کالم/مضامین

عنوان: یہویوں، قادیانیوں کا مہرہ کھلاڑی۔۔۔۔؟؟

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: یہویوں، قادیانیوں کا مہرہ کھلاڑی۔۔۔۔؟؟

کالمکار: جاوید صدیقی

سنہ انیس سو چورانوے میں سابق گورنر سندھ حکیم سعید اور معروف عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد مرحومین نے قوم کو متنبہ کیا تھا کہ یہودی ایک کھلاڑی کو تیار کر رہے ہیں اور یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ قادیانیوں کا سب سے بڑا سرپرست اعلیٰ اسرائیل ہے۔ بیشک اللہ واحد لا شریک سے کوئی شے پوشیدہ نہیں اور وہ جب چاہے جہاں چاہے بے نقاب کرسکتا ھے ، جھوٹ کے پیر نہیں ھوتے جھوٹوں کا مقدر ذلت و رسوائی ہی ھوتا ھے اسی لئے اللہ نے سچوں کو پسند کیا اورانہیں دونوں جہاں عزت و وقار بخشا یہی وجہ ھے کہ آپ ﷺ نے بتادیا کہ اللہ نے جھوٹوں کے متعلق قرآن میں صاف صاف کہہ دیا *لعنت الکاذبین* بیشک جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ھے، جھوٹ میں ہر وہ عمل ھے جو قولی عملی طور پر پھر جانا، بدل جانا، انکار کر جانا، مکر جانا شامل ھے۔ حق و سچ یہ ھے کہ اللہ نے اپنے محبوب اور آخری نبی و پیغمبر حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کو شبِ معراج کے موقع پر اپنی تمام کائنات کا باچشم جسم و جاں سیر کرائی اور تمام راز عیاں کردیئے، تمام آسمان اور عرش معلیٰ بھی کھول دیئے۔ محبوب و عاشق کی ملاقات کی شہرت زرے زرے میں پھیل گئی اور اس خوشی کے موقع پر ہر مخلوق، ہر زرہ درود و سلام کے نذرانے پیش کرتا رہا۔ ھم بے انتہا خوش نصیب ہیں کہ اللہ نے اپنے محبوب ختم النبین و ختم الرسول حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی امت اور مسلمان پیدا کیا۔ *الصلوٰة و السلام علیک یا رسول اللہ* ۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں لاکھ برا ہی سہی لیکن میں علل اعلان کرتا چلا آرھا ھوں کہ میں *قادیانیوں، یہودیوں کا کھلا دشمن ھوں* کیونکہ یہی دو طبقے یہودی اور قادیانی ھمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کے دین کے انتہائی غلیظ و خبیث دشمن ہیں۔ پاکستان جس سورش اور غداروں کی سازشوں میں گھرا رھا اور تا حال ہے، یقین جانئے یہ رب کی ذات ہی ہے جس نے اس کی حفاظت کی ہوئی ہے۔ یوں تو پاکستان بننے سے قبل ہی یہودیوں اور قادیانیوں نے ریاستِ پاکستان میں اپنے پنجے گاڑنے کی پلاننگ اور ایجنڈوں پر کام شروع کردیئے تھے۔ اس کی ایک تاریخی شواہد اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ھوں۔ جب *بابائے قوم* کی میت فقبرستان لے جانے کیلئے اٹھائی گئی تو پوری انکی کابینہ کے وزراء اور فوجی قیادت ہمراہ تھے لیکن جب قائد اعظم محمد علی جناح کا *نماز جنازہ* پڑھایا جانے لگا تو پوری کابینہ اور فوجی قیادت جو پہلی صف میں کھڑی ملی مگر ملک کا وزیر خارجہ *سر ظفر علی خاں* اور دو جرنیل خاموشی سے صف سے نکلے اور دائیں جانب سائڈ پہ جاکر کھڑے ہوگئے اور *نماز جنازہ* میں شرکت نہ کی۔ جب نماز جنازہ مکمل ہوگئی تو وہ تینوں ایک بار پھر سب میں گھل مل گئے۔ اس وقت کے صحافیوں نے *سر ظفر اللہ خاں* سے پوچھا *” سر "* آپ نے قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھی۔ *ظفراللہ خاں* نے جواب دیا۔ ہم "احمدی” ہیں احمدیوں قادیانیوں کے علاوہ کسی اور کی *نماز جنازہ* نہیں پرھتے”۔ بڑی تحقیق اور ذمہ داری کیساتھ تحریر کررھا ھوں کہ کوئی بھی معزز قارئین کنفرم کرواسکتا ھے کہ قادیانی مسلمانوں کے جنازے میں نماز نہیں پڑھتے۔ اب میں اپنی تحریر کو اس حقیقی رخ کی جانب بڑھاتا ھوں کہ جسے ھمارے بیشمار سیدھے سادھے مسلمان بہک کر اور دھوکہ کھاکر اپنا ایمان زائل کررھے ھیں جی ہاں میرے معزز قارئین کو یاد ھے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے متعلق کہا جاتا رھا ھے کہ یہ یہودی ایجنڈ ھے اور قادیانی ھے۔ اس بات کو حالات و واقعات کی کسوٹی پر جب تولہ تو کیا نتیجہ برآمد ھوا ذرا ملاحظہ کیجئے واقعات ۔۔۔۔ آپ معزز قارئین کو یہ ضرور معلوم ہوگا کہ عمران کے *نانا* کا شمار مرزا قادیانی کے پانچ وے نمبر پر مرزا کے خاص صحابی کے طور پہ ہوتا تھا۔ عمران خان کسی بھی موقع پہ اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کا نام صحیح طور پر کبھی نہیں لیتا، آپ کو یاد ہوگا کہ وزیر اعظم کا حلف اٹھاتے ہوئے تین بار اس کو لفظ *” خاتم النبیین”* دھرا کر کہا گیا اس نے اس لفظ کو درست نہ پڑھا تو بلآخر اس لفظ کو چھوڑ کر حلف مکمل کیا گیا اور یہ بات بھی کنفرم ہے کہ قادیانی لفظ *” خاتم النبیین”* کبھی ادا نہیں کرتے۔ مجبوری بن جائے تو عمران خان کی طرح زبان گھما پھرا کر کچھ کا کچھ کہہ جاتے ہیں، پھر آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ایک بار عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے دنیا میں تشریف لائے ھوئے انبیاء اکرام کی تعدار ایک لاکھ چالیس ہزار کہہ دی، اس کو ٹوک کے تصحیح کی گئی مگر وہ انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چالیس پہ ہی ڈٹا رہا جب اس بارے ہم نے تحقیق کی تو انکشاف ہوا کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے انبیاء اکرام کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ کو یاد ہوگا کہ جب عمران خان اقتدار میں آیا تو اس کے قریبی ساتھی اور جگری دوست *” انعام الحق”* کا کراچی میں انتقال ہوگیا، تو سارے سرکاری انتظامات مکمل ہونے کے باوجود عمران خان اس کا *نماز جنازہ* پڑھنے نہیں گیا۔ یاد رھے کہ *محسن پاکستان*، پاکستان کے ایٹم بم کے موجد *ڈاکٹر عبدالقدیر خان* کی وفات ہوئی تو عمران خان اسلام آباد میں موجود ہوتے ہوئے بھی *نماز جنازہ* میں شریک نہیں ھوا، میرے معزز قارئین کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ملک کی عظیم بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیت، عظیم فلاحی تنظیم ” ایدھی” کے بانی اور روح رواں *” عبدالستار ایدھی”* کی وفات بھی عمران خان کے دورِ حکومت میں ہی ہوئی تھی، ساری دنیا نے حتٰی کہ *آرمی چیف* تک نے نماز جنازہ میں شرکت کی مگر عمران خان نے شرکت نہیں کی، عمران خان کے فیملی کزن اور بہنوئی حفیظ اللہ نیازی نے کچھ عرصہ قبل ایک انٹرویو میں بتایا کہ عمران خان نے تو اپنے والد کی*نماز جنازہ* میں شرکت نہیں کی تھی البتہ اپنے *نانا* کے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ اب ذرا آگے بڑھتے ھیں میں اپنے معزز قارئین کو بتاتا چلوں کہ کم و بیش چوالیس سالوں سے میڈیا سے وابسطہ ھوں جبکہ صحافت سے تعلق پندرہ سال سے زائد ہوگیا ھے اس تمام عرصہ میں کسی بھی چینلز سے یہودیوں اور قادیانیوں کی منفی شرانگیزیوں پر خبر نہیں آن ایئر دیکھی جبکہ اس بابت میں