
نیپرا کو بجلی کی خریداری قیمیت میں 7 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست۔
آئی ایم ایف مشن اس وقت پاکستان کا دورہ کر رہا ہے اور 6 سے 8 بلین ڈالر کے قرض پروگرام کیلئے حکومتی عہدیداروں سے بات چیت کر رہا ہے۔
اسلام آباد(نمائندہ جاوید اقبال)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق حکومت نے نیپرا کو بجلی کی خریداری کی قیمت میں موجودہ 20.60 روپے فی یونٹ سے 27 روپے 11 پیسے فی یونٹ تک اضافے کی درخواست دائر کر دی ہے۔نیپرا آئی ایم ایف کے حکم کے مطابق یکم جولائی سے لاگو ہونے والے اگلے مالی سال کے لیے بنیادی ٹیرف کا تعین کرے گا۔
آئی ایم ایف مشن اس وقت پاکستان کا دورہ کر رہا ہے اور 6 سے 8 بلین ڈالر کے قرض پروگرام کے لیے حکومتی عہدیداروں سے بات چیت کر رہا ہے۔وزارت توانائی کے متعلقہ حکام نے کہا کہ مالی سال 2024-25 کے لیے بنیادی ٹیرف 29.78 روپے کے موجودہ بیس ٹیرف سے بڑھ کر 36.28 روپے فی یونٹ ہو سکتا ہے جو کہ 2022-23 میں 24.82 روپے فی یونٹ تھا۔ گھریلو صارفین کے لیے اوقاتِ کار کے دوران اختتامی صارف کا ٹیرف 42 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 48.51 روپے فی یونٹ ہو جائے گا۔سی پی پی اے کی پٹیشن کے مطابق، ڈسکوز کی جانب سے آئندہ مالی سال کے دوران 3.589 ٹریلین روپے کی لاگت سے 130.876 بلین بجلی کے یونٹس پی پی پی 27.11 روپے فی یونٹ اور 25.03 روپے کی PPP پر 3.3 ٹریلین روپے کی خریداری کا امکان ہے۔مالی سال 2024-25 کی ادائیگیوں میں بھی 2.278 ٹریلین روپے تک کا اضافہ متوقع ہے کیونکہ تین منصوبوں میں سے 1,002 میگاواٹ 2024 میں شامل ہو جائے گی۔ 870 میگاواٹ کا سکھی کناری ہائیڈرو پروجیکٹ 30 نومبر کو شروع ہو جائے گا۔100 میگاواٹ زورلو سولر پاور پراجیکٹ 11 اکتوبر 2024 کو سسٹم میں آئے گا، جبکہ 32 میگاواٹ شاہتاج شوگر مل لمیٹڈ 11 اگست 2024 کو کام کرے گی۔تاہم، موجودہ ادائیگیاں 1.9 ٹریلین روپے ہیں جو کہ بجلی کے صارفین ٹیرف میں ایک یونٹ میں 14.09 روپے ادا کرتے ہیں۔



