کس کو آتی ہے مسیحائی کسے آواز دوں

کس کو آتی ہے مسیحائی کسے آواز دوں
قیام پاکستان سے آج تک ہم سنتے آرہے ہیں کہ ہر آنے والا حکمران ملک کا نظام صحیح کردے گا اور اس سے پہلے کے تمام حکمران نالائق چور اور ڈاکو تھے جو ملک کو لوٹ کر کھا گئے ہیں۔ لیکن جب حقیقی صورتحال کا جائیزہ لیتے ہیں تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم بد سے بدتر حالات کی جانب گامزن ہیں۔ آخر وہ کون سے عوامل ہیں یا کردار ہیں جن کی وجہ سے ہم ان حالات کی گردش سے نہیں نکل پارہے ہیں۔ اگر ہم کم وسائل اور زیادہ آبادی کا رونا روتے ہیں تو ہمارا پڑوسی ملک چین پورے دنیا کے لئے مثال ہے اس نے اپنی زائد آبادی کو ہی اپنی طاقت بنا لیا اور سپر پاور بن گیا تو ہمارا اصل مسئلہ کیا ہے؟ جس کی وجہ سے ہم تمام وسائل, معدنیات, آبادی میں جوان ورک فورس اورمصبوط دفاع کے باوجود ناکام جارہے ہیں تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان تمام مسائل کا ذمہ دار ہمارا اشرافیہ کا طبقہ ہے جس نے اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے ملک کو داوٴ پر لگا دیا ہے۔ اس اشرافیہ کے دو فیصد طبقے میں سیاست دان، بیوروکریٹ، صنعت کار، وڈیرے جاگیر دار اور جج شامل ہیں۔ گو کہ ان میں کچھ اچھے بھی آئے جو واقعی مملکت پاکستان کے نظام کو صحیح کر کے درست سمت میں اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے تھے لیکن ایسے لوگ ان کرپٹ عناصر کے اوچھے ہتھکنڈوں کی نظر ہوگئے کیونکہ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں کرپٹ عناصر کی تعداد 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے پاس قومی اسمبلی کی 272 سیٹوں صوبائی اسمبلیوں کی 576 اور سینٹ کی 100 سیٹیوں کے لئے ایسے افراد موجود نہیں ہیں جو الیکشن لڑنے سے پہلے اپنے تمام گوشوارے دے سکیں کہ وہ پاک صاف ماضی رکھتے ہیں اپنی تصدیق شدہ ڈگریاں دے سکیں کہ وہ پڑھے لکھے بھی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس ایسے بیوروکریٹ اور افسران نہیں ہیں جو ملک کی بیوروکریسی کو کرپشن فری کرسکیں۔ ہر بار ہم پہلے کے داغدار ماضی کے حامل افراد کو مثال بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم ہر چیز سے بری از ذمہ ہوگئے ہیں۔ ہماری بدقسمتی کے ملک بننے کے بعد سے ہی بڑوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ہم ان حالات کا شکار ہوئے ہیں سب سے پہلے لیاقت علی خان کا امریکی بلاک میں جانے کاغلط فیصلہ، اس فیصلے کی پاکستان کی جتنی قیمت ادا کرنی پڑی ہے اس کی مثال نہیں ملتی، ہم چاہتے تو اس وقت غیر جانب دار بھی رہ سکتے تھے، امریکیوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لئے ہمیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کیا اور ہمیں مونگ پھلی کے دانے کے برابر امداد پر ٹرخہ دیا، ہمارے ادارے اور سیاسی نظام کو تباہ کیا اپنے مفادات کے حصول کے لئے انہیں کرپٹ کیا جو کہ آج ناسور کی طرح ہمارے معاشرے کی تمام اقدار کو کھا گیا اور آج ہم اس حال پر کھڑے ہیں جب کے ہمارے بالکل پڑوس میں چین نے کرپشن فری سوسائٹی بنا کر اتنی ترقی کی کہ نہ صرف سپر پاور بنا بالکے دنیا کے بیشتر ممالک امریکہ بشمول اسکے مقروض ہیں۔ اگر ہمیں پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنا ہے تو تمام روایات اور ماضی کو بھلا کر ایک نئے عہد کا آغاز کرنا ہوگا کرپٹ صدر مملکت سے لیکر چپڑاسی تک جو کوئی بھی سرکاری عہدہ لے گا یا سرکاری مراعات حاصل کرے گا اسے اپنی ذمہ داریوں کے آغاز سے پہلے کے تمام حساب کتاب اور گوشوارے دینے ہوں گے اور اختتام پر بھی تمام حساب کتاب اور گوشوارے دینے ہوں گے، دوران ذمہ داری کرپشن یا غیر ذمہ داری ثابت ہوجانے پر صرف عہدے سے معزولی نہیں بالکے چین کی طرح سزائے موت ہو۔ جب ان قوانین بن جائیں گے اور ان پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا توصرف تین سال میں ہم ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں باقی رہا ہے ملک کے مقتدر حلقوں کو سنجیدگی کے ساتھ ان باتوں کو لینا نہیں ہوگا اب مذید یہ ملک تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے ناسور بہت بڑا چکا ہے اس لئے بڑے ٓپریشن کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے۔
کالم نگار محمد فہیم اکبر خان
کراچی
03151009440
381faheem@gmail.com



