لفظ "مصنف”معنوی اور اصطلاحی اعتبار سے وسیع مفہوم اور تعبیرات کا حامل ہونے

مصنف آمنہ فردوس (جہلم)
لفظ "مصنف”معنوی اور اصطلاحی اعتبار سے وسیع مفہوم اور تعبیرات کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں مرکز تنقید و توصیف بھی رہ چکا ہے۔تاریخ ادب کی ورق گردانی اور ارباب قلم کے ادبی تجزیوں سے ایک پہلو جو بہت کھل کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ لفظ "مصنف” اپنی ابتدائے آفرینش سے ہی ایک اصطلاح عزل و نصب رہا ہے۔مثال کے طور پر اگر قدیم یونانی ادب کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ عظیم فلسفی افلاطون جو کہ شاعری کو بطور صنف ادب قابل تکریم سمجھتا تھا، شاعروں اور دیگر مصنفین کو” چربہ ساز” اور ان کے سخن کو مجموعہ اباطیل و لغویات گردانتا تھا۔ البتہ افلاطون کے اپنے ہی شاگرد ارسطو نے نہ صرف شاعروں اور دیگر تمام قلم کاروں کو افلاطون کے لگائے گئے الزامات سے بری الذمہ قرار دیا بلکہ لفظ "مصنف” کی ایسی تعبیر پیش کی جو آج بھی سخن وروں کے لیے باعث افتخار ہے۔اپنی شہرہ آفاق کتاب ” Poetics” میں ارسطو نے ادیبوں کو” تخلیق کار” قرار دیا ہے۔ارسطو کے نزدیک مصنف وہ واحد تخلیق کار ہے جو بیرونی دنیا کو من و عن منعکس نہیں کرتا بلکہ بے مثال ذہنی صلاحیتوں اور غیر معمولی تخیلاتی استعداد کا حامل ہونے کے باعث مصنف مادی دنیا سے بہتر یا بدتر ایک نئ تخیلاتی دنیا تخلیق کرتا ہے۔
ارسطو کے اسی نقطہ نظر کو تقویت دیتے ہوئے مشہور انگریز نثرنگار فلپ سڈنی نے اپنی کتاب "An Apology for Poetry” میں ارسطو کے خیالات کی مؤثر مثالوں کے ذریعے ترجمانی کی ہے۔بایں ہمہ سڈنی ارسطو سے ایک قدم آگے بڑھ کر مصنف کو "تخلیق کار” کے ساتھ ساتھ "مصلح” اور "استاد” کے القابات سے بھی نوازتا ہے۔سڈنی کے ہاں مصنف وہ استاد ہے جو قارئین کو قابل تقلید "مثالی دنیا "سے متعارف کرواتا ہے۔ وہ دنیا جس میں اچھائی کا انجام بالخیر اور برائی کا انجام بالشر ہوتا ہے۔اچھائی اور برائی کی ان متشکل مثالوں سے قارئین جو اخلاقی سبق حاصل کرتے ہیں وہ نہ تو تاریخ کے واقعات اور نہ ہی فلسفیانہ اقوال انہیں سکھا سکتے ہیں۔
اگرچہ لفظ "مصنف "کی مندرجہ بالا تعبیرات آج بھی دنیا کے تمام ادبی حلقوں میں معتبر اور نافذ العمل سمجھی جاتی ہیں تاہم مصنفین ہمیشہ سے دو گروہوں میں منقسم رہےہیں۔اگر ایک طرف مصنفین معاشرے کی اخلاقی تربیت اور اس کی نظریاتی اصلاح کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں تو دوسری طرف کچھ عاقبت نااندیش ادیب سستی شہرت کے حصول کے لیے اس عظیم منصب کا غلط استعمال بھی کر رہے ہیں۔لہذا جو نقاد مجموعی طور پر شاعری، افسانہ نگاری اور ناول نگاری کو شعبدہ بازی اور فحش گوئی کہتے ہیں انہیں اپنے طرز فکر پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ فحش ادب نہیں بلکہ وہ ادیب ہیں جو ادب کو اپنی پراگندہ فکر کے اظہار کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔مصنف ہونا ایک انسان سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ ہر قسم کے مذہبی، لسانی، ثقافتی اور نسلی تعصب سے بالاتر ہوکر بے لاگ اور غیر جانبدار نظریات کی عکاسی کرے۔ایک معتبر مصنف ہمیشہ عالمگیر حقائق کو اپنی ذاتی پسند اور ناپسند پر فوقیت دیتا ہے۔مصنف کو پراپیگنڈسٹ نہیں بلکہ منطقی اور استدلالی سوچ کا حامل انسان ہونا چاہئے ۔اس زاویہ نظر کا حامل مصنف ہی غیر جانبدارانہ طور پر اپنے معاشرے میں موجود اخلاقی رفعت و گراوٹ کا متوازن تجزیہ پیش کرسکتا ہے۔ایک غیر متعصب لکھاری ہی اپنے قارئین کا مؤثر کتھارسس کر کے ان کے ناقص اور بیمار جذبات کو تلف کر سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ مصنفین جو قوم کی نظریاتی اساس کے تحفظ اور عوام کی ذہنی و سماجی تربیت کے لیے برسرپیکار ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ حکومتی سطح پر مؤثر منصوبہ سازی کے ذریعے ایسے گوہر نایاب مصنفین کی پشت بانی کرنا دور حاضر کی اولین ضرورت ہے۔


