سندھ

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانز ادہ)دوڑ میں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام کے ڈویژنل ٹریسنگ

نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانز ادہ)دوڑ میں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام کے ڈویژنل ٹریسنگ پلان پر عائد کردہ اعتراضات ختم،پلان حتمی منظوری کے لئے ڈی جی پراپرٹی اینڈ لینڈلاہور کو ارسال،منصوبے کی منظوری کے بعداین او سی جاری کیجائے گی،تفصیلات کے مطابق پاکستان ریلویز اور عوامی مفاداور حکومت پاکستان کی کلین اینڈ گرین پالیسی کے مطابق ٹاؤن کمیٹی دوڑ پبلک پارک قائم کرنا چاہتی ہے،مگر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو پبلک پارک کے قیام اور دیکھ بھال کے لئے این او سی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل پراپرٹی اینڈ لینڈ پاکستان ریلویز ہیڈکوآرٹر لاہور کو 07/05/2025 کو تمام کاروائی مکمل کرکے ڈویژنل ٹریسنگ پلان برائے این او سی نمبرLL-136/DOUR/05/SUK ارسال کیاگیا،مگر29/05/2025کو پبلک پارک کے اس منصوبہ پرمتعلقہ ایجنسی(ٹاؤن کمیٹی دوڑ)کے مجاز آفیسر کے دستخط نہ ہونے کے سبب ریلوے ہیڈکوآرٹر لاہور سے یہ کیس واپس ڈپٹی ڈائریکٹر پراپرٹی اینڈ لینڈ سکھر کو ارسال کیا گیا۔جس پر تمام اعتراضات ختم کرکے کیس ریلوے ہیڈ کوآرٹر لاہور ارسال کردیا گیا ہے،اس سلسلے میں ریلوے ہیڈ کوآرٹر لاہور کے حکام کا کہنا ہے کہ کیس موصول ہوتے ہی حتمی منظوری کی کاروائی شروع کی جائے گی،بتایا جاتا ہے کہ اس مقام پر پبلک پارک کا قیام پاکستان ریلویز اور عوام کے مفاد میں ہے،پبلک پارک کے قیام سے نہ صرف ماحول میں بہتری اور خوبصوتی پیدا ہوگی،بلکہ ریلوے اراضی غیرقانی قبضے سے بھی محفوظ رہے گی،اس مقام پر اس وقت گندگی اور گندے پانی کا تالاب بنا ہوا ہے،برسات میں یہ علاقہ مکمل پانی میں ڈوب جاتا ہے،جسکے سبب ریلوے ٹریک بھی زیر آب آجاتا ہے،جسکی وجہ سے ریلوے ٹریک کو نقصان ہوتا ہے،تاکہ برساتی پانی سے ریلوے ٹریک اور ریلوے اسٹیشن محفوظ رہے،مگر اس کے باوجود پبلک پارک کے قیام کے لئے این او سی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے دوڑ شہر میں ریلوے اراضی پر پبلک پارک کے قیام کے لئے ٹاؤن کمیٹی دوڑ سے لیز چارجز طلب کئے گئے جبکہ پاکستان ریلویز سکھر کی جانب سے بھریا روڈ ریلوے اسٹیشن کے قریب پارک کے لئے این اوسی بغیر کسی لیز چارجز کے دی گئی،جبکہ دونوں ریلوے اسٹیشن پر صورتحال یکساں ہے، دوڑ ریلوے اسٹیشن کے نزدیک 1973 میں قائم کردہ شاہ لطیف پارک پہلے سے موجود ہے،جسکی وقت بہ وقت دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب یہ پارک تباہ حالی کا شکار ہوگیا،جسکی دیکھ بھال کے لئے ریلوے حکام سے رابطہ کیا گیاتو ریلوے حکام نے جواب دیا کہ پارک کی دیکھ بھال اور مرمت کی ذے داری ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی ہے،جس پر ٹاؤن کمیٹی دوڑ کی جانب سے 27/02/2023 کوایک لیٹر نمبرNo.TCD/Gen/(Admn)/170ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو ارسال کیا گیا جس میں اس پارک کی تعمیر و مرمت کے لئے بغیر کسی چارجز کے این او سی دینے کے لئے کہا گیا،جبکہ 04/07/2023کو ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ضلع شہید بینظیر آباد کی جانب سے بھی ڈویژنل سپرٹنڈنٹ پاکستان ریلویز سکھر کو لیٹر ارسال کیا گیا مگر دو سال گزرجانے کے باوجود عوامی مفاد اور ماحول کی بہتری کے اس منصوبہ کی این اوسی نہیں دی گئی۔ریلوے حکام کی جانب سے شاہ لطیف پارک کے مقام کو کمرشل ایریا میں آنے کے سبب ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو اس سے دستبردار ہونے اور دیگر مقام پر پبلک پارک کے لئے ریلوے اراضی ٹاؤن کمیٹی دوڑ کو دینے پر رضامندی ظاہر کی،اور ریلوے اسٹیشن کے نزدیک چھ ایکڑپر مشتمل اراضی پبلک پارک کے لئے مختص کی گئی۔پارک کی اراضی کے عوض پارک کے لئے اراضی دی جارہی ہے،جسکے لیز چارجزوصول کرنا سراسر ایک غلط عمل ہے،اور یہ ایک فلاحی اور ماحول دوست منصوبہ ہے،جسکی این اوسی دینے میں تاخیر کی جارہی ہے،چیئرمین ٹاؤن کمیٹی دوڑ چوہدری وسیم افضل راجپوت نے بتایا کہ شہریوں کو بہترین تفریح سہولت کی فراہمی اور ماحول کی بہتری کے لئے ٹاؤن کمیٹی پبلک پارک قائم کرنا چاہتی ہے،اور اسکے لئے لیز چارجز کی ادائیگی کے لئے بھی تیار ہیں،عوامی مفاد انکی اولین ترجیح ہے،این او سی موصول ہوتے ہی پارک کی تعمیر کا کام بڑے پیمانے پر شروع کیا جائے گا

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You