پشاور:خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن اسپتال 13 سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکا

پشاور:خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن اسپتال 13 سال بعد بھی مکمل نہ ہوسکا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کے باعث منصوبہ طویل عرصے سے التوا کا شکار رہا، تاہم صورتحال کے پیش نظر صوبائی کابینہ نے اسپتال کے لیے 2 ارب 13 کروڑ روپے کی برج فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے۔
پشاور(نمائندہ فاطمہ جعفر) گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق پشاور کے سب سے بڑے خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن اسپتال کی تعمیر کو 13 سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال مکمل نہیں کیا جا سکا۔وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کے باعث منصوبہ طویل عرصے سے التوا کا شکار رہا، تاہم صورتحال کے پیش نظر صوبائی کابینہ نے اسپتال کے لیے 2 ارب 13 کروڑ روپے کی برج فنانسنگ کی منظوری دے دی ہے۔ذرائع کے مطابق خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن اسپتال منصوبے کے لیے موجودہ سال 40 کروڑ روپے مختص کیےگئے ہیں، پراجیکٹ ڈائریکٹر نےمنصوبےکی لاگت میں اضافے اور تاخیر سے بچنے کے لیے صوبائی حکومت سے فنڈز فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، منصوبہ13 سال قبل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کےتحت شروع ہوا تھا۔وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الزمان نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ وفاق کی جانب سے فنڈز میں تاخیر کے باعث صوبائی کابینہ نے برج فنانسنگ کی منظوری دی ہے۔ان کا کہنا تھا وفاق سے منصوبےکے لیے 2 ارب 13 کروڑ روپے ملنے پر واپس ایڈجسٹ کیے جائیں گے، وزیراعلٰی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔



