کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے بڑی حیرت کا اظہار

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے بڑی حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ھے کہ پاکستان میں عجیب لوگ بستے ہیں۔ قومیت، عصبیت، تعصب، لسانیت اور مسلکیت کو بچانے کیلئے شوشل میڈیا میں ہر ایک کود پڑتا ھے۔ کسی کو بھی امت بچانے اور دین کا تحفظ کرنے کا احساس تک نہیں رہتا۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے مفصل قومی پریشانی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پاکستانی عوام ایک قوم نہیں بن جاتی ان پر اشرفیہ اور حکمرانوں کا یہی ظالمانہ و جابرانہ رویہ قائم رھے گا۔ انھوں نے کہا کہ اپنے حقوق کی طلب سے قبل اپنے من اور ذہن کو پاک صاف ستھرا رکھنا ضروری ھے کیونکہ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ھے جب مکمل توجہ کیساتھ قرآن کی تلاوت، ترجمہ اور مفہوم کو سمجھنا ضروری ھے۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ رب العزت سبحان تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی امت پر بیش بہا انعامات فضل و کرم اور روشن قندیلیں رکھی ہیں مگر افسوس کہ یہ امت اللہ کی جانب رخ کرنے کے بجائے دنیاوی اور نفسانی خواہشات کے گڑھے میں گرنا پسند کرتے ہیں اور تعصب، لسانیت، عصبیت اور مسلکیت جیسی ابلیسی عنصر کو اپناکر رب العزت کیساتھ بغاوت کرتے ہیں یہی وجہ ھے کہ نہ سود کا نظام خارج ھوا نہ فتنہ قادیانیت پر گرفت ہوئی۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ کیا کوئی بھی فرقہ و مسلک دعویٰ و دلیل کیساتھ ثبوت دے سکتا ھے کہ احادیث کی روشنی میں اسکا فرقہ امام زمانہ حضرت مھدی ؑ کا ہی ہوگا اگر ثابت ہوجاتا ھے تو وہی فرقہ و مسلک دنیا میں قائم رہنا چاہئے اور اگر فرقہ و مسالک کا امام زمانہ میں خاتمہ اور وہی دین جو آپ ﷺ لائے تھے تو ان فرقوں و مسالک کا خاتمہ ناگزیر ھے یقیناً مسلم امہ کو دین محمدی ﷺ کے مخالفوں نے اپنی سازشوں، مکاریوں، دھوکہ دہی اور فریب میں مبتلا کرنے کیلئے اور انہیں تقسیم در تقسیم کرنے کیلئے یہ منفی راہیں اپنائی گئی ہونگی۔ اب وقت کا تقاضہ ھے کہ پاکستان میں ہر بڑے شہر میں قرآن یونیورسٹی کا قیام لایا جائے جس میں تحقیق و جائزے کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ امت مسلمہ کے بکھرے ذہنوں سوچوں افکار کو بناء مسالک کے یکجا کرنے میں معاون ثابت ہوسکیں۔ جب قوم متحد ہوگی تب ہی نظام ریاست بھی بدل سکتا ھے اور ناگزیر ھے ہمارا ملک کہ اس میں شرعی و قرآنی قانون نافذ کیا جائے وگرنہ اپنے ہاتھوں سے اپنی قسمت کا جنازہ اٹھاتے رہینگے۔



