مرکزی مسلم لیگ کے اسٹریٹ کرائم کے خلاف درجنوں مقامات پر احتجاجی مظاہرے

مرکزی مسلم لیگ کے اسٹریٹ کرائم کے خلاف درجنوں مقامات پر احتجاجی مظاہرے۔
کراچی : (اسٹاف رپورٹ)




پاکستان مرکزی مسلم کراچی کےتحت شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائم کےخلاف درجنوں مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔احتجاجی مظاہرےگلشن اقبال،نیوکراچی،ملیر،گلبرگ،لیاقت آباد،ماڈل کالونی،ناظم آباد ، نارتھ ناظم آباد،صفورہ،کلفٹن،کورنگی،لانڈھی،شاہ فیصل ،کیماڑی،ابراہیم حیدری،لیاری ،صدرٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں کیے گئے ۔احتجاجی مظاہروں میں شہریوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی ۔شرکاء نے ’’پلے کارڈز اور بینرز‘‘ اٹھا رکھے تھے ۔جن پر،کراچی کو موت نہیں اس کا حق دو،پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی قاتلوں کے نرغے میں کیوں، حکمرانو ۔۔ کراچی کی سڑکوں پر بہتے خون ناحق کا جواب دو، کراچی کے نوجوان کا مقدر روزگار کے بجائے گولی کیوں ؟حکمرانو کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی بند کرو،جیسے نعرے درج تھے۔مظاہرین نے حکومت اورامن امان برقرار رکھنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی کے خلاف شدید نعرہ بازی کی اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ آئے روز ڈکیت عوام کی جان ومال سے کھیل رہے ہیں ۔کراچی میں کوئی گھرانہ ایسا نہیں جو رہزنوں کے ظلم کا شکار نہ ہوا ہو۔حکمران آپس کی لڑائیوں ،سیاسی مفادات اور انتقامی کاروائیوں سے نکل کر عوام کو ڈاکوؤں سے تحفظ فراہم کریں ۔مظاہروں سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدراحمدندیم اعوان ، رہنماامجداسلام ،انجینئر نعمان علی و علاقائی ذمہ داران نے گفتگو کی ۔مظاہروں سے خطاب کرتے ہو ئےمقررین کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی نااہلی نے کراچی کو جرائم کا گڑھ بنا دیا ہے۔شہر میں چوری ڈکیتی اور رہزنی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں پولیس کی نااہلی اور ناکامی کی علامت ہے۔ عوام کے جان و مال کو کوئی تحفظ نہیں ۔ تمام اداروں کی موجودگی میں جرائم پیشہ عناصر دیدہ دلیری سے اپنی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔آئی جی سندھ کہتے ہیں کہ 354ایسے کباڑیے ہیں جہاں چوری کے سامان کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ جرائم کے اڈوں کا علم رکھنے کے باوجود کیوں اقدامات نہیں کیے جاتے۔پولیس سب کچھ جانتے ہوئے بھی جرائم کے اڈوں کو کیوں ختم نہیں کرتی؟بظاہر تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ پولیس میں کالی بھیڑوں کی ساز باز کے بغیر جرائم ہوں۔ پولیس میں اچھے افراد بھی موجود ہیں۔ لیکن کالی بھیڑیں کی وجہ سے وارداتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جس علاقے میں قتل ہو اس علاقے کے تھانے دارکو اس کا ذمہ دار قراردیا جائے۔اس علاقے میں جرائم کی شرح کم بھی ہوگی اور مجرم بھی قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں گے۔مقررین کا کہنا تھا کہ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ کراچی جو کہ پاکستان کا معاشی حب ہے۔ اسے مکمل طور پر ڈاکووں اور رہزنوں کے حوالے کر دیا ہے۔ کراچی کے نوجوانوں کو موت نہیں بلکہ ان کا حق دیں، آخر کارپاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی قاتلوں کے نرغے میں کب تک رہے گا؟کب تک کراچی کی سڑکوں پر شہریوں کا ناحق خون بہتا رہے گا؟ حکمرانوں کو اپنی اور فیملی کی جان و مال کا تحفظ کا خیال تو ہے۔ لیکن کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کا کوئی خیال نہیں ۔ کراچی کے عوام کوتحفظ فراہم کیا جائے۔ مرکزی مسلم لیگ عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر نکلی ہے۔ہم آئینی، جمہوری اور قانونی جدوجہد سے عوام کو تحفظ دلائیں گے۔مرکزی مسلم لیگ کراچی کے عوام کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔اگر اب بھی حکمرانوں نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کےلیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو مرکزی مسلم لیگ جلد اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی ۔مرکزی مسلم لیگ کی کراچی میں امن امان کی فضاء قائم ہونے تک یہ احتجاجی مہم جاری رہے گی۔



