پنجاب

ملک اور قوم کیلئے قربانی!

ملک اور قوم کیلئے قربانی!

انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود مسلمان اسلامی سال ذی الحجہ کی دس تاریخ کو عید الاضحی مناتے ہیں، الاضحی اوراضحیہ عربی زبان میں قربانی یعنی جانور ذبح کرنے کو کہتے ہیں،مسلمان یہ دن حضرت ابراہیم ؑکی حضرت اسماعیل ؑ کو قربانی کیلئے پیش کرنے کی یاد کو سنت ابراہیمی کے طور پر مناتے ہیں، قربانی بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور تقرب سے نکلا ہے، یعنی وہ عمل جس کے ذریعے کسی عظیم ذات و ہستی کا تقرب حاصل کرنے کی سعی کی جائے۔پاکستانی قوم جہاں عید قرباں کی تیاریوں میں مصروف ہے وہاں وفاقی و صوبائی حکومتیں بجٹ کی تیاریوں میں لگی ہوئی ہیں کیونکہ نئے مالی سال کا آغاز ہوچکا ہے اورملکی تاریخ میں جون کا مہینہ انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ قوم کو اسی مہینے میں سالانہ بجٹ کا شدت کے ساتھ انتظار ہوتا ہے اور وہ پُر امید ہوتے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کچھ ریلیف ملے گا مگر ہر بار ہوتاان کی امیدوں کے برعکس ہے۔ موجودہ بجٹ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوتا ہوا نظر آرہا ہے جو کہ ابھی پیش نہیں ہوا مگر اتحاد ی حکومت سے کچھ اچھے امید نہیں ہے اس کی بنیادی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ زکا دباؤ سمیت ملک پر بڑھتا ہوا قرضوں کا بوجھ ہے جس سے لگ یہی رہا ہے کہ اب کی بار بھی عوام کو ریلیف کے نام بیوقوف بنایا جائے گا۔ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے مقامی قرضوں میں 4 ہزار 622 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے۔مارچ تک مقامی قرض بڑھ کر 43 ہزار 432 ارب روپے ہو گیا ہے، ملک پر قرضوں کا بوجھ ساڑھے 6 فیصد بڑھ کر 61 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا، رواں مالی سال کے آغاز پر پاکستان پر مقامی قرضوں کا حجم 38 ہزار 809 ارب روپے تھا۔رواں مالی سال بیرونی قرضے 89 ارب روپے کم ہوکر 21ہزار 941 ارب روپے ہو گئے، حکومت کے ذمے بیرونی واجبات 6 فیصد بڑھ کر 3ہزار 284 ارب روپے پر پہنچ گئے ہیں جبکہ آئی ایم ایف ڈیل سے مقامی و بیرونی قرضوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ سونے پر سہاگہ تویہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف 110رکنی تجارتی وفد کے ہمراہ اس وقت 5دنوں کے دورہ چین پر ہیں کوئی ان سے پوچھے کہ اتنا بڑا وفد لے جانے کی کیا ضرورت تھی ایک طرف ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے تو دوسری جانب حکمران طبقہ کے شاہانہ اخراجات کم ہونے کی بجائے بڑھتے جارہیں جبکہ حقیقت تویہ ہے کہ ہر دور میں چائنہ نے پاکستان سے پہلے ذاتی مفادات کو ترجیح دی ہے،وزیر اعظم صاحب یہ بات ذہن نشین کرلیں پاکستان کی ترقی کار استہ بیجنگ سے ہوکر نہیں آئے گا بلکہ اس کیلئے خود محنت اور کفایت شعاری کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا ورنہ ملکی حالات ٹھیک ہونے کی بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلسل خراب ہوتے جائیں گے۔
پاکستان کو اس وقت جہاں شدید معاشی مسائل کا سامنا ہے وہاں سیاسی عدم استحکام ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہوتا جارہا ہے، ملک میں پہلی دفعہ پاک افواج کی تنصیبات پر حملے ہو چکے ہیں،جو کام نو مئی سے آج تک متنازعہ چلے آرہے ہیں کہ پی ڈی ایم اور پاک افواج کے مقتدروں کا الگ دعویٰ ہے اور پی ٹی آئی والے الگ موقف پیش کرتے ہیں،اسی طرح پاکستان کے قیام کیلئے دی گئی قربانیوں کو پس پشت ڈالا گیا ہے جس کے نتیجے میں گزشتہ 75 برس سے مارشل لاء اور اشرافیہ کے درمیان ملک رلتا رہا ہے، پاکستانی اشرافیہ ملکی وسائل کا بری طرح استحصال کرتے ہوئے نہ صرف اپنی بھری ہوئی تجوریوں کو مزید بھرنے میں لگی ہوئی ہے بلکہ اب نوبت رشتہ داروں اور من پسندوں افراد کو نوازانے کی حد تکب بھی بڑھ چکی ہے جس سے جہاں ملکی خزانے پر دباؤ بڑھ رہا ہے وہاں عوام کو مہنگائی میں مزید اضافے کی صورت میں بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے اس پر ستم ظریفی تویہ ہے کہ حکمران طبقہ ان مشکل حالات سے قوم کو نکالنے کی بجائے ذاتی مفادات کی تکمیل میں مگن ہے انہیں قوم کو درپیش مسائل و پریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ حکومت و اپوزیشن سمیت ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کو ملک و قوم کیلئے اپنی خواہشات اور شاہانہ اخراجات کی قربانی دیتے ہوئے آپس کے فرضی اختلا فات کو بھلا کر ملکی ترقی اور قومی خوشحالی کیلئے ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا اگر وہ اسی طرح انا پرستی اور میں نہ مانو کے ہٹ دھرمی میں مبتلا رہے تو ملکی حالات مزید خراب اور کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گے،اس سے پہلے کہ یہ ہو سب کو اپنے اپنے حصے کی قربانی دینی ہوگی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You