معاشرہ کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے؟

معاشرہ کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے؟
تحریر۔۔۔۔ بشریٰ جبیں
کالم نگار تجزیہ کار
اینکر پرسن
بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اب معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے دکھ درد کی وجہ بن رہے ہیں۔
معاشرہ جس سے مراد لوگوں کا ایسا گروہ جو زندگی کے مراحل میں ایک دوسرے کے تابع ہوکر گزارتے ہیں۔جس طرح ایک ملک اکیلا نہیں چل سکتا اسے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے اسی طرح انسانی زندگی کا کوئی بھی گھرانہ دوسرے گھرانے کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا ان کا ایک دوسرے کے ساتھ اچھے تعلقات کا ہونا ضروری ہے تاکہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہوں۔
آج ہم صرف اپنی ذات کا سوچتے ہیں ہمیں نہیں فکر کہ دوسرا کس حال میں زندگی بسر کر رہا ہے۔آپس میں سڑکوں پر مسلمان چھوٹی سی نوک جھوک پر دست وگریباں نظر آتے ہیں صبر، تحمل، محبت ،خلوص،پیار یہ سب مسلمانوں کی صفات کہاں چلی گئی؟استاد یہ رونا رورہے ہیں کہ طالبعلم ان کی عزت نہیں کرتے ، جبکہ طالبعلم یہ کہتے ہیں کہ استاد ہمیں نہیں پڑھا رہے ۔اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ طالبعلموں نے اپنا استاد لیپ ٹاپ،موبائل فون اور انٹرنیٹ کو مان لیا ہے۔استاد پڑھائے یا نہ پڑھائے وہ فورا نیٹ کا سہارا لیکر اپنا سبق مکمل کرلیتے ہیں۔
اسطرح استاد کی غیر موجودگی طالبعلموں کے دلوں سے استاد کی اہمیت ختم کر رہی ہے ظاہر سی بات ہے جب سب چیزیں انڑنیٹ پر آجائیں تو استاد کی قدر کہاں رہ جائے گی۔جب انسان کا پیٹ بھر جائے تو دوبارہ اس وقت تک نہیں کھائے گا جب تک اسے بھوک نہ لگے اور یہاں یہ بھوک انڑنیٹ چوبیس گھنٹے پورا کررہی ہےلیکن اس با ت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ آج استاد کی عزت طالبعلموں کی نظر میں کم ہورہی ہے رہی بات معاشرے میں لوگوں کے درمیان دوری کی تو اس کی وجہ بھی موبائل فون،لیپ ٹاپ،انڑنیٹ اور دیگر برقی آلات ہیں ،ان تمام تر ٹیکنولوجی کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اسی کا استعمال ہے کہ آج ہم بہت دور جاچکے ہیں ۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ لوگوں کے گھر موبائل فون نہیں ہوتے تھے تو لوگ ایک دوسرے کے گھر آتے جاتے، محفل جمائے جاتے ایک دوسرےکوآپس میں قصے کہانیاں سناتے،آپس میں اپنا دکھ درد بانٹتے تھے۔لیکن اب موبائل آنے کے بعد یہ ہوا کہ لوگ موبائل کی جانب مائل ہونا شروع ہوگئے ۔اب کوئی ایسی محفلیں نہیں سجتیں جو پہلے سجا کرتی تھی۔اب اگر کسی محفل میں بھی چلے جائیں تو وہاں بھی لوگ ایک دوسرے سے کم موبائل سے زیادہ باتیں کر رہے ہوتے ہیں ،ان کی نظریں موبائل فون پر ہی جمی ہوتی ہیں ۔سائنسی تحقیق کے مطابق موبائل فون کا زیادہ استعمال آنکھوں کی بینائی متاثر کر سکتا ہے ساتھ ہی آپ سر درد اور متعدد بیماریوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔بچے پیداہوتے کچھ سیکھے نہ سیکھے موبائل چلانا ضرور سیکھ جاتے ہیں اور اگر وہ روئے دھوئے تو ہم خود اسے موبائل فون تھما دیتے ہیں تا کہ وہ چپ ہوجائے یہی وہ بری عادتیں ہیں جو آگے چل کر بچوں کو خراب کرتی ہیں۔نازک سابچہ جس کی آنکھیں بھی نازک ہوتی ہیں اس پر پڑنے والی موبائل فون کی روشنی خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں حقیقت ہے کہ جیسا آپ بوتے ہیں وہی کاٹیں گے اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنی آنے والی نسل کو بچائیں تو ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی ،موبائل،لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ کی اجازت دیں لیکن نظر رکھیں اور ایک مقرر وقت طے کریں اس دوران وہ اس کا استعمال کریں نہ کہ فضول قسم کی چیٹنگ میں اپنا قیمتی وقت ضائع کریں۔۔۔۔۔
اللہ پاک ہم سب کا حامی وناصر ہو
آمین


