سندھ

پاکستان اور ترکیہ کا قلبی رشتہ ہے جس کا اظہار لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور ہماری محبت لفظوں

*پاکستان اور ترکیہ کا قلبی رشتہ ہے جس کا اظہار لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور ہماری محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہے۔قونصل جنرل ترکیہ جمال سانگو*

*زبان صرف افراد ہی نہیں بلکہ تہذیبوں اور قوموں کے مابین رابطے کا اہم ذریعہ ہوتی ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*

*کسی بھی ملک سے مختلف کاروباری اور تعلیمی مقاصد کے حصول کیلئے اس ملک کی زبان سے متعلق آگہی انتہائی ناگزیر ہوتی ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ترکیہ کے کراچی میں تعینات قونصل جنرل جمال سانگو نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ سمندروں سے گہرا اور کے ٹو سے اونچا ہے، پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، ہماری محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کا قلبی رشتہ ہے جس کا اظہار لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ترکی زبان کا شمار دنیا کی چند بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی مختلف جامعات اور انسٹی ٹیوٹ میں اُردو زبان پڑھائی جاتی ہے کیونکہ زبان ایک انسان کے دوسرے انسان سے رابطہ کا سب سے اہم ذریعہ ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ جامعہ کراچی میں ترکی زبان کے سرٹیفیکٹ کورسز مکمل کرنے والے طلبہ آج اپنے تاثرات کا اظہار ترکی زبان میں کررہے ہیں نہ صرف یہ بلکہ پوری تقریب میں نظامت کے فرائض بھی ترکی زبان میں انجام دیئے گئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی اور بالخصوص جامعہ کراچی کے طلبہ ترکی زبان میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ برائے ترکی زبان جامعہ کراچی کے زیر اہتمام آڈیو ویژول سینٹر جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار بعنوان:”اُردو ادب اور صحافت پر ترک تاریخ کے اثرات“ اور تقریب تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بدست شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی اور ترکیہ کے قونصل جنرل جمال سانگو ترکی زبان کے سرٹیفیکٹس کورس مکمل کرنے والے طلباء و طالبات میں اسناد تقسیم کئے گئے۔ جمال سانگو نے ترکیہ کی جانب سے پاکستانی طلباء و طلبات کو فراہم کئے جانے والے مختلف اسکالرشپس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کی مالی معاونت، ٹیوشن فیس، رہائش کے اخراجات اور ہیلتھ انشورنس کے علاوہ متعلقہ شعبہ میں کام کرنے اور دوران تعلیم ہر سطح پر تعلیمی، سماجی اور ثقافتی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے مختلف اسکالرشپس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ترک مذہبی امور فاؤنڈیشن اسکالرشپ کے تحت بھی کالجز اور جامعات کی سطح پر اسکالرشپ فراہم کئے جاتے ہیں جو صرف مذہبی علوم کیلئے فراہم کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ان اسکالرشپس سے استفادہ کریں اور اپنے ساتھ ساتھ دیگر طلبہ کو ان اسکالرشپس کے بارے میں بتائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ اس سے استفادہ کرسکیں۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ زبان صرف افراد ہی نہیں بلکہ تہذیبوں اور قوموں کے مابین رابطے کا اہم ذریعہ ہوتی ہے، زبان سیکھنا اور اس میں مہارت حاصل کرنا ایک بڑی کامیابی ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک کے سفر پر جانے کیلئے اس ملک کی زبان سے متعلق آگہی بے حد ضروری ہوتی ہے، اس ملک کے لوگوں سے ملنے اور انکی ثقافت کو سمجھنے کیلئے اس ملک میں بولی جانے والی مخصوص زبانوں پر عبور حاصل کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔ کسی بھی ملک سے مختلف کاروباری اور تعلیمی مقاصد کے حصول کیلئے اس ملک کی زبان سے متعلق آگہی انتہائی ناگزیر ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ زبان نہ صرف خیالات، جذبات اور معلومات کے تبادلے کا ذریعہ ہوتی ہے بلکہ یہ شناخت اور تعلقات کی بنیاد بھی فراہم کرتی ہے۔ کسی نئی زبان پر عبور حاصل کرنا ایک نہایت دلچسپ اور چیلنجنگ کام ہوتا ہے۔ انہوں نے سرٹیفیکٹ کورس مکمل کرنے والے طلباء و طالبات کو مبارکباد پیش کی اور یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ برائے ترکی زبان جامعہ کراچی کی فوکل پرسن پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس اور انکی ٹیم کی کاوشوں کوسراہا۔ شعبہ تاریخ اسلام جامعہ کراچی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد سہیل شفیق نے اپنا مقالہ بعنوان:”پاکستان میں ترکی زبان کی تدریس: تاریخی تناظر میں“پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی تاریخ، ثقافت، سیاست اور ادب میں بہت سی چیزیں مشترک ہونے کے باوجود ہم ایک دوسرے کی تاریخ ثقافت، سیاست اور ادب سے بڑی حد تک اجنبی رہے ہیں جسکا بنیادی سبب زبان ہے۔ اگرچہ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان کی مختلف جامعات میں کسی حد تک ترکی زبان کی تدریس کے سلسلے کا آغاز ہوگیا تھا۔ ہمیں اپنی تاریخ اور اسکا صحیح پس منظر سمجھنے کیلئے وسط ایشیاء کی تاریخ اور ترکوں کے پورے ثقافتی و سیاسی ڈھانچے کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور یہ سب کچھ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہم ترکی زبان میں دلچسپی لیں اور اس کا علم حاصل کریں۔ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ زبان پر عبورحاصل کرنا ایک مسلسل عمل ہے جس کیلئے وقت اور محنت دونوں ضروری ہوتے ہیں۔ انہوں نے سرٹیفیکٹ کورسز مکمل کرنے والوں کو مبارکباد دی اور اس کو آگے بڑھنا ایک ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکی تاریخ جاننے اور ثقافت سے ہم آہنگی کیلئے ترکی زبان پر عبور ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر رانا خالد محمود نے اپنا مقالہ بعنوان: ”بیسویں صدی کے اوائل میں اُردو صحافت پر ہم عصر ترک تاریخ کے اثرات“پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانوں کے درمیان باہمی ارتباط اور یگانگت کی راہ میں جو سب سے اہم فطری رکاؤٹ حائل رہی ہے شائد دو زبانوں کا فرق ہے اور اس فرق کو دور کرنے میں تاریخ اور صحافت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترکیہ اور برعظیم پاک وہند ہزاروں میل دور ہوتے ہوئے بھی ایک ڈور سے بندھے نظر آتے ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں صحافت کو وہ سہولیات میسرنہ تھیں جو آج عملاً نظر آرہی ہیں، آج کے دور میں صحافت جدید سہولیات سے مزین اور پلک جھپکنے سے پہلے خبریں دنیا کے طول و عرض تک پہنچ جاتی ہیں۔ وفاقی اُردو یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر نادیہ راحیل نے اپنا مقالہ بعنوان: ”ترکی ناولوں کے اُردو تراجم، ایک جائزہ“پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح زبانیں دوسری زبانوں کی آبیاری کرتی ہیں، اسی طرح زبانوں کا ادب دوسری زبانوں کے ادب کو پروان چڑھانے میں معاون کردار ادا کرتے ہیں۔
یونس ایمرے انسٹی ٹیوٹ برائے ترکی زبان جامعہ کراچی کی فوکل پرسن پروفیسر ڈاکٹر تنظیم الفردوس نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ترکی زبان کی اولیت کا سہرا جامعہ کراچی کو جاتا ہے۔

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You