سندھ

کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ میں نے سن رکھا تھا

*جب جاوید صدیقی سے کسی نے پوچھا*

کراچی کے معروف جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ میں نے سن رکھا تھا اور پڑھ رکھا ھے دجال اور اسکی کارفرمائیاں، ابلیس اور اسکی چالاکیاں، انسان نفس کا پجاری، جھوٹ سر پر دوڑے، منافقت سچوں پر بھاری، وعدے وہ بھی جھوئے، بیوفائی دھوکہ کی آمیزش کیساتھ، ایمان و نیکی اشتہاری یعنی دکھاوے اور نام کی۔۔۔ جاوید صدیقی نے کہا یہ حقیقت مسلمہ ھے کہ روئے زمین پر پاکستان وہ واحد ملک ھے جہاں جمہور اور جمہوریت کا آلاپ لگانے والے سب کے سب جمہوریت سے نابلد ناواقف اور کوسوں دور ہیں یہی نہیں بلکہ مذہبی جماعتیں جو سیاست میں داخل ہیں وہ دین سے دور مکمل زائچہ، توجہ، غور، معلومات، حقائق کی روشنی، تحقیق کے بعد حاصل نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ یہ سب کے سب مفادپرست، خودغرض، لالچی، بےدین و بےایمان، خائن و چور اچکے، لٹیرے اور خائن کمال درجے پر پہنچ چکے ہیں، دوسرا یہ کہ پاکستانی اکثریت قوم ہی انتہائی بدعقل، بیوقوف، بےشرم، بےحیا، بیغیرت اور بےضمیر بن چکی ھے سوا چند تعداد کے۔ یہ حکمران قومی خذانے کی تقسیم اپنے باپ دادا کے نام پر انہی قوم کے ٹیکس سے حاصل کردہ رقوم غیر مستحقین میں تقسیم کرکے بے پناہ اشہاری شہرت حاصل کرتے ہیں جس پر مردہ و بےحس جسٹس مدہوش یہ تماشا ہوتا دیکھ رھے ہوتے ہیں۔ یہاں کے جسٹس ہوں یا حکمران و سیاسی رہنما ان سب سے کوئی پوچھے کہ حلال و حرام میں کیا فرق ھے۔ یقیناً ان سب کا ایک ھی جواب ہوگا کہ جو حرام سے پیدا ھوا ھے وہ حرامی اور حرام کام کے عادی ہوتے ہیں اور ان میں ایمان قطعی نہیں ہوتا وہ مکمل مادیت و دنیا پرست زندگی گزارتے ہیں۔ دوسرا حلالی وہ لوگ ہوتے ہیں جو خوفِ خدا اور عشقِ رسول ﷺ سے سرشار ہوکر عبادات و ریاضت کیساتھ انتہائی پابندی اور دھان سے حقوق العباد کی ادائیگی کو خوبصورت بناتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں جنکا نقطۂ نظر ایمان کی پختگی اور سلامتی رہتا ھے وہ اسوۂ حسنہ کیساتھ ساتھ اصحاب اجمعین اور اہلِ بیت کی زندگی کو شمعٔ ہدایت بناکر گزارتے ہیں مانا کہ پاکستان ایسے لوگوں کم ھے مگر ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اب صورتحال تمام عوام خوب جانتی ھے انہیں خود بھی اپنا پتا ھے کہ وہ کس قدر اللہ سبحان تعالیٰ کا قرب حاصل کرچکے ہیں اور رسولِ خدا ﷺ کی محبت و عشق کے سمندر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ظاہری نمود و نمائش اور دل کی کیفیت دو الگ الگ راہیں ہیں اللہ سبحان تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺ ہمارے ظاہر و باطن سے واقف ہیں بہتر یہی ھے کہ خود کو خودی کے دھوکہ سے نکالیں اور اصل میں قرآن و سنت پر مکمل مکمل خود کو ڈھالیں یاد رکھیں دین میں مسلک کی کوئی گنجائش نہیں، دین محمدی ﷺ مسلک کے بناء ھے صرف مسلمان اور مومن بنیں کیونکہ اللہ نے امت محمدی ﷺ کو والمومنین و المومینات والمسلمین والمسلمات کے القابات سے پکارا ھے اللہ اور اسکے حبیب ﷺ سے بہتر کون ھے جو امت مسلہ کو اچھا نام دے چھوڑ دیں آج سے خود کو مسلکی نام سے کہلوانے پر صرف وہی کہلوائیں جو اللہ سبحان تعالیٰ اور اسکے حبیب ﷺ نے نام دیا ھے یعنی مسلم اور مومن ۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You