محض زندگی گزاردینا کوئی دانش مندی نہیں ہے بلکہ دانش مندی یہ ہے کہ مقصدِ حیات کو پا کر اس کے مطابق

محض زندگی گزاردینا کوئی دانش مندی نہیں ہے بلکہ دانش مندی یہ ہے کہ مقصدِ حیات کو پا کر اس کے مطابق زندگی بسر کی جائے۔
ہر بھلائی کا کام،کسی کی مدد کرنا،ہسپتال بنانا ان تمام اعمال کی بنیاد اگر ایمان بالآخرہ کے ساتھ ہے تویہ سب مقبول ہیں ان کا اجر آخرت میں ملے گا۔اگر نور ایمان نہیں ہے نیت درست نہیں ہے تو ہر بھلے کام کا بدلہ اس دنیا میں تو پا لے گا مگر آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔ہر وہ عمل جو دین اسلام کے مطابق ہوگا شرف قبولیت عطا ہوگی۔کامیابی کا معیار اگر صرف دولت ہوتی تو کافر و مشرک کے پاس دولت بہت تھی لیکن قرآن کریم انہیں نقصان اُٹھانے والے ارشاد فرما رہا ہے۔دانش مندی اور دانائی کو صرف داردنیا تک محدود کر لینا درست نہیں دانش مندی مقصد حیات کو پانے کا نام ہے۔یہ کیسی حکمت و دانائی ہے کہ بندہ تھوڑے سے فائدہ کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی کا نقصان کر لے۔ہماری تنزلی کی سب سے بڑی وجہ ہمارا کردار ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا 40 روزہ سالانہ اجتماع کے موقع پر سالکین سے خطاب
انہوں نے کہا کہ اس محنت و مجاہدہ کا مقصداللہ کا قرب حاصل کرنا اور نبی کریم ﷺ کا کامل اتباع ہے اور یہی اُمتی کی معراج ہے۔
لوگ صدقہ و خیرات میں بھی اپنی پسند و نا پسند کو لے آئے ہیں کسی کی مدد بھی اس لیے کی جاتی ہے کہ یہ میرے کام آتا رہے میرا فرمانبردار رہے۔ایسی نیکی جس کے پیچھے نیت درست نہ ہو قابل قبول نہیں ہوگی۔اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے رکھیں۔صالح عمل وہی شمار ہو گا جو نبی کریم ﷺ کے اتباع میں کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے مرکز دارالعرفان منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی تربیتی اجتماع جاری ہے جس میں وطن عزیز کے طول و عرض سے لے کر بیرون ممالک سے بھی سالکین سلسلہ عالیہ اپنی روحانی تربیت کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ایک باقاعدہ نظم کے تحت دن رات کا شیڈول ہوتا ہے جس میں ذکر اذکار اورتربیتی کلاسز کا اہتمام ہوتا ہے۔روزانہ دن 11:30 پر حضرت جی مد ظلہ العالی صحبت شیخ میں خطاب فرماتے ہیں۔



