کراچی(بیوروچیف: جاوید صدیقی) سرکاری ملازمین ایسوسی ایشنز کے عہدیداران و پینشنرز حضرات

کراچی(بیوروچیف: جاوید صدیقی) سرکاری ملازمین ایسوسی ایشنز کے عہدیداران و پینشنرز حضرات نے حکومت کیجانب سے پنشنرز کے اکاؤنٹ سمیت اے ٹی ایم بلاک کرنے پر تشویش کا اظہار کیا، یاد رھے کہ پینشنرز بینک میں اکر بائیومیٹرک مہینہ دو مہینہ پہلے بائیومیٹرک کرواچکے ھیں۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل بینک کے ظالمانہ رویئوں پر سرکاری ملازمین کی ایسوسی ایشنز و تنظیموں نے شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ھوئے انہیں نا اہل کام چور بد مزاج قرار دیا ھے جو کام پر گرفت کرنے کام کا سہل انداز میں پیش کرنے اور سبک رفتاری و خوش اخلاقی کیساتھ پیش کرنے سے قاصر ھیں۔ کئی نیشنل بینکوں میں بیمار اور ضعیف پنشنرز کے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں اور انکے کھڑے رہنے کا عمل بہت مشکل ھے۔یاد رھے کہ بعض نیشنل بنک میں منیجر بائیومیٹرک کررھے ھیں لیکن بائیومیٹرک مشین بھی ناکارہ ھیں۔اکثر پینشنرز کے نشانات نہیں آرھے ھوتے ھیں انکے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کیا جاتا ھے کئی کئی روز تک بلایا جاتا ھے۔ سرکاری ملازمین تنظیموں اور پینشنرز نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کے حلقہ میں ھزاروں جعلی اکاؤنٹ تھے اور ان اکاؤنٹ سے کروڑوں روپے نکالے گئے اس پر کوئی گرفت ھوئی یا صرف ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دینے والوں کو پریشان کیا جارہا ھے۔ تعلیم بچاؤ ایکشن کمیٹی مطالبہ کرتی ھے کہ پنشنرز کے اکاؤنٹ اور اے ٹی ایم بلاک نہ کیا جائے بلکہ انکی بائیو میٹرک کیلئے طلب کرلیا جائے۔ تمام سرکاری ملازمین ایسوسی ایشنز و پینشنرز نے حکومت کی اس ظالمانہ اقدام کی پرجوش مزمت کی ھے اور افسوس قرار دیا ھے۔ پنشنرز کے مشکلات و مسلسل حصول پینشن کے مسائل پر کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے وزیراعظم، صدر مملکت، وفاقی وزیر فنانس، گورنر اسٹیٹ بینک سمیت صدر نیشنل بینک کو مشورہ دیا ھے کہ ملک بھر کے ضعیف کمزور لاغر اور بیمار پینشنرز اپنی اس عمر میں حکومت و ریاست کی عدم توجہگی کے سبب اس تکالیف سے دوچار ھورھے ھیں ھونا تو یہ چاہئے کہ ان کیلئے ایک اپلیکیشن بنادی جائے جس میں ھر وہ کمانڈ رکھی جائیں جو حکومت اور ریاست کو درکار ھیں تاکہ گھوسٹ جعل ساز ملازمین کا خاتمہ بھی ممکن ھوسکے اور بینک کے چکروں سے محفوظ بن سکے۔ مزید برآں جاوید صدیقی کا یہ بھی کہنا ھے کہ دنیا بھر میں پینشنرز حضرات کو سب سے زیادہ حکومت کی جانب سے فوائد و سہولیات فراہم کی جاتی ھیں دوسری جانب پاکستان اپنے پینشنرز کیلئے آسانی کے بجائے اذیت در اذیت کے امور وقتاً فوقتاً بڑھائے جارھے ھیں جو ہنگامی بنیادوں پر حکومت وقت کی توجہ کے مستحق ھیں



