سندھ

کرپٹ آور بددیانت ایف بی آر افسران و اہلکاروں کی کرپشن

*کرپٹ آور بددیانت ایف بی آر افسران و اہلکاروں کی کرپشن*

*کراچی میں تاجر دوست اسکیم ناکام*

*جبتک یہ چالیس خاندان ہیں پاکستان تباہی کی طرف تو جاسکتا ھے بہتری کی طرف ہرگز نہیں*

*پاکستان مکمل مافیاء کے گندے دلدل میں مکمل دھنس چکا ھے*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: ایف بی آر ۔ کالی بھیڑوں کی آمجگاہ*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

دنیا بھر میں سوائے پاکستان کے ٹیکس کا ایک مضبوط و مربوط نظام رائج ھے اس سے قطع نظر کہ وہ مسلم اسٹیٹ ہیں یا غیر مسلم۔ آج ھم اپنے اطراف تجزیاتی نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں اپنے پڑوسی ممالک ترقی کرتے خوشحال نظر آتے ہیں اسکی سب سے بڑی وجہ وہاں کا شفاف کرپشن سے پاک نظام ھے جہاں پر ٹیکس پوری دیانتداری اور ایمانداری کیساتھ جمع بھی کیا جاتا ھے اور ریاست و عوامی فلاحی امور پر بھی بھرپور استعمال ہوتا ھوا نظر آتا ھے اسکی ایک بڑی وجہ دنیا بھر کے ممالک کی عدل و انصاف پر مبنی عدالتیں بھی ہیں۔ آج ھم دنیا بھر میں بادشاہی، صدارتی، جمہوری اور فوجی اقتدار بھی دیکھتے ہیں مگر حیرت و تعجب کی بات ھے کہ ان سب ریاستوں میں عوام پرسکون خوشحال بنیادی حقوق سے مالا مال اور ترقی کی جانب تیزی سے رواں دواں نظر آتی ہیں۔ پاکستان کی موجودہ سمیت سابقہ تمام حکومتوں نے ٹیکس کے نظام میں بدترین صورتحال دیکھی مگر اس کے سدھار کیلئے کوئی جامع عمل نہیں کیا بس لفظی جمع خرچ یا سیاسی بیانات۔ حکومت کی کمزور رٹ یا پھر یہ کہنے دیجئے کہ پارٹنر شپ کے سبب ایف بی آر مکمل مافیاء بن چکی ھے جس کے حقائق لاہور میں ناجائز دولت کی تقسیم میں ہتھیار نکل آئے مگر تاحال حکومت کی خاموشی واضع کررہی ھے کہ سیاستدان و حکمران کا بھی ہاتھ شامل رھا ھے بحرکیف اب میں بات کرتا ھوں پاکستان کے سب سے بڑی معاشی و اقتصادی اور مالیاتی شہر کراچی کی تو یہاں ایف بی آر کے دانت اور پنجے عوام کی گردنوں کو بری طرح نوچ رھے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! کراچی میں تاجر دوست اسکیم کو ناکام بنانے میں ایف بی ار کے اعلی درجہ سے لے کر درمیانے درجے کے افسران و اہلکاروں نے بھرپور کردار ادا کیا جن کی بدولت تاجر برادری کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ھے جنہوں نے پاکستان کی معیشت کی پشت میں چھرا گھونپ دیا۔ ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کیلئے دوستانہ رویوں کے بجائے کرپٹ افسران اہلکاروں نے خوف اور دہشت میں اضافہ کیا، غیر قانونی طور پر انکم ٹیکس ارڈیننس مجریہ سنہ دو ہزار ایک کی شق "ایک” ایک سو گیارہ کے تحت نوٹس جاری کرکے تاجروں کو لاکھوں روپے کا ٹیکس چارج کرنے کی دھمکی دے کر بھاری رقوم بطور بھتہ یا رشوت وصول کرتے رھے ہیں۔ ایف بی آر کی کرپٹ مافیا کی بلیک میلنگ اور بھتہ خوری نے تاجروں کو احتجاج پر مجبور کردیا۔ یکم اپریل سنہ دو ہزار چوبیس سے کراچی، اسلام اباد، راولپنڈی، کوئٹہ، لاہور اور پشاور میں تاجر دوست اسکیم کا اغاز کیا گیا اس اسکیم کے تحت تمام غیر رجسٹرڈ ہول سیلرز، ڈیلرز، ریٹیلرز، فرنیچر، تزئین و ارائش کے شو رومز، جیولرز، کاسمیٹک اسٹورز، کریانہ، میڈیکل اسٹورز، ہارڈ ویئر اسٹورز وغیرہ اور دکانوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی۔ ایف بی ار نے تاجروں کو مجموعی واجب الادا ایڈوانس ٹیکس کی یکمشت ادائیگی پر پچیس فیصد رعائت دینے نان فائلرز سال سنہ دو ہزار تیئس کی ٹیکس ریٹرن فائل کرنے پر ماہانہ ایڈوانس ٹیکس میں پچیس فیصد رعائت دینے نان فائلرز کیلئے یکمشت سالانہ ایڈوانس ٹیکس کی ادائیگی اور ریٹرن فائل کرنے پر پچاس فیصد رعائت دینے کا اعلان کیا جبکہ ٹیکس رجسٹریشن نہ کروانے والے تاجروں کو انکم ٹیکس آرڈیننس سنہ دو ہزار ایک کے سیکشن ایک سو بیاسی کے تحت قانونی کاروائی اور جرمانے کا عندیہ دیا گیا۔
