قتل در قتل، انصاف کہیں نہیں۔۔۔ خونی انقلاب کو دعوت

*قتل در قتل، انصاف کہیں نہیں۔۔۔ خونی انقلاب کو دعوت۔۔۔۔!!*
*پنجاب پولیس کی غنڈہ گردی کو ختم کرنے کے بعد اب سندھ پولیس کی باری ھے کہ اس نے اپنا قبلہ درست نہ کیا اور اپنے فرائض کو خوش اسلوبی سے سرانجام نہ دیا تو یہی عوام ان کا دھرمت بنادے گی، روزانہ کی بنیاد پر کراچی میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں مرنے سے عوام میں ریاست پولیس اور حکومت کے خلاف بغاوت بڑھتی جارھی ھے، وفاقی و صوبائی وزیر داخلہ اس بابت فوری سنجیدہ لیں اور وزیراعلیٰ سندھ اس حساس مسلہ کو حل کریں کیونکہ یہ مسلہ سیاسی نہیں ھے بلکہ آئینی ملکی اور ریاستی مسلہ ھے۔ تاخیر اچھی علامت ثابت نہیں ھوگی گر سندھ پولیس ناکام اور نااہل ھے تو تسلیم کرلے تاکہ اس گھمبیر مسلہ کو پاک فوج کی بٹالین اپنے انداز سے درست کرلے، حکومت کی جانب سے جھوٹ منافقت دھوکہ اور غلط بیان بازی سے خود کو کتنے روز عوام سے بچاسکیں گے اس سے قبل کہ عوام حکومتی اشرفیہ حکومتی ایلیٹ جماعت کی کرسی کو اکھاڑ پھینکے سنبھل جائیں اور بے حسی لاپروائی اور بیغیرتی و بے شرمی کی چادر اتار پھینکیں وگرنہ کوئی وزیر مشیر شہر کراچی میں عوام کے ہاتھوں محفوظ نہیں رہ سکے گا اور انکے سیکیورٹی اہلکار کتنی عوام پر فائرنگ کر کرکے ہلاک کریں گے اسی لئے بہتر ھے خود یعنی اپنی حکومت کو اور پولیس محکمہ کو سدھار لیں عوام کے مدمقابل اگر زور زبر کیا تو ممکن ھے اس نظام کے خلاف خونی انقلاب بپا ھوجائے اور انکے تخت و تاج کو بہا دے، عوام کے صبر و برداشت کو انکی کمزوری ہرگز نہیں سمجھیں اگر ایسا سوچا اور عام عوام کو ڈکیتوں لٹیروں رہزنوں اور کرائے کے قاتلوں کے ہاتھوں مرتا دیکھتے رھے تو نہ عدالتیں سلامت رہیں گی نہ تھانے قائم رہ سکیں گے آئین پاکستان میں وارد ھے کہ حکومت اور ریاست عوام کو یقینی تحفظ دے جب حکومت اور ریاستی ادارہ پولیس ہی لٹیروں کی افزائش کریں تو یہ ملک و قوم سے غداری اور آئین شکنی ھے آئین شکنی اور غداریب کی موت ھے کیا ابتک کسی آئین شکن اور غدار کو موت کے گھاٹ اتارا نہیں تو عدالت بھی برابر کی مجرم ٹہرتی ھے خدارا اس ملک کو بچائیں اور اس ظالم جابر بے انصاف نظام کو جڑ سے ختم کریں وہی نظام رائج کریں جو عمر و ابوبکر صدیق اور عثمان و علی رضوان الاجمعین نے اپنے دور حکومت میں نافذ کیا ھوا تھا۔۔۔ منجانب: جاوید صدیقی جرنلسٹ و کالمکار کراچی*


