پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش میں دو تہائی اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔امریکی

*پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش میں دو تہائی اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔امریکی پروفیسر ڈاکٹر حیدر اے خواجہ*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) البانی یونیورسٹی نیویارک امریکہ کے پروفیسر ڈاکٹر حیدر اے خواجہ نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس میں ماس ٹرانزٹ سسٹم نہیں ہے، پاکستان کی تینتیس فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے جہاں صاف ایندھن کی محدود دستیابی ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں سے دھوئیں کا اخراج فضائی آلودگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسی طرح صنعتی اخراج بھی اس میں مزید حصہ ڈالتا ہے۔ اس سب پر تحقیق کا نا ہونا اور موجودہ پالیسیوں پر عمل درآمد کا فقدان صورتحال کو مزید خراب کرتا ہے۔ لاہور میں اسموگ کے باعث بچے اسکول اور لوگ کام پر نہیں جاسکتے جس سے تعلیمی اور معاشی نقصان ہورہا ہے لہٰذا حکومت کو اس ضمن میں اقدامات کرنے چاہیں۔ ایشیائی ممالک میں خاص طور پر پاکستان انڈیا اور بنگلہ دیش میں دو تہائی اموات فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں، یہ ماحولیاتی نظام اور ماحول کی ہیئت کو بھی متاثر کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ کیمیاء جامعہ کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی سیمینار بعنوان:””فضائی آلودگی جس میں ہم سانس لیتے ہیں“سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی سطح پر ہمیں پلاسٹک پر انحصار کم کرنے اور کچرے کو ہر جگہ جلانے کی سرگرمیوں کو کم کرنا چاہیئے۔ نوجوانوں کو خاص طور پر فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے مضامین لکھنے کیساتھ ساتھ عملی اقدامات بھی کرنے چاہیئے۔ اس موقع پر صدر شعبہ کیمیا پروفیسر ڈاکٹر ریحانہ سعید نے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حیدر اے خواجہ کی بطور المنائی شعبہ کیمیا خدمات کو سراہا۔ سیمینار کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر ارم ظہیر نے مہمانان اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا جبکہ سیمینار کے نظامت کے فرائض ڈاکٹر ندا علی نے انجام دیئے۔




