قرآن کریم کی تلاوت جہاں برکات اور اجر عظیم کا باعث ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اسے سمجھا

قرآن کریم کی تلاوت جہاں برکات اور اجر عظیم کا باعث ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اسے سمجھا جائے کیونکہ اس کے احکامات پر عمل کرنا اصل مقصود ہے۔جرمنی میں اکثریت نوجوانوں کی ہے جو تعلیم کی غرض سے یہاں تشریف لائے ہیں ان سے گزارش ہے کہ جہاں وہ دنیاوی تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہاں دینی تعلیم بھی حاصل کریں جس سے نورایمان میں وہ پختگی آئے گی جس سے عمل صالح اختیار کریں گے جو روزمحشر بھی ان کے کام آئیں گے۔قرآن کریم میں آپ ﷺ کو فرمایا جا رہا ہے کہ تلاوت قرآن فرمائیں اور نماز کی پابندی کریں تو بحیثیت امتی جب ہم نماز کی پابندی کریں گے تو یہ ہمیں بے حیائی اور برائی سے روک دے گی۔اس کی باقاعدگی ہمیں معیت محمد الرسول اللہ ﷺ کی صف میں لے جائے گی۔
شیخ سلسلہ امیر عبدالقدیر اعوان کا مسجد الامہ Munich Germanyمیں سراجا منیرا کانفرنس سے خطاب
انہوں نے کہا کہ ہر مرنے والے کے ساتھ صرف اس کے اعمال جائیں گے۔بندہ مومن کو یہ عظمت عطا فرمائی گئی کہ جب نور ایمان نصیب ہوتا ہے پھر دنیا کے کام بھی آخرت کی تعمیر کا سبب بنتے چلے جاتے ہیں۔اس سب کے لیے جاننا بہت ضروری ہے جانیں گے تو عمل کر پائیں گے۔دین اسلام ہر ایک کو دعوت حق ارشاد فرماتا ہے جب قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھیں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ اس کا ایک ایک لفظ ایک ایک حکم میرے لیے ہے میرے اللہ کریم مجھ سے مخاطب ہیں۔انسان کی جو تخلیق ہے اس کے مقصد کو پانے کا یہ واحد راستہ ہے۔نبی کریم ﷺ کا اسوہ حسنہ میں ہمارے لیے راہنمائی موجود ہے ہمیں صرف اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہیں کوئی تشنگی نہیں رہے گی۔دنیا کے کاموں کو اللہ کے حکم کے مطابق کرنے کا نام اسلام ہے یہی دین ہے اسی دنیا کی زندگی سے آخرت کی تعمیر ہونی ہے۔
اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخرمیں انہوں نے ذکر اللہ کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ذکر کی مختلف اقسام ہیں جن میں لسانی ذکر ہے عملی ذکر ہے اور قلبی ذکر ہے۔محفل میں آنے والوں کو ذکر قلبی سکھایا اور امت مسلمہ کے اتحاد اور فلسطین کے مسلمانوں کے لیے اجتماعی دعا بھی فرمائی۔



