سندھ

عورت معاشرے کی نصف آبادی ہے، اس لیے اس کی تعلیم و تربیت اور معاشی استحکام کے بغیر کوئی بھی

**عورت کی آزادی**
تحریر فاطمہ بلوچ
عورت معاشرے کی نصف آبادی ہے، اس لیے اس کی تعلیم و تربیت اور معاشی استحکام کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ لیکن افسوستحریر کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو پسماندہ رکھا جاتا ہے اور اسے مردوں کے مقابلے میں کم تر سمجھا جاتا ہے۔

عورت کو تعلیم سے محروم رکھ کر اسے معاشرے میں ایک کمزور کردار بنایا جاتا ہے۔ تعلیم ہی وہ ہتھیار ہے جو عورت کو معاشرے میں آگے بڑھنے کے قابل بناتی ہے۔ تعلیم یافتہ عورت اپنے حقوق کا علم رکھتی ہے اور ان کا مطالبہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عورت کو معاشی استحکام بھی فراہم کرنا چاہیے۔ اسے روزگار کے مواقع فراہم کر کے اسے معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ جب عورت معاشی طور پر مضبوط ہوگی تو وہ اپنے خاندان کا کفیل بن سکے گی اور اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی طاقت رکھ سکے گی۔

عورت کو معاشرے میں عزت و احترام کا مقام دینا چاہیے۔ اسے گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر عزت و احترام سے پیش آنا چاہیے۔ اسے اپنے حقوق کا علم ہونا چاہیے اور وہ ان کا مطالبہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عورت کی آزادی کے لیے ضروری ہے کہ اسے تعلیم و تربیت فراہم کی جائے، اسے معاشی استحکام فراہم کیا جائے اور اسے معاشرے میں عزت و احترام کا مقام دیا جائے۔ جب عورت تعلیم یافتہ، معاشی طور پر مضبوط اور معاشرے میں عزت و احترام سے پیش آئے گی تو وہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی طاقت رکھ سکے گی اور معاشرے میں آگے بڑھ سکے گی۔

عورت کی آزادی صرف اس کی اپنی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہے۔ لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم عورت کو تعلیم و تربیت فراہم کریں، اسے معاشی استحکام فراہم کریں اور اسے معاشرے میں عزت و احترام کا مقام دیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You