تاجر دوست اسکیم کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے ایف بی ار نے ملک بھر میں افسران کو تعینات کیا، تاجر دوست اسکیم کی ناکامی دراصل ار ٹی اوز کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور محکمہ جاتی بددیانتی کا شاخسانہ ثابت ہوئی جن کی وجہ سے ملک بھر بالخصوص کراچی کی تاجر برادری کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا اور تاجر دوست اسکیم تاجر دشمنی میں تبدیل ہوگئی۔ ایف بی ار میں براجمان کرپٹ اور بددیانت مافیاز نے غیر قانونی نوٹسز تاجروں کو ارسال کر کے تاجر برادری اور ایف بی ار کے مابین نفرتوں کی ایک مضبوط فصیل قائم کردی غیر قانونی نوٹسز کے اجرا کے بعد تاجر برادری میں شدید بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی اور ایف بی ار پر رہا سہا اعتماد بھی جاتا رہا۔ تاجر دوست اسکیم ناکام ہونے کے بعد ایف بی ار نے مجبوراً فیلڈ اپریشن بند کردیا محکمہ جاتی کرپشن بددیانتی اور رشوت کے الزامات کے تحت درجنوں سینئر اور جونیئر افسران کو رشوت بددیانتی محکمہ جاتی کرپشن کے الزام میں ایڈمن پول ٹرانسفر کردیا گیا۔ سنا ہے کہ کرپٹ عناصر کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کا اغاز کیا جاچکا ہے لیکن ایف بی ار کے آفیسرز کی بددیانتی کے باعث کراچی کی تاجر برادری کو ٹیکس کلچر کا حصہ بنانے کا خواب چکنا چور ہوگیا اور ائی ایم ایف کی تیس سالہ ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کی مہم بری طرح ناکامی سے دو چار ہوگئی۔ حکومت کی جانب سے بآور کیا جارھا ہے کہ ایڈمن پول میں ان افسران کو بطور سزا تعینات کیا جارہا ہے جن پر بدعنوانی، سنگین کرپشن، حراسمنٹ اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور ایف بی ار ایسے افسران کے خلاف انکوائری کررہا ہے کہ انہیں محکمہ میں رکھا جائے یا ملازمت سے برطرف کردیا جائے ملکی معاشی ترقی اور استحکام کے خلاف کرپٹ عناصر اگرچہ کوہ گراں کی حیثیت کیوں نہ رکھتے ہوں بہرحال انکا خاتمہ اور موجودہ صورتحال کا مضبوط تدارک ضروری ہے لیکن دوسری جانب اس نقاط سے بھی منہ ہرگز نہیں پھیرتے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیک نون نے اس وطن عزیز پاکستان میں حکومت تین تین بار کیں ان کئی سالوں میں اصلاحات اور نظام کو بہتر کیوں نہیں بنایا۔ پاکستان کے انتہائی قابل ترین کمپیوٹر ماہرین جوکہ بیرون ملک اپنے اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ خدمات پیش کررھے ہیں ایم کیو ایم کے ایک سابق وفاقی وزیر سمیت ان تمام سیاسی جماعتوں حکومتوں کے وزراء و مشیران کا یہی سوچ یہی نظریہ اور یہی مقصد ھے کہ کمیشن در کمیشن ملتا رھے۔ سابق وزیر نے اپنی وزرات کے بہتر نظام کیلئے سسٹم بنانے اور جرنیٹ کرنے کیلئے کوٹیشن طلب کیں تو سب سے پہلے شرط یہ رکھی کہ ہمارا حصہ / ہمارا کمیشن بتاؤ جس پر ماہرین نے ٹکا سا جواب دیا کہ ھم نہ گندا کام کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے کام کا حصہ بنتے ہیں۔ اس ملک میں جبتک یہ چالیس خاندان ہیں پاکستان تباہی کی طرف تو جاسکتا ھے بہتری کی طرف ہرگز نہیں کیونکہ پاکستان مکمل مافیاء کے گندے دلدل میں مکمل دھنس چکا ھے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You