یقیناً،میں ایک انتہائی اہم اور حساس مسئلے کی طرف اشارہ کر رہی

تحریر فاطمہ بلوچ
یقیناً،میں ایک انتہائی اہم اور حساس مسئلے کی طرف اشارہ کر رہی ہوں۔ نئی نسل کی تباہی ایک اجتماعی المیہ بنتی جا رہی ہے، اور اس میں کئی عوامل شامل ہیں۔ آئیے اس موضوع کو تفصیل سے میں بیان کرتی ہوں :
—
### **نئی نسل کی تباہی – ایک سنجیدہ المیہ**
آج کے دور میں نئی نسل جس تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ والدین کی عدم توجہ، معاشرتی بے راہ روی، جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال، اور سب سے خطرناک: **نشہ آور اشیاء** کا استعمال۔
#### **1. نشہ اور منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان:**
یونیورسٹیوں، کالجوں، اور شو بز انڈسٹری میں آج کل منشیات کا استعمال ایک عام بات بنتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر:
– **لڑکیاں** ڈانس پارٹیز، کنسرٹس، یا نجی تقریبات میں جاتی ہیں جہاں انہیں منشیات آفر کی جاتی ہے۔
– **نشہ آور گولیاں، شیشہ، آئس، چرس، اور کوکین** جیسی خطرناک چیزیں با آسانی دستیاب ہیں۔
– ان پارٹیوں میں **نشہ کو "فیشن” یا "سٹیٹس سمبل”** کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
#### **2. شو بز کی گلیمرس دنیا:**
– نئی نسل اس دنیا سے متاثر ہو کر "فری لائف” کے پیچھے بھاگتی ہے۔
– یہاں پر نشے کو نہ صرف عام سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض جگہوں پر اسے **کریٹو انرجی** کا ذریعہ بھی کہا جاتا ہے، جو سراسر جھوٹ ہے۔
#### **3. والدین اور معاشرے کی خاموشی:**
– والدین اپنی اولاد کی سرگرمیوں سے لا علم ہوتے جا رہے ہیں۔
– اساتذہ اور ادارے بھی اس طرف توجہ دینے سے قاصر یا غافل ہیں۔
– **معاشرہ صرف تماشائی بن کر دیکھ رہا ہے**، کوئی روکنے والا نہیں۔
#### **4. سوشل میڈیا کا منفی اثر:**
– سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز اور تصاویر عام ہو گئی ہیں جو نوجوانوں کو غلط راہ پر ڈالتی ہیں۔
– "وائیرل ہونے” کی دوڑ میں بچے اپنی عزت اور مستقبل سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
—
### **حل کیا ہے؟**
1. **والدین کو متحرک ہونا ہوگا۔**
بچوں کی تربیت صرف سکول پر نہ چھوڑیں۔ ان سے دوستی کریں، ان کی بات سنیں۔
2. **تعلیمی اداروں میں سختی ہونی چاہیے۔**
باقاعدہ چیک اینڈ بیلنس ہو، خاص طور پر یونیورسٹیوں میں۔
3. **حکومتی سطح پر قانون سازی ضروری ہے۔**
منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
4. **نوجوانوں کو دینی اور اخلاقی تربیت دی جائے۔**
ان میں اچھے برے کی تمیز پیدا کی جائے۔
—



