سندھ

*مقروض ملک میں شاہ خرچیاں*

*مقروض ملک میں شاہ خرچیاں*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

پاکستان دنیا کا واحد ملک ھے جو مکمل مقروض کی حالت میں ھے اور اسکے پہاڑوں سے بلند قرض عوام اٹھا رھے ہیں اسلام آباد سمیت بلوچستان سندھ خیبر پختونخوا گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت پنجاب حکومت کے سول بیوروکریٹس، جسٹس و ججز، پالیمینٹیرین اور عسکری بیوروکریٹس کی شاہانہ مراعات پر نظر ٹہرتی نہیں بلکہ چندیا جاتی ہیں، دوسری جانب مڈل کلاس عوام کو ایک نوالہ نصیب نہیں، علم و فنون اور علاج پر قفل، عزت نفس ہوگئے پارہ پارہ، ظلم کی آہنی چکی اور زندگی ملیامیٹ، ایمان و یقین اور دین کے کردیئے بخیئے تو کہاں جائیں یہ عوام کہ صبر و ضبط کا لے رھے ہیں یہ مستقل امتحان، یہ دنیا اور یہ ملک ان کیلئے جنت سے کم نہیں۔ یاد رکھئے یہ ایک نمونہ پیش کیا جارھا ھے جبکہ کئی نادر نمونے ہر صوبے اور وفاق کی تو کیا بات۔۔ اے میری سوتی ہوئی مردار قوم کچھ لمحہ بیدار ھوکر ذرا سوچیں توجہ فرمائیں، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو اب تنخواہ، الائونس، یوٹیلیٹی بلز کی صورت میں گیارہ لاکھ نوے ہزار روپے کی بجائے ملیں گے بتیس لاکھ روپے، تنخواہ تین لاکھ سے بڑھا کر بارہ لاکھ، الائونس سات لاکھ سے بڑھا کر سولہ لاکھ، ہاؤس رینٹ ڈیڑھ لاکھ روپے سے تین لاکھ روپے، یوٹیلیٹی بلز کیلئے چالیس ہزار کی بجائے ایک لاکھ روپے، ماہانہ آٹھ سو لیٹر پیٹرول کے ساتھ اٹھارہ سو سی سی دو گاڑیاں، دس ہزار روپے موبائل کے بل کیلئے اور بزنس کلاس کی منظوری دے دی گئی، فائیو سٹار ہوٹل میں قیام، آٹھ ہزار روپے ڈیلی الائونس، گھر اور دفتر کے ٹیلی فون کا بل لامتناہی ہونے کی بھی منظوری دے دی گئی۔ اب آپ ہی بتاؤ ایسے افسران شریفوں کے وفادار بنیں گے یا ملک و قوم کے؟؟ یہ تو اس مقروض ملک کی معمولی جھلک ھے، افواج پاکستان خود کو شہید کہلانے والے ذرا قرآن و احادیث کا مطالعہ کریں کہ ایسے حالات پر انکی کیا ذمہداری عائد ہوتی ہیں چوکیدار کے سامنے لٹیرے ڈاکو رہزن قاتل پر قانون کو توڑ موروڑ رھے ہیں اور کمزور عوام جینے کیلئے دھائیاں التجا گریہ زاری کر رہی ہیں اور ظلم تو یہ کہ انہیں مظلوم ستم کے مارے عوام پر مہنگائی اور ٹیکس کے کوڑے برسائے جارھے ہیں۔ کیا صاحب اختیار صاحب ریاست میں ذرہ برابر شرم و حیا بھی باقی نہیں رھی یاد رکھئے ایک دن قبر میں اترنا ھے سارے تمغے اعزازات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اعمال صالح اور نیکی ہی دوزخ سے بچاسکے گی اور اللہ کے غضب کو ختم کرسکے گی۔ تم حکمران کس حد تک ظلم کرسکتے ہوں تمہارے ظلم ایک کڑور واں چھوٹا حصہ جہنم کا برداشت نہیں کرسکو گے ابھی بھی وقت ھے باز آجاؤ وگرنہ اللہ کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You