کانچ کی گڑیا

تتلیوں کے رنگ جیسی
جگنوؤں کے پنکھ جیسی
وہ معصوم تھی، بہت چھوٹی
کچھ سات، آٹھ برس کی
امّاں کی تھی لاڈلی
بابا کی وہ جان تھی
چہرے پر اس کے نور تھا
گڑیا حافظِ قرآن تھی
چھوٹا سا بستہ
اس میں کتابیں
اسکول کے راستے پر
دوستوں سے باتیں
باتیں پریوں کی،، رنگوں کی
جذبوں کی،، ارادوں کی
کچے دھاگوں میں بُنے
مستقبل کے خوابوں کی
پھر وہ دھاگے، وہ خواب سارے ٹوٹ گئے
قلم، کتابیں، دوست سبھی چھوٹ گئے
ہوس زدوں کے نرغے میں پھنس گئی تھی گڑیا
درندگی کی بھینٹ چڑھ گئی تھی گڑیا
انسانی بھیڑیوں نے ظلم بے انتہا کیا
چھین کر خوشبو اور رنگ سارے
جسم مردہ اُس کا کہیں پھینک دیا
سسکیاں تھیں،
بندھی ہچکیاں تھیں
آنے جانے والوں کا تانتا بندھا تھا
گھر اُس کا اک ماتم کدہ بنا تھا
پھر وقتِ رخصت آیا
تو ماں کا دل بھر آیا
باپ کے کپکپاتے ہاتھوں نے
گڑیا کا جنازہ اٹھایا
(کاشف شمیم صدیقی)


