وزیراعلیٰ سندھ، وزراء و ممبر ایوان سندھ اسمبلی کی بدنیتیاں

*وزیراعلیٰ سندھ، وزراء و ممبر ایوان سندھ اسمبلی کی بدنیتیاں*
مورثی وزیراعلیٰ کا منصب رکھنے والے سید مراد علی شاہ، سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، ممبر ایوان اسلمبلی سندھ ، اور چیف سیکریٹریز سمیت سندھ پولیس کے بدنیت افسران بالا نے کراچی، حیدرآباد، کوٹری، جامشورو، ٹنڈوالہ یار، سانگھڑ، میرپورخاص، نوابشاہ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپورمیرس اور سکھر شہروں کی بدحالی، بدبادی، لوٹ گھسوٹ، اقربہ پروری اور رہزنی و قتل غارت گری اور جرائم پر مکمل نہ صرف خاموشی بلکہ معاونت کرنا سندھ دھرتی کیساتھ بےوفائی، منافقت، دھوکہ دہی اور غداری کے مترادف عمل کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ سندھ حکومت کے وزراء بشمول وزیراعلیٰ اور میئر کراچی آج تک سوائے دعوے، بیانات اور جھوٹی پریس کانفرنس کے علاوہ مثبت معیاری اور فائدہ بخش کم لاگت کے کوئی ایک پروجیکٹ و پروگرام نہ مرتب کرسکے اور نہ ہی عملی طور پر پیش کرسکے۔ کرپشن اور لاقانونیت کا ایسا بازار گرم رکھا ھے کہ جہاں نہ انسانی جانوں کی قدر ھے اور نہ ہی عدل و انصاف کا عمل دکھائی دیتا ھے۔ سندھ دھرتی کو تباہ کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ یہ خود ہی ہیں۔ کراچی سمیت سندھ بھر کی ٹوٹی پھوٹی شاہراہیں اور سڑکیں انکی نااہلی بددیانتی اور ناکامی کا کھلا ثبوت ہیں، کراچی سمیت دیگر سندھ کے شہر حکومتی سیکیورٹی کمیروں سے محروم ہیں جبکہ کراچی میں بےلگام تیز دوڑتے ڈمپر، ٹرالر، ٹینکر اور کوسٹر انسانوں کو روندتے چلے آرھے ہیں۔ ان بھاری ٹریفک کے بےلگام ہونے سے آئے روز حادثات میں اموات قابل تشویش ہی نہیں بلکہ قابل مزمت بھی ہیں۔ کراچی بھر میں جابجا ٹریفک و عام پولیس کے ناکے تو نظر آتے ہیں مگر نظام کو درستگی کے بجائے صرف بھتہ وصولی کیلئے تعینات ہوتے ہیں۔ پولیس افسران کی بےجا لامحدود خواہشیں اور انکی تکمیل میں معاشرے میں پھیلتی بےچینی یہ سب کچھ کیا ھے؟؟ شہر کراچی میں داخلے پر کسی کیلئے کوئی چیکنگ اور ڈیٹا کلکشن نہیں، یہی وجہ ھے کہ کراچی میں عام لوگوں کی بھیڑ میں بین الصوبائی مجرموں کی آزادانہ آمد و رفت جاری رہتی ھے۔ یہ نظام خود ان سندھ حکومت اور ممبر سندھ اسمبلی کا پیدا کردہ ھے۔ نظام جمہوریت سے نکلو یا پھر اسی نظام کو صحیح و درست حالت میں لاؤ یہی ھے سندھ بلخصوص کراچی کی عوام کا پر زور مطالبہ ۔۔۔۔!!



