چندریان 3 مشن جس کی چاند گاڑی اپنے روور سمیت آج شام کامیابی کیساتھ چاند کی سطح پر لینڈ

چندریان 3 مشن جس کی چاند گاڑی اپنے روور سمیت آج شام کامیابی کیساتھ چاند کی سطح پر لینڈ کر گیا ھے۔
تو کچھ معلومات ۔۔۔۔۔۔
چندریان 3 کے بارے میں ۔۔
– چندریان تھری مشن ایک خلائی جہاز، چاند گاڑی اور روور کے ساتھ 14 جولائی کو چاند کی جانب بھیجا گیا تھا۔
۔ چندریان تھری کا وزن 3900 کلوگرام تھا اور اس پر 6.1 ارب روپے لاگت آئی۔
۔ چندریان تھری میں موجود چاند گاڑی جس کا نام اسرو کے بانی کے نام وکرم سے منسوب کیا گیا تھا، کا وزن 1500 کلوگرام ہے اور اس میں موجود پرگیان نامی روور 26 کلو کا ہے۔ پرگیان سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی دانشمندی کے ہیں۔
۔ یہ انڈیا کا تیسرا مشن ہے جسے ملک کے پہلے چاند پر جانے کے مشن کے 13 سال بعد بھیجا گیا ہے۔ اس سے قبل 2008 میں چاند کی جانب ملک کا پہلا مشن بھیجا گیا تھا جس نے چاند کی سطح پر پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کو دریافت کیا تھا۔
اس سے قبل انڈیا نے چندریان ٹو نامی ایک مشن جولائی 2019 میں چاند کی جانب بھیجا تھا جس میں ایک آربیٹر، چاند گاڑی اور روور شامل تھا۔
اس مشن کو جزوی کامیابی مل سکی تھی کیونکہ اس مشن میں شامل آربیٹر آج بھی چاند کے مدار میں موجود ہے جو روزانہ کی بنیاد پر چاند کی جانچ کر رہا ہے مگر چاند کی سطح پر کامیابی سے اترنے کی کوشش میں اس کی چاند گاڑی اور روور اس وقت تباہ ہو گیا تھا۔
۔ چاند گاڑی وکرم کے چاند کے قطب جنوبی حصے پر اترنے کے بعد انڈیا دنیا کا وہ پہلا ملک بن گیا ھے جو چاند کے قطب جنوبی حصے پر اترا ھے۔ چاند کے اس حصے کے بارے میں اب تک سب سے کم معلومات اکٹھی کی جا سکی ہیں۔
۔ یوں انڈیا دراصل امریکہ، سابقہ سوویت یونین اور چین کے بعد چاند پر کامیابی سے اترنے والا چوتھا ملک بن گیا ھے۔
۔ چاند کی سطح پر کامیابی لینڈنگ کے بعد اس میں موجود چھ پہیوں والا روور چاند کی سطح پر چٹانوں اور گڑھوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے باہر نکلے گا اور چاند کی سطح پر چکر لگائے گا، وہاں سے اہم ڈیٹا اور تصاویر اکٹھی کرے گا جو تجزیے کے لیے زمین پر واپس بھیجی جائیں گی۔
۔ اسرو کے سربراہ سومناتھ کا کہنا ہے کہ ’چندریان تھری میں موجود روور پانچ آلات لے کر جا رہا ہے جو چاند کی سطح کی ظاہری خصوصیات، سطح کے قریب ماحول اور سطح کے نیچے کیا ہو رہا ہے اس کا مطالعہ کرنے کے لیے ٹیکٹونک سرگرمی کے بارے میں جاننے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ اور امید کر رہا ہوں کہ ہم کچھ نیا تلاش کریں۔‘
۔ چاند کا جنوبی قطب اب بھی بڑی حد تک غیر دریافت شدہ ہے۔ چاند کی سطح کا یہ حصہ سائے میں رہتا ہے۔ یہ حصہ چاند کے شمالی قطب سے کہیں زیادہ بڑا ہے، اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ ان علاقوں میں پانی کی موجودگی کا امکان ہے جو مستقل طور پر سائے میں رہتے ہیں۔
اگر چاند پر پانی کی موجودگی کے شواہد مل گئے تو پھر آنے والے وقت میں چاند ۔۔۔ دوسرے سیاروں پر جیسے مریخ وغیرہ پر جانے کیلئے ایک فیول اسٹیشن کے طور پر کام کرے گا۔



