نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)اس وقت جب پاکستان سمیت سندھ بھر میں دریا کے پانی نے انتہائی

نوابشاہ (رپورٹ. انور عادل خانزادہ)اس وقت جب پاکستان سمیت سندھ بھر میں دریا کے پانی نے انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے اور سیلاب کی صورتحال پیش پیش نظر آ رہی ہے ایسی صورتحال میں ضلع شہید بے نظیر آباد جو کہ صدر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا آبائی ڈسٹرکٹ ہے اور جہاں سندھو دریا گزرتا ہے لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ تاحال سندھو دریا کے بندوں کی تعمیر ان کو مضبوط بنانے کے حوالے سے نہ ہی ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے کوئی عملی اقدام کیا ہے اور نہ ہی ڈسٹرکٹ انتظامیہ نے کسی قسم کی کوئی ایفرٹس لی ہیں ضلعے میں دریائی کچا مکمل طور زیر آب آنا شروع ہو گیا ہے اور متعد گاؤں اس وقت لوگوں کی بے بسی اور لاچاری کا منظر پیش کر رہے ہیں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ تمام ڈسٹرکٹ میں جہاں سے سندھو دریا گزرتا ہے وہاں ان کو کشتیاں دی جائیں گی اب تک یہاں ایک بھی کشتی نہیں فراہم کی گئی ناصری بیلو کے قریب جہاں سے گزشتہ روز بند کو شگاف پڑا تھا اور کئی کچے کے گاؤں زیر آب آگئے تہے لوگوں بیچاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت پیسے دے کر کشتیاں منگوائیں اور اپنے اہل و عیال کو بچا کر محفوظ مقامات تک پہنچایا ہے اس وقت بند کی صورتحال یہ ہے کہ جو اس کے حساس ترین پوائنٹس ہیں جیسے مڈ منگلی ، منگلی ، مڈ بنگلو ، چراڑو ، میکارو ، ڈھورو ، اور دیگر حساس پوائنٹس وہاں پر نئی مضبوط پچنگ کی گئی ہے نہ ہی وہاں پر کسی قسم کی کوئی کانوائی لگائی گئی ہے نہ ہی کوئی ایسا موثر قدم اٹھایا گیا ہے کہ خدانخواستہ اگر کسی وقت کوئی ناگزیر صورتحال سامنے آئے تو اس سے مقابلہ کیا جا سکے ایسی صورتحال میں صدر پاکستان اصف علی زرداری ، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ ، اور صوبائی وزراء جن کا بھی یہ آبائی شہر ہے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوھو ، ضیا الحسن لنجار حاجی علی حسن زرداری ان کو اپنے ڈسٹرکٹ اپنے لوگوں کو بچانے کے لیے اور بند کو مضبوط بنانے کے لیے نہ صرف خود ذاتی طور پر وزٹ کرنا چاہیے بلکہ فوری طور پر اقدامات اٹھانے چاہیے تاکہ ہزاروں لوگوں کی زندگیاں محفوظ ہو سکیں



