کالم/مضامین

*عنوان: یااللہ اس ہوٹل پر رش قائم رکھ ۔۔!!*

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*

*عنوان: یااللہ اس ہوٹل پر رش قائم رکھ ۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

میں نے سٹلائٹ چینل میں انیس سال بناء وقفہ متواتر کام کیا اب گزشتہ چھ سالوں سے پرنٹ میڈیا میں متحرک ھوں اپنی صحافت رپورٹنگ تحقیق سچ و حقائق کی راہ میں بڑی دلچسپ واقعات، معاملات، حادثات، خبر اور تحاریر گزریں۔ اپنی ڈیجیٹل ورکنگ کے دوران شوشل میڈیا میں ایک تحریر نے اندر سے جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور سوچنے لگا کہ کراچی سمیت پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہروں میں پکوان کامیاب اور منافع بخش کیونکر ہورھے ہیں یہ حقیقت ھے کہ جبتک رب العزت نہ چاہے کوئی نفع بخش نہیں ہوسکتا اور جبتک رب العزت نہ چاہے کوئی گھاٹے اور نقصان سے دوچار نہیں ہوسکتا ھے۔ اللہ واحد لاشریک نے ہی نفع اور نقصان کا راستہ بھی بتایا ھے مگر جو ہوش مند، باشعور سمجھدار ذہین سب سے بڑھ کر ایمان یافتہ ہوتے ہیں وہ اللہ تبارک تعالیٰ کی اس نشانی کو کھلی آنکھ اور پوشیدہ آنکھ دونوں سے دیکھ لیتے ہیں۔ بحرکیف یہاں میں اپنے معزز قارئین کیلئے جو کالم کا عنوان منتخب کیا ھے وہ اسی رمز سے تعلق رکھتا ھے گزشتہ روز میری جس تحریر پر نظر پڑی وہ کچھ اس طرح سے تھی ۔۔۔۔۔ ہمارے آفس کے قریب ایک ناشتہ پوائنٹ ہوٹل ہے اکثر وہاں ناشتہ کرنے جاتے ھیں، کافی رش ہوتا ہے ناشتے والے کے پاس۔ میں نے کافی دفعہ مشاہدہ کیا کہ ایک شخص آتا ہے اور کھانا کھا کر بھیڑ کا فائدہ اُٹھا کر چُپکے سے پیسے دیئے بغیر ہی نکل جاتا ہے جھانسہ دے کر، ایک دن جب وہ کھانا کھا رہا تھا تو میں نے چُپکے سے ناشتہ پوائنٹ ہوٹل کے مالک کو بتایا کہ وہ والا بھائی ناشتہ کرکے بغیر بِل دیئے رش کا فائدہ اُٹھا کر نکل جاتا ہے۔ آج یہ جانے نہ پائے، اسکو رنگے ہاتھوں پکڑنا ہے آج۔ میری بات سُن کر ناشتے والا مالک مُسکرانے لگ گیا اور کہنے لگا کہ اسے نکلنے دو. کُچھ نہیں کہنا اسکو بعد میں بات کرتے ھیں. حسبِ معمول وہ بھائی ناشتہ کرنے کے بعد ادھر اُدھر دیکھتا ہوا جھانسہ دے کر چُپکے سے نکل گیا. میں نے ناشتے والے مالک سے پُوچھا کہ اب بتاؤ اُسے کیوں جانے دیا!! کیوں اُسکی اس حرکت کو نظر انداز کیا؟ جو جواب اُس ناشتے والے مالک نے دیا وہ جواب میرے چودہ طبق روشن کر گیا. کہنے لگا کہ اکیلے تُم نہیں بہت سے لوگوں نے اسکو نوٹ کیا اور مجھے بتایا نہ بھی کوئی بتاتا تو مجھے خُود بھی پتہ ہے اسکی اس حرکت کا ہمیشہ سے۔ کہنے لگا کہ یہ سامنے بیٹھا رہتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ میرے ہوٹل پر رش ہوگیا ہے تو چُپکے سے آ کر کھانا کھا کر نِکل جاتا ھے. میں ہمیشہ اسکو نظر انداز کردیتا ہوں اور کبھی نہیں روکا، نہ پکڑا، نہ کبھی بے عزت کرنے کی کوشش کی کیونکہ مجھے لگتا ھے کہ میرے ہوٹل پر رش ہی اس بندے کی دُعا سے لگتا ہے۔ یہ سامنے بیٹھ کر دُعا کرتا ہوگا کہ یا اللہ اس ہوٹل پر رش لگادے تاکہ میں اپنی کاروائی ڈال سکوں اور سچ میں رش ہوجاتا ہے ہمیشہ جب یہ آتا ہے، میں اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان اس دُعا اور قبُولیت کے معاملے میں ٹانگ اڑا کر اپنی بدبختی کو دعوت نہیں دینا چاہتا۔ یہ میری طرف سے نظر انداز ہی ہوتا رہے گا اور ہمیشہ ایسے کھانا کھاتا رہے گا تو بھی میں کبھی اس کو پکڑ کر بے عزت نہیں کروں گا !! ۔۔۔۔ معزز قارئین!! میں کراچی میں رہتا ہوں یہاں کے معروف پکوان ہاؤس میں بھی کھانا کھانے کا اتفاق ہوا ہے۔ ایک تو یہ منظر مشاہدہ کیا جو تحریر کیا ہے دوسرا یہ کہ ہوٹل اور پکوان ہاؤس کے باہر ایک لمبی قطاریں بھی دیکھیں جہاں صاحب استطاعت لوگ مفت کھانا کھلانے کیلئے رقم دیدتے ہیں اور یہ قطار میں موجود کھانا کھالیتے ہیں تیسرا یہ مشاہدہ کیا کہ چوراہوں پر بیشمار فلاحی اداروں کی جانب سے بھی کھانا کھلایا جاتا ہے درحقیقت یہ اللہ کا کرم و فضل ہے کراچی کے مقامی باشندوں پر کہہ وہ خالصتاً اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کی رضا اور خوشی کیلئے دسترخوان بچھاتے ہیں۔ بناء رنگ روپ، بناء نسل و قوم، بناء ذات پات، بناء مذہب، بناء لسانیت و زبان صرف مسلمان اور صرف انسان یہ جذبہ ایمانی نہیں تو کیا ھے یہ نعمت و فضل مل جائے وہ خوش نصیب مومن ہوتا ہے۔ بیشک اللہ ہی منتخب کرتا ہے نیکی کے کاموں کیلئے۔ کراچی والے اسی اچھے عمل کے سبب آباد ہیں، خوشحال ہیں، ان سے حسد، بغض، عناد، نفرت رکھنے والے اپنی تمام تر کوشش، قوت، مزاحمت کرلیں چاہے ڈکیتی، چوری، رہزنی، اسٹریٹ کرائم، لوٹ مار، بدمعاشی، بھتہ خوری، زور زبردستی گوکہ وہ ناکام و نامراد ہی ٹہریں گے اور اپنی موت آپ مرجائیں گے کیونکہ شیطانیت، ابلیسیت، دجالیت سے زیادہ طاقت اللہ تبارک تعالیٰ کی ہے جنہیں اللہ منتخب کرلیتا ہے انہیں ہر لحاظ سے، ہر پہلو سے، ہر نقطہ سے، ہر سمت سے، ہر انداز سے سرخرو رکھتا ہے۔ اسی لئے حسد و بغض رکھنے کے بجائے وہ اعمال اپنالیں جس سے اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کا قرب اور رضامندی حاصل ہوسکے پھر دیکھئے گا کہ رب کس طرح دونوں جہاں کی دولت، عزت، مقام، راحت، فضل و کرم، رحمت و برکت نوازتا ھے بیشک اللہ واحد لاشریک ہی قادر مطلق ہے۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You