غریب بچوں کو عید کی خوشیوں میں شامل کیا جائے،کاشف شمیم

کراچی (اسٹاف رپورٹر) معروف شاعر، کالم نگار، مصنف اور ادیب کاشف شمیم صدیقی کا عید الا ضحی کی عنقریب آمد پرغریب ،بے سہارا اور بھوک کی شدت سے بد حال بچوں کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک کے پسماندہ علاقوں میں موجودبے انتہا غربت نے جہاںبے شمار انسانی زندگیوں کو شدید متاثر کیا وہیں کورونا وائرس کی تبا ہ کاریوں نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے ،بے بس و مجبور بچوں کے آئے دن کے فاقے اُنکی زندگی کے چراغ کی روشنی کو مدھم کرتے چلے جارہے ہیں، بدترین معاشرتی ناانصافیوں کا سامنا کرتے یہ بچے یا تو بے بسی کی موت مر جاتے ہیں ،یا پھر موت سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبوررہتے ہیں، بقر عید کی آمد آمد ہے ، خوشیوںسے بھرے تہوار پر ایسے نادار بچوں کے جذبا ت و احساسات کیا ہوںگے ، ہر حسا س دل محسوس کر سکتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ا یسے تمام غریب اور غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کا بھر پور ساتھ دیتے ہوئے اُنہیں عید کی خوشیوں میں شامل کرلیا جائے، غرباء میں قربانی کے گوشت کی عمدہ تقسیم اچھے اثرات مرتب کرے گی، شاعرِامن کاشف شمیم صدیقی نے صاحب ِثروت افراد و خاندانوں سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعدازعید ایسے لاتعداد غریب بچوں کی بھرپور کفالت کے مسئلے پر سوچ و بچار کرکے اگر احسن اقدامات عمل میں لائے جائیںتو اُن کی زندگیوں میں بھی اُجالے لوٹ آئیںگے ، بہتر زندگی کے سفر پر گامزن یہ بچے ملک وقوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکیں گے، دوسری جانب بچوں میں Malnutrition سے جڑے مسائل اور اسکی روک تھام کے سلسلے میں ہوتے کاموں پر بات کرتے ہوئے کاشف صدیقی کا کہنا تھا کہ بچوں میں پستہ قد، وزن کا کم ہونا، جسمانی کمزوری جیسے مسائل عام ہیں ، عوام یہ جاننے کاحق محفوظ رکھتے ہیں کہ موجودہ دور میں غریب بچوں کی بہتر صحت کے حوالے سے کیا کام کیے جار ہے ہیں ۔


