متاثرینِ میڈیا ملازمین

متاثرینِ میڈیا ملازمین
تمام ملازمین کا یہ مطالبہ جائز قانونی اور دینی ھے آج جس قدر مہنگائی ہوشربا ھوچکی ھے اس کے تحت مشاہرے نہیں سات آٹھ سال سے بیشتر اےآروائی نیٹ ورک کے ملازمین جوں کی توں تنخواہ پر گزارا کررہے ہیں میڈیا انڈسٹری کو مصنوعی طور دیوالیہ ظاہر کیا جارہا ھے وہ مالکان جنہیں اللہ واحد لاشریک پر مکمل بھروسہ اور اعتماد ھے وہ اجتماعی طور پر تنخواہ بڑھانے کیلئے افسران کی رضا اور مشورے کے پابند نہیں ھوتے البتہ ایسے ایمان والے مالکان صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودگی کیلئے اپنے ماتحتوں کی معاشی بہتری کیلئے سودمند فیصلے کرتے ہیں اور کسی کا بھی معاشی قتل نہیں کرتے یاد رکھنے کی بات تو یہ ھے کہ میڈیا کے اداروں کے بیشتر ہر شعبہ کے افسران چینلز و اداروں کے مالکان کو گمراہ بنانے اور غلط صورت حال پیش کرنے میں کبھی پیچھے نہیں ھوتے اور اپنی منافقانہ رویئوں سے نہ صرف ادارے بلکہ مالکان کی ذات کو ناتلافی نقصان سے دوچار کرتے ہیں یہی افسران کہیں گروپس کہیں گروہ اپنے جیسے منافق چاپلوسوں کو جمع کرکے سازشوں مکاریوں کا عمل جاری رکھتے ہیں۔ گزشتہ سالوں میں ایچ آر نے مالکان کے حکم سے جو ظالمانہ کفارانہ منافقانہ معاشی قتل کیئے وہ تاریخ کا بد ترین باب ھے۔ دکھ اور المیہ یہ بھی ہے کہ اس معاشی قتل پر حکومت کی جانب سے مجرمانہ خاموشی نے ان کے اس عمل کو اور تقویت بخشی اور یونین و کلب کا کردار بھی انتہائی مایوس رہا۔ بس دعا ہی کرسکتے ہیں کہ الله مالکان کو شعور انسانیت اور ایمان بخشے تاکہ چالاکوں کی چالاکیاں سمجھ سکیں۔ وہ میڈیا پرسن جن کا معاشی قتل ھوا خدا گواہ ھے وہ شدید اذیت و کرب کی صورت حال سے دوچار ہیں ذرا سوچیں ان کی اور ان کے اولاد کی آہیں فریاد آسمان تک پہنچی ہونگی ان کا نہیں تو اپنی ہی عاقبت کا سوچ لیں ابھی بھی وقت ھے سانس نکلنے کے بعد معافی کے تمام دریچے بند ہوجائیں گے الله مظلوم متاثرین کو صبر و شکر کی دولت سے نوازے اور اپنے خذانہ قدرت اور غیب سے اتنا نوازے کہ کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا ھوگا۔ سچ بولیں سچ کہیں سچ پر قائم رہیں چاہے دنیا کی بڑی سے بڑی مصیبت مشکلات اذیت تکلیف رکاوٹ سازش دھوکہ کا سامنا ہی کرنا پڑے۔۔۔۔
جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار و رپورٹر کراچی


