں کاشا نۂ نبویﷺ پر موجود تھیں،وہ عطا کر دیں۔ اس میں توازن چاہئے۔ ہر بندے کی ایک مالی حیثیت ہے ہر بندے کی ایک قوت ہے، دینے یا نہ دینے کی۔ اس کے مطابق دے۔
اس سلسلے میں شادی کرنے والے یعنی سسرال یا دولہا کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے،وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جہیز میں گاڑ ی بھی ہو، جہیز میں وہ چیز بھی ہو۔وہ شرط نہیں لگا سکتے،جورواج آج کل ہے کہ شرط لگائی جاتی ہے۔جہیز میں گاڑی بھی آئے،ہمیں وہاں سے بھی حصہ ملے،ہمیں نقد بھی اتنا چاہئے، نہیں۔ یہ شرعاً جائز نہیں ہے۔ان کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔جتنے بھی حقوق ہیں وہ بیٹی کے ہیں اور والد کے ہیں۔اس کے سسرال والے، یادامادکا حق نہیں ہے کہ وہ مطالبہ لے کر بیٹھ جائیں کہ آپ اتنے امیر ہیں۔ مجھے وہ بھی دیں، مجھے وہ بھی دیں، یہ ناجائز ہے۔انہیں یہ حق پہنچتا ہے کہ بہو کودنیاوی ا عتبار سے اور دینی اعتبار سے پرکھ لیں۔ باعمل ہے باکردار ہے،شریعت کے دائرے میں رہنے والی ہے، نیک ہے۔اس کے بعد باپ کا اور بیٹی کا معاملہ ہے،اس میں ان کا کوئی لین دین نہیں۔ خاوند اگر کہہ دے کہ مجھے جہیز میں کچھ نہیں چاہئے توکوئی حرج نہیں،یہ بہت اچھی بات ہے۔
اسی طرح بیٹی جو جہیز لے کر جاتی ہے یا جو اس کا حق مہر مقرر ہوتا ہے، اس کا ذاتی حق ہے۔جب نااتفاقی ہو جاتی ہے اورنوبت طلاق تک چلی جاتی ہے تو اس کا جو مہر ہے اورجہیز کی جو ذاتی چیزیں وہ ساتھ لائی ہے۔ اس کا حق ہے وہ لے جاسکتی ہے۔ اللہ کریم فرماتے ہیں وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً ط فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْْءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ھَنِیْٓءًا مَّرِیْٓءًا (النِّسَآءِ:4)کہ اگر عورت معاف کردے،بے شک مہر بھی معاف کردے،جو جہیزلائی ہے وہ بھی معاف کردے،تو بندہ آرام سے لے سکتا ہے۔ وہ معاف نہ کرے تو طلاق دینے والے کوچاہیے کہ پہلے اس کا مہر ادا کرے۔جو چیزیں اس کی ذاتی ہیں، جو اپنے والد کی طرف سے ساتھ لائی ہے، وہ واپس کرے اور خوبصورت اوراچھے طریقے سے طلاق دے۔ایسے طریقے سے نہیں کہ آئیندہ کے لیے تعلقات میں دشمنی کی بنیاد بن جائے۔ ایک مجبوری ہے کہ ہم اکھٹے نہیں رہ سکتے۔مزاج نہیں ملتے، خیالات نہیں ملتے،کردار نہیں ملتا،سوچوں میں فرق ہے،کوئی بھی وجہ ہو، ایسی وجہ ہے کہ ہم زندگی بھر اکھٹے نہیں رہ سکتے۔ جس کا اظہارشادی کے بعد ہوا تو اس کا حل طلاق ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You