نے کئی خبریں کالم تحریر کئے جسے تقریباً ہر اشاعتی ادارے نے شائع کئے اور کرتے آرھے ھیں، ایک دفعہ کا واقعہ ھے کہ قادیانیوں کے خلاف خبر ملی جسے آن ایئر کرنا چاہتا تھا خبر کو مکمل ایڈٹ کرلیا آن ایئر پر قلیق نے اعتراض کیا اور کہا کہ ایک بار مالکان کے علم میں لے آؤ میں نے فون کیا اور خبر بتائی تو انھوں نے یہ کہہ کر روک دیا کہ ھمارا کاروبار ان ممالک میں بھی ھے اثر انداز ھوگا یہ تو ھمارے چینلز مالکان کا حال ھے اب بات کرتے ہیں میرے قلیق میرے ساتھی صحافی، عمران خان اور ایک نجی چینل کے مالک کا رائٹ ہینڈ *ارشد شریف* کینیا میں قتل ہوگیا تھا جس کے قتل پہ عمران خان نے وہ شور مچایا، وہ شور مچایا کہ عمرانی فالورز کے نزدیک وہ صحافی سے بڑھ کر پیر کا درجہ اختیار کرگیا، اس کے قتل کو عمران خان نے *پی ٹی آئی* کا قتل قرار دیا، اور نجی چینل کی مالک اور اس کے ماتحتوں نے بھی عمران خان کی طرح *ارشد شریف* کو اپنا بھائی قرار دیا اس کے گھر جا کر ایک ایک فرد سے تعزیت کی۔ لیکن جب ارشد شریف کا جسد خاکی پاکستان آیا تو شہر میں موجود ہوتے ہوئے بھی عمران خان سمیت نجی چینل کے مالک نے *نماز جنازہ* میں شرکت نہیں کی۔ حفیظ اللہ نیازی* تو یہاں تک کہتے ھیں کہ اب *سچ* نظر آتا ہے اور چیلنج ہے کہ عمران خان کے وزیراعظم بننے سے پہلے، وزیراعظم بننے کے دوران اور وزیر اعظم کے عہدے سے اترنے کے بعد آج تک کوئی ایک خاندان میں، سیاسی قائدین، کسی گہرے تعلق والے کی فوتیگی پہ اس کے *نماز جنازہ* کے بارے بتادیا جائے کہ عمران نے شرکت کی ہو جو چاہو انعام میں دونگا۔ دوسرا یہ کہ *ظلِ شاہ* پی ٹی آئی کے کارکن کی وفات پہ بھی عمران خان *نماز جنازہ* پڑھنے کو نہیں گیا۔ آخر میں اپنی تحریر کو سیمٹتے ھوئے اپنے معزز قارئین کو یاد دلانا چاہتا ھوں کہ عمران خان کی پاکستان دشمن ملک بھارت کیلئے بھی بڑی کرم فرمائی اور کرم نوازی رہی تھی، بظاہر سکھوں کیلئے راہداری کی تعمیر جو قادیان سے ہوتی ھوئی گزر گاہ تھی، ابھینندن کی بناء مشرط واپسی، درس و تدریس اور ختم نبوت کی آئینی شقوں میں چھیڑ چھاڑ، آسیہ ملعون کو تحفظ اور بیرون ملک روانگی، نوازشریف کیلئے راہ ہمواری اور بیرون ملک روانگی خود اسی نے کیں، برطانوی شہرت رکھنے والے قادیانیوں کی اپنے دور اقتدار میں بڑے منصبوں پر تعیناتی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، میں تسلیم کرتا ھوں کہ آصف علی زرداری و فیملیز، نواز شریف اور شہباز شریف و فیملیز، مولانا فضل الرحمان و فیملیز، ایم کیو ایم فیملیز، قاف لیگ ھوں یا عوامی لیگ یہ سب کے سب نہ وطن سے مخلص رھے ہیں اور نہ ہی عوام سے لیکن عمران خان تو ان سب سے بھی منفی عمل میں دو ہاتھ آگے رھا۔ آخر نتیجہ یہ نکلا ھے کہ جس کو یہ جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر عوام کو بیوقوف ستتر سالوں سے بناتے چلے آرھے ھیں اب یہ نظام تحلیل کی جانب بہت تیزی سے بڑھ رھا ھے کیونکہ اسٹبلشمنٹ اچھی طرح جان چکی ھے کہ یہ تمام کے تمام سیاستدان، حکمران، اشرفیہ، منافق، جھوٹے، خودغرض، لالچی، ظالم و قاتل ھیں ان سب کی موجودگی میں نہ وطن ترقی کرسکتا ھے اور نہ ہی عوام خوشحال ھوسکتی ھے اسی لئے عنقریب ان غلاظتوں سے ابدی نجات لے لی جائیگی اور نظام خلافت رائج کردیا جائیگا انشاءاللہ واللہ العلم ۔۔۔۔۔ !!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You