ہمارے اساتذہ کی بدولت ہمیں علم کی روشنی سے راستہ دکھایا گیا۔ڈاکٹر نورین ناز

ہمارے اساتذہ کی بدولت ہمیں علم کی روشنی سے راستہ دکھایا گیا۔ڈاکٹر نورین ناز
اساتذہ طالب علموں کی زندگی میں ریڑ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہے۔معروف لیڈی ڈاکٹر
مردان(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق معروف لیڈی ڈاکٹر نورین ناز نے کہا کہ ہمارے اساتذہ کی بدولت ہمیں علم کی روشنی سے راستہ دکھایا گیا انہوں نے کہا کہ اساتذہ طالب علموں کی زندگی میں ریڑ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہے جس طرح ماں باپ اپنے بچوں کو اپنے خون پسینے کی کمائی سے بڑا کرتے ہیں اور انہیں معاشرے میں جینے کا سلیقہ اور طریقہ سکھاتے ہیں اسی طرح استاد بھی اپنی قابلیت اور اپنا علم پوری ایمانداری کے ساتھ اپنے شاگردوں میں منتقل کرتا ہے اور جس طرح والدین اپنے بچوں کو صاف ستھرا اور بنا سنوار کر ان کو پاک اور صاف انسان بناتے ہیں اسی طرح استاد بھی بچے کی پہلے دن سے لے کر اس کے بلوغت تک نوک پلک سنبنوارتا ے اور اسے معاشرے میں جینے کا ھنر سکھاتا ہے اور انہیں معاشرے میں جینے کا سلیقہ دیتے ہیں جو اگے چل کر ان کے مستقبل کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوتا ہے اسی لیے اج کے دن پہ یہ کہنا چاہوں گی کہ والدین اور اساتذہ کا رشتہ بچوں کی زندگی میں ساتھ ساتھ چلتا ہے اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جس طرح والدین بچے کی زندگی میں لازم و ملزوم ہے اسی طرح اساتذہبی طالب علموں کی زندگی میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے یوم اساتذہ کے موقع پر معروف لیڈی ڈاکٹر نورین ناز نے بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ بات ہر مسلمان جانتا ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھی معلم بنا کر اس دنیا میں بھیجا گیا تھا اسی طرح اگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اس دنیا میں تشریف نہ لاتے تو زمانہ جاہلیت میں لوگ جہالت کی بستیوں میں اور بھی گر جاتے ہیں یہ ہمارے پیارے نبی ہی تھے جنہوں نے انسانوں کو تمام ا انسانیت کو جہالت کی گہرائیوں اور اندھیروں سے نکالا اور ان کو دینی اور دنیائی علم سے اراستہ کیا اور وہ جو گمراہی اور جہالت میں پڑے ہوئے تھے علم کی روشنی سے ان کے سینے منور ہوئے یہ مثال ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ اگر ہمارے اساتذہ بھی ہمارے ساتھ نہ ہوتے تو ہم بھی جہالت کی گہرائیوں میں پڑے ہوتے جہالت کے اندھیروں میں پھر رہے ہوتے روشنی کی کرن دیکھنے کو ترستے لیکن ہمارے اساتذہ کی بدولت ہمیں علم کی روشنی سے راستہ دکھایا گیا ہمارے سینوں کو کشادہ کیا گیا ہمیں علم و ہنر کے نئے نئے ایجادات اور طریقوں سے اگاہ کیا گیا اور یہ ہمارے اساتذہ کا علم ہی ہے جو ان سے ہم میں منتقل ہوا اور اس نے ہمیں جینے کی راہ سکھائی اور اس ماڈرن دور میں دنیا کے ساتھ چلنا سکھایا اگر ہمارے پاس اساتذہ کا دیا ہوا علم نہ ہو تو ہم اس ماڈرن دنیا سے بالکل پیچھے رہ جائیں اور ان نئی نئی ایجادات کے ساتھ نہ چل سکے لیکن اگر ہم مغربی ممالک کے ساتھ شانہ بشانہ چل رہے ہیں تو یہ ہمارے قابل اساتذہ کے مرہون منت ہے۔پی لی ہے ہمیں چاہیے کہ والدین کے ساتھ ساتھ ہم اپنے ساتھی کو بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں اور ان کی اتنی ہی عزت کریں جتنی کہ ہم اپنے والدین کی کرتے ہیں تاکہ ہمارا دین اور دنیا دونوں سنور جائے



