میں میجر تھا تو ایک دفعہ مردم شماری میں چھور کینٹ سے سانگھڑ ڈیوٹی لگ گٸی

*تکلیف دہ سوال*
میں میجر تھا تو ایک دفعہ مردم شماری میں چھور کینٹ سے سانگھڑ ڈیوٹی لگ گٸی ۔ نوابشاہ قریب تھا ۔ رشتہ داروں میں شادی پر میں دوپہر کو وردی اور سرکاری جیپ میں شادی کی تقریب میں جا پہنچا ۔ بی بی جی ملیں تو سخت ناراض ہوٸیں اور کہنے لگیں *پتر تو وردی اور جیپ دکھانے آیا ہے یا شادی میں شرکت کرنے*؟
پھر اگلے 25 سال تک وردی اور سرکاری جیپ میں نوابشاہ جانے کی ہمت نہ ہوٸی ۔
2012 میں ریٹاٸرمنٹ کے بعد کاروبار شروع کیا ۔ سرمایہ تھا نہیں ۔ علی بھاٸی نے کہا دو بیوہ عورتیں ہیں انکے پاس 5-7 لاکھ روپے ہیں وہ اپنے کاروبار میں لگا لو تمہارا کام چل پڑے تو انہیں بھی منافع دیتے جانا ۔ کاروبار چلنے لگا اور میں ہر ماہ انکو بھی منافع بھجوانے لگا ۔ 2016 میں یوناٸیٹڈ نیشن کی سپلاٸی کا ٹھیکہ ملا تو کروڑوں کی بچت ہوٸی ۔ علی بھاٸی کی رحلت ہوچکی تھی ۔ میں نے اپنی بیگم سے کہا اب پیسوں کی ضرورت نہیں رہی ۔ میں ان بیوہ عورتوں کی رقم واپس کردینا ہوں ۔ *بیگم نے کہا اور اگر تیرا یہ سارا کاروبار ہی ان عورتوں کی رقم کے صدقے چلتا ہوا تو بعد میں کیا کرو گے* ۔ بیگم کی بات سن کر بہت ڈر لگا ۔ دونوں عورتوں کو انکا منافع اب بھی بجھواتا ہوں۔
کورونا کی وبا پھیلی تو ہم نے ضروتمندوں کو مفت دواٸی دینی شروع کردی ۔ ایک عورت میرے آفس آٸی اور دس ہزار نکال کر کہنے لگے بھاٸی میری طرف سے بھی دواٸیاں دینے میں یہ ہدیہ شامل کرلیں ۔ میں نے کہا بی بی ہم ڈونیشن نہیں لیتے ۔ اللہ کا دیا بہت کچھ ہے ہم یہ سب خود ہی کرتے ہیں ۔ *کہنے لگی بہت خود غرض انسان ہیں آپ ۔ نیکیوں میں دوسروں کو شامل نہیں کرتے ۔ اللہ نے دینا بند کردیا تو اکیلے کیسے ضرورتمندوں کی مدد کروگے* ۔ میں اسکی بات سمجھ کر کانپ اٹھا اور اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر دس ہزار شکریے کے ساتھ وصول کرلیے اور اب کوٸی 100 روپے بھی ڈونیشن دے تو کٸی دفعہ شکریہ ادا کرکے وصول کرتا ہوں ۔
سندھ کی آراٸیں برادری نے مجھے اپنا سرپرست اعلیٰ بنا لیا تھا اور بہت تشہیر کی کہ برادری کیلیے اب بھلے کے کام بہتر طریقے سے ہونگے ۔ انہی دنوں سیلاب کی تباہ کاریوں نے پورا سندھ ڈبو دیا ۔ لاکھوں گاٶں تباہ ہو گٸے ۔ لوگ بے دربدر ہو گٸے ۔ کاروبار میں ہم پر اللہ کا بہت کرم تھا ۔ پھر بہن بھاٸیوں اور دوستوں نے برگیڈیربشیرفاٶنڈیشن کیلیے ڈھیروں فنڈز مہیا کردیے ۔ میں راشن ۔ بستر اور دواٸیوں کے ٹرک بھر کر اندرون سندھ نکلتا تھا ۔ ٹرکوں پر انجمن آراٸیاں اور بریگیڈیر بشیر فاٶنڈیشن کے بینر لگے ہوتے تھے ۔ ایک دن نوشہرہ فیروز کی ایک تباہ حال گوٹھ کے پاس سڑک پر پڑاٶ ڈالا ۔ یہ ہندوٶں اور بھیلوں کی آبادی تھی ۔ وہ آپس میں سندھی زبان میں باتیں کر رہے تھے کہ یہ بندہ شاید آراٸیوں کو راشن دینے آیا ہے میں نے سنا تو جیپ میں آ بیٹھا اور خوب رونا آیا کہ یا اللہ ایسا تو نہیں سوچتا میں کبھی ۔ پھر سب کچھ وہیں اس ہندو اور بھیل آبادی کے لیے سڑک پر اتار کر واپس آگیا ۔ *آراٸیں برادری کے سرپرست کے عہدے سے استعفیٰ دیکر دوبارہ بلاتفریق خلق خدا سے جڑ گیا کہ کسی کو اپنی ضرورت بتانے میں ججھک نہ رہے* ۔ دوبارہ سیلاب زدہ علاقوں میں برگیڈیربشیرفاٶنڈیشن کے بینر تلے اپنی بیگم کو ساتھ لیکر امدادی کام کرتا رہا تاکہ زات پات کا کوٸی عنصر نظر نہ آٸے ۔
آجکل میرے دفتر کے ارد گرد آرمڈ فورسز کی تنظیم *پاکستان ایکس سروس مین سوساٸٹی* کے جھنڈوں اور بینرز کی بہار ہے کیونکہ میں اسکی صدارت کا الیکشن لڑ رہا ہوں ۔ کچھ بچے اپنی اسکول فیس اور بیوہ عورتیں ہر ماہ میرے آفس آتے ہیں ۔ اتوار کے دن بھی دفتر کھول لیتا ہوں ۔ کل دو بچیوں نے فیس کا لفافہ لیکر پوچھا *انکل اگر آپ فوجیوں کے صدر بن گٸے تو کیا پھر صرف انکے بچوں کیلیے کام کریں گے؟ کیا ہماری اسکول فیس اور راشن بند ہو جاٸیگا*؟
کیا آپ اپنی فاٶنڈیشن بند کردیں گے؟
*میں ساری رات سو نہیں سکا*
دل چاہتا ہے اپنے دفتر کے ارد گرد سارے بینر اتار کر جلا دوں
سوچ رہا ہوں کیا آراٸیوں کا سرپرست یا پیس سندھ کا صدر بن کر میں خلق خدا سے دور ہو رہا ہوں؟ ۔
*بچیوں کا سوال بہت تکلیف دے رہا ہے* ۔
*بریگیڈیربشیرآرائیں*



