سندھ

ہم آج تک ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سنجیدہ نہیں،ہمیں افسانوں سے نکل کر حقیقت کو تسلیم

*ہم آج تک ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سنجیدہ نہیں،ہمیں افسانوں سے نکل کر حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*

*ایک ہیکٹر پر موجود تمر کے جنگلات تقریباً ایک ہزار میٹر ک ٹن کے مساوی کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر عرفان عزیز*

*انڈس ڈیلٹا میں پائے جانے والے تمر کے جنگلات تقریباً12200 ملین ڈالرز کے مساوی معیشت کے حامل ہیں۔ریاض احمد وگن*

کراچی (رپورٹ : جاوید صدیقی) سندھ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے چیف کنزرویٹر ریاض احمد وگن نے کہا کہ صوبائی حکومت سندھ کی ساحلی پٹی پر پائے جانے والے تمر منگروز کے جنگلات کی بحالی اور تحفظ کیلئے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمر کے یہ جنگلات پانی کے بہاؤ میں تبدیلی، زمینی کٹاؤ، موسمیاتی تبدیلیوں اور چراگاہوں کے طور پر استعما ل ہونے کی وجہ سے خطرات سے دوچار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ماضی میں پاکستا ن میں تمر کی آٹھ اقسام پائی جاتی تھیں جن میں سے چار اب معدوم ہوچکی ہیں۔ انہوں نے ورلڈ بینک کی سنہ دو ہزار بائیس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تمر کے یہ جنگلات ماحولیاتی اہمیت کیساتھ ساتھ معاشی اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے۔ ایک ہیکٹر پر محیط تمر کا جنگل اٹھاون ہزار امریکی ڈالرز کے اثاثے کے مساوی ہوتا ہے، اس لحاظ سے انڈس ڈیلٹا میں پائے جانے والے تمر کے جنگلات تقریباً بارہ ہزار دو سو ملین ڈالرز کے مساوی معیشت کے حامل ہیں جس میں فشریز، لکڑیاں، چارے اور سیاحت شامل ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلو فائٹ یوٹیلائزیشن جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ حکومت سندھ کے اشتراک سے انسٹی ٹیوٹ ہذا کی سماعت گاہ میں تمر کے جنگلات کے عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک روزہ سیمینار بعنوان:”تمر کے جنگلات کے بچاؤ کی اہمیت“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انڈونیشین یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈولی پریاتنا نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیاء میں دنیا کے سب سے وسیع تمر کے جنگلات پائے جاتے ہیں جن کا رقبہ تین اعشاریہ تین ملین ہیکٹر ہے جو دنیا کے تمر کے جنگلات کا تیئس فیصد بنتا ہے، مگر ماحولیاتی اور ترقیاتی اسباب کی وجہ سے چالیس فیصد تمر کے یہ جنگلات متاثر ہورہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمر کے یہ جنگلات بہت سے جنگلی حیوانات جن میں سوماترن ٹائیگر، ہاتھی اور دیگر جانور شامل ہیں کا مسکن ہیں، اسی لئے انڈونیشین حکومت نے بہت سے تمر کے جنگلات کی بحالی اور حفاظت کیلئے ٹھوس اقدامات شروع کئے ہیں۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہم آج تک ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے سنجیدہ نہیں، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بغیر تحقیق کے منصوبے شروع کردیتے ہیں۔ ہمیں افسانوں سے نکل کر حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ہر سال سیلابی صورتحال اور تواتر کیساتھ درجہ حرارت میں اضافے کا سامنا ہے لیکن ان مسائل کے مستقل حل کیلئے ہم تاحال عملی اقدامات کرنے سے قاصر ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں سیلابی صورتحال سے نبردآزما ہونے کیلئے تمر کے جنگلات میں اضافہ اور اسکی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے حکومتی اور عوامی سطح پر اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ جنگلات ساتھ ہی ماحول کو بہتر بنانے اور درجہ حرارت کو کم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ دنیا کے متعدد ممالک میں تمر کے جنگلات کو استعمال کرکے بہت سے مسائل بالخصوص سیلابی صورتحال سے نبردآزما ہونے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اجمل خان انسٹی ٹیوٹ آف سسٹین ایبل ہیلوفائٹ یوٹیلائزیشن جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عرفان عزیز نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے تمر کی جنگلات کی اہمیت اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے سدباب میں کردار پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تمر کے جنگلات ایک منفرد ماحولیاتی نظام ہے جو ساحلی علاقوں اور ڈیلٹا کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عرفان عزیز نے مزید کہا کہ ہماری ساحلی پٹی کے تقریباً ایک ہزار ہیکٹر پر تمر کی چار اقسام موجود ہیں جو ان علاقوں کو سمندری سیلاب، سونامی اور زمینی کٹاؤ سے بچاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمر کے یہ جنگلات فضائی آلودگی کو کم کرنے میں بھی نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک ہیکٹر پر موجود تمر کے جنگلات تقریباً ایک ہزار میٹرک ٹن کے مساوی کاربن کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس موقع پر یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل آڈری ازولے کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا جس میں انہوں نے تمر کے جنگلات کی اہمیت کے باعث یونیسکو کے زیر اہتمام تمر کے جنگلات کے حوالے سے جاری مختلف منصوبوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی اور سامعین کو بتایا گیا کہ اس سال دسمبر میں تمر کے جنگلات پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ابوظہبی میں کیا جارہا ہے۔ رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے کہا کہ تمر کے جنگلات کو غیر ضروری سمجھا جاتا رہا ہے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ تمر کے جنگلات کو شہد کی پیداوار اور بہت سے اہم حشرات الارض کی پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ سیمینار سے ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز جامعہ کراچی ڈاکٹر فرخ نواز نے بھی خطاب کیا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You