
خصوصی رپورٹ (کاشف شمیم صدیقی): نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کی ایک مہم کے تحت، کراچی کی ملیر جیل سے بھارتی ماہی گیروں کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے۔ جذبہ خیر سگالی کے اس عمل کو نہ صرف پاکستان بلکہ سرحد کے اُس پار بھی سرا ہا جا رہا ہے۔ لوگ اپنے،اپنے انداز میں رہائی پانے والے مچھیروں کے احساسات اور اُن کے جذبات کو بیان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شاعرہ صفیہ لاکھو کی جانب سے بھی کچھ ایسی ہی کاوش کی گئی ہے، صفیہ نے مچھیروں کے احساسات کو خوبصورت اشعار میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے، دل کو چھُو لینے والی شاعری ماہی گیروں کی سوچ کی عکاس ہے، صفیہ کے کلام کوخوب سراہا جارہا ہے۔

دوسری جانب ایڈوکیٹ حبیب جسکانی (جو شاعرہ صفیہ لاکھو کے جیون ساتھی بھی ہیں) انہوں نے بھی اپنے جذبات کو قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے۔ حبیب نے حَسین انداز میں ایک سادہ سے کاغذ پراحساسات کی رنگینیوں کو بکھیرا ہے۔ ماہی گیروں کے حوالے سے لکھی جانے والی تحریر میں حبیب کہتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ کمیٹی فار دی ویلفیئر آف پرزنرز(سی ڈبلیو پی) جسٹس ناصر اسلم زاہد اور ڈاکٹر فرحت کی جانب سے بویا گیا ایسا ” بیج ” تھا جو اب ایک تناور، گھنا درخت بن چکا ہے، اور اس درخت کی چھاؤں میں مجھے انڈین قیدی بھی نظر آتے ہیں ”
p
صفیہ اور حبیب موجودہ وقت میں سی ڈبلیو پی اور لیگل ایڈ سوسائٹی سے وابستہ ہیں، بھارتی ماہی گیروں کی رہائی میں سی ڈبلیو پی کا نمایاں کردار ہے۔



