
سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب قرار دیدیا ہے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ معذرت چاہتے ہیں ہم نے کافی زیادہ وقت لے لیا۔ ہم نے ایک مختصر فیصلہ لکھا ہے۔ عدالت کا فیصلہ 12 صفحات پر مشتمل ہے۔ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کالعدم قرار دیدی ہے۔
چیف جسٹس نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری پنجاب وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا نوٹیفکیشن جاری کریں۔ گورنر پنجاب آج رات ساڑھے گیارہ بجے وزیراعلیٰ سے حلف لیں۔ حمزہ شہباز نے جو بھی کام قانونی کئے، وہ برقرار رہیں گے۔ تاہم معاون خصوصی اور دیگر عہدے غیر قانونی ہیں۔ معاون خصوصی اور دیگر عہدے بھی فوری طور پر چھوڑ دیں۔ عدالت نے تمام فریقین کو فیصلے کی کاپی فی الفور پہنچانے کی ہدایت کردی۔
RelatedPosts
فرحت اللہ بابر نے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کی تجویز کردی
ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کیس: سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
LOAD MORE
تفصیل کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے گذشتہ روز فل کورٹ بنچ کے لئے پی ڈی ایم کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ آج سپریم کورٹ کے بنچ نے دوبارہ ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے فیصلے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔
پی ڈی ایم وکلا کا مقدمے کی کارروائی میں حصہ نہ لینے کا اعلان
سماعت شروع ہوئی تو ڈپٹی سپیکر کے وکیل عرفان قادر نے کارروائی میں مزید حصہ نہ لینے کا اعلان کیا اور کہا کہ ہم فل بنچ نہ بنانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے۔ ان کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بھی سپریم کورٹ کا حصہ نہ بننے کا اعلان کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے فیصلے سے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا۔
ہمیں فل کورٹ بنانے پر ایک بھی قانونی نقطہ نہیں بتایا گیا: چیف جسٹس
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کا فاروق ایچ نائیک سے کہنا تھا کہ ہم نے تمام فریقین کو قانونی نقطے پر دلائل کے لیے وقت دیا لیکن عدالت کو فل کورٹ بنچ کی تشکیل پر ایک بھی قانونی نقطہ نہیں بتایا گیا۔ آپ وکلا نے ہم سے وقت مانگا تھا، اس لئے گذشتہ روز سماعت کو ملتوی کیا گیا تھا، اب یہاں عدالت میں موجود رہ کر کارروائی دیکھیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں ابھی تک کوئی بھی قانونی جواب نہیں دیا گیا۔ سوال تھا کہ کیا کسی سیاسی جماعت کا سربراہ پارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کر سکتا ہے یا نہیں؟ قانون کہتا ہے کہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی نے کرنا ہوتا ہے جبکہ سربراہ پالیسی سے منحرف ہونے پر ریفرنس بھیج سکتا ہے۔ اس سوال کیلئے فل کورٹ بنچ کی تشکیل نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم پنجاب میں وزیر اعلیٰ کا معاملہ جلد از جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو ہی کابینہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے 1998ء میں نگران کیبنٹ کو معطل کردیا تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ محض تاخیری حربے ہیں۔ ہم اس معاملے کو یوں طول نہیں دے سکتے۔ فل کورٹ کی تشکیل ستمبر کے دوسرے ہفتے تک ممکن نہیں ہے۔ ، دلائل میں فل کورٹ کا کہا گیا لیکن فل کورٹ کے نکتے پر قائل نہ ہوسکے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں مزید تاخیری حربے برداشت نہیں کریں گے۔ اس کیس کا فیصلہ نہ ہونے کے باعث ایک صوبے میں بحران ہے۔ اب اس کیس کے میرٹس پر دلائل سنیں گے۔ ہمیں اس معاملے پر معاونت درکار ہے۔ 18ویں ترمیم اس کیس سے مختلف ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے اٹھارہویں ترمیم میں آبزرویشن دی تھی کہ ووٹ پارٹی سربراہ کی ہدایات پر دیا جاتا ہے۔ غلط طور پر آئین کو سمجھنے کا مقصد ہے کہ آئین کو درست انداز میں نہیں سمجھا گیا۔ اگر کسی نے کچھ غلط سمجھا تو اسے درست کیا جا سکتا ہے
انہوں نے کہا کہ تشریح کے وقت سوال صرف منحرف ہونے کے نتائج کا تھا۔ ، آرٹیکل 63 اے کی تشریح میں کون ہدایت دے گا یہ سوال نہیں تھا۔ وکلا نے دلائل کے دوران اکیسویں ترمیم کیس کا حوالہ دیا گیا۔ اس ترمیم والے فیصلے میں آبزرویشن ہے کہ پارٹی سربراہ ووٹ دینے کی ہدایت کر سکتا ہے۔ کیا 17 میں سے آٹھ ججوں کی رائے کی سپریم کورٹ پابند ہو سکتی ہے؟ فل کورٹ بنچ کی اکثریت نے پارٹی سربراہ کے ہدایت دینے سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ عدالت کے سامنے آٹھ ججوں کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا۔ آرٹیکل 63 اے سے متعلقیہ فیصلہ اکثریتی نہیں ہے، ہاں اگر 9 رکنی فیصلہ ہوتا تو اکثریتی کہلاتا۔
میرا کام، میری عبادت: چیف جسٹس کے ریمارکس
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ میں اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں۔ عدالت کا بائیکاٹ کرنے والے تھوڑا دل بڑا کریں اور کارروائی سنیں۔ انہوں نے اتنی گریس دکھائی ہے کہ بیٹھ کر کارروائی سن رہے ہیں۔ انہوں نے بیرسٹر علی ظفر کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کی قانونی سوالوں پر معاونت کریں جبکہ دوسرا راستہ یہ بچتا ہے کہ ہم اس بنچ سے ہی الگ ہو جائیں۔
بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے تفصیل کیساتھ تمام وکلا کے دلائل کو سنا۔ یہاں معاملہ آرٹیکل 63 اے کی تشریح کا نہیں ہے۔ سپریم کورٹ تو پہلے ہی کی تشریح کر چکی ہے۔ 18ویں ترمیم میں پارٹی سربراہ کو منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔ یہاں معاملہ صرف پارٹی سربراہ کی ہدایت کا ہے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی سپریم کورٹ سے گزارشات
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ میں سپریم کورٹ کے سامنے کچھ عرض گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اس پر جسٹس منیب اختر نے ان سے پوچھا کہ کیا کہ کیا حکومت، حکمران اتحاد کے فیصلے سے الگ ہو گئی ہے؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آرٹیکل 27 اے کے تحت عدالت کی معاونت کروں گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب کو معاونت کی کھلی دعوت ہے۔ اس لئے کہ فیصلے میں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔
پارٹی سربراہ کی ہدایات بروقت آنی چاہیے: وکیل پی ٹی آئی



