مسابقت کے اس دور میں ٹیکنالوجی کو اپنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ڈیجیٹل


*مسابقت کے اس دور میں ٹیکنالوجی کو اپنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال نہ صرف کارکردگی بلکہ پائیداری اور جامع ترقی کیلئے ہو۔ قونصل جنرل ترکیہ جمال سانگو*
*ڈیجیٹلائزیشن ایک ایسا حل پیش کرتا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے اداروں کو زیادہ منظم، مؤثر اور نتیجہ خیز بناسکتے ہیں۔وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
*اگر ہم ٹیکنالوجی کو انسانیت اور قدرتی ماحول کے فائدے کیلئے استعمال کریں تو یہی اصل کامیابی ہوگی۔ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) ترکیہ کے کراچی میں تعینات قونصل جنرل جمال سانگو نے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کاروباروں، حکومتوں اور تعلیمی اداروں کے کام کرنے کے طریقے کو ازسرنو متعارف کررہی ہے۔ اسمارٹ فیصلہ سازی، آٹومیشن اور ڈیٹا پر مبنی بصیرت اب مستقبل کے تصورات نہیں بلکہ جدید انتظام کی بنیاد ہیں۔ مسابقت کے اس دور میں کاروباری رہنماؤں کو ٹیکنالوجی کو اپنانے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال نہ صرف کارکردگی بلکہ پائیداری اور جامع ترقی کیلئے ہو۔ ترکیہ کے صدارتی سرمایہ کاری کے دفتر نے ایک مضبوط ڈیجیٹل معیشت کی تعمیر کیلئے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، تکنیکی منصوبوں، اور علمی تحقیق کیلئے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ترکی اور پاکستان ٹیکنالوجی اور تعلیم کو آگے بڑھانے کیلئے مشترکہ وژن رکھتے ہیں، اور اسٹریٹجک تعاون کے ذریعے ہی ہم ان مواقع کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیکلٹی آف مینجمنٹ اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز جامعہ کراچی کے زیر اہتمام منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:”نظم و نسق میں ڈیجیٹل تبدیلی – عالمی تناظر میں پائیدار پریکٹسز کی طرف آگے بڑھنے کا راستہ“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب کا اہتمام ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی میں کیا گیا تھا۔ جمال سانگو نے مزید کہا کہ ترک اسکالرشپس پروگرام جو ترکیہ کی حکومت کے تعاون سے ہے، سندھ اور بلوچستان کے طلباء کو ترکی کی معروف یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ اور کاروباری تجزیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیجیٹل تبدیلی کو بروئے کار لانے، معاشی ترقی کو آگے بڑھانے اور مستقبل کی تعمیر کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن سے پوری طرح متاثر ہے۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیجیٹل ترقی نے ہمارے کام کرنے کے طریقے، بات چیت کے ذرائع، اور انتظامی نظاموں کو یکسر تبدیل کردیا ہے۔ وقت کے ساتھ، انتظامی امور میں کارکردگی اور شفافیت کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈیجیٹلائزیشن ایک ایسا حل پیش کرتا ہے جس کے ذریعے ہم اپنے اداروں کو زیادہ منظم، مؤثر اور نتیجہ خیز بناسکتے ہیں۔ ایک وائس چانسلر کی حیثیت سے، میں نے ذاتی طور پر مشاہدہ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کس طرح ہماری روزمرہ کے فیصلوں اور مواصلاتی عمل کو آسان بناتی ہے۔ آج، ہم اپنے موبائل فونز اور ڈیجیٹل ذرائع، جیسے واٹس ایپ، کے ذریعے فوری اور براہ راست ہدایات جاری کرتے ہیں۔ یہ جدید ٹولز نہ صرف وقت کی بچت کرتے ہیں بلکہ ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کو بھی یقینی بناتے ہیں۔ یہی وہ رجحان ہے جسے ہم اپنے تعلیمی اور انتظامی ڈھانچے میں مزید بہتر بناسکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ یہ کانفرنس اس اہم موضوع پر روشنی ڈالے گی کہ ڈیجیٹلائزیشن نے کارکردگی، وقت اور مؤثر انتظام پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس علمی مکالمے سے ہمارے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ بھرپور استفادہ کریں گے۔ اس طرح کے پلیٹ فارمز نہ صرف ان کے علم میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ انہیں تحقیق کے نئے زاویے دریافت کرنے کا مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ وفاقی اُردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے کہا کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روایتی تدریسی طریقے اب مؤثر نہیں رہے۔ تعلیم کا مقصد صرف کتابی علم دینا نہیں، بلکہ طلبہ میں تحقیق، تنقیدی سوچ، اور خود سیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی کلاس رومز کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں کلاس میں آتا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ میرے طلبہ خود تحقیق کریں، اپنی رائے قائم کریں، اور ایک دوسرے کو سکھائیں۔ اگر میں ایک پریزنٹیشن تین ہفتے پہلے تیار کرچکا ہوں، تو ممکن ہے کہ وہ اب پرانی ہوچکی ہو۔ ہر روز نئی معلومات سامنے آتی ہیں، تحقیق آگے بڑھتی ہے اور ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے۔تعلیم صرف سننے کا عمل نہیں، بلکہ سیکھنے اور سکھانے کا ایک زندہ عمل ہے۔ ہمارا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان وسائل کا دانشمندانہ استعمال کریں۔ ڈیجیٹل ترقی کے اس دور میں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سائنسی ترقی کیساتھ ساتھ ہمیں ماحولیاتی توازن کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ ہم اسے ”ذمہ دار سائنسی رویہ” کہتے ہیں۔ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری نے مزید کہا کہ اگر ہم ٹیکنالوجی کو انسانیت اور قدرتی ماحول کے فائدے کیلئے استعمال کریں تو یہی اصل کامیابی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک روشن اور پائیدار مستقبل کی طرف لے جائے گا، جہاں تعلیم محض یاد کرنے کا عمل نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور عملی تجربہ ہوگا، اور جہاں ترقی صرف معاشی ترقی نہیں بلکہ انسانی اور ماحولیاتی بہتری کی علامت ہوگی۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں امریکی جامعہ کی اسسٹنٹ پروفیسر گلِ ٹالٹیکن گوزل نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان: ”سوشل میڈیا کے انفلوئنسرز کنزیومر کے رویے کو کیسے متاثر کرتے ہیں“پیش کیا جبکہ ملائشین یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مستورہ نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان:”ڈیجیٹلائزیشن اقتصادی ترقی کو کیسے متاثر کرتی ہے“ پیش کیا۔ فیکلٹی آف انجینئرنگ ٹیکنالوجی اوپن یونیورسٹی آف سری لنکا ڈاکٹر انجینئر ہمالی ایکا نائیکے نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان:”پائیدار پروجیکٹ مینجمنٹ اور بہتر پروجیکٹ کی کامیابی کے لئے ڈیجیٹل تبدیلی“پیش کیا۔قاہرہ مصر کی فائنانس ڈویژن کی ڈاکٹر ہند رفعت اسماعیل نے اپنا تحقیقی مقالہ بعنوان:”اعلیٰ تعلیم میں ڈیجیٹل تبدیلی:چیلنجز اور مواقع“ پیش کیا۔




