عنوان: کوفیوں کا کردار اور ہم

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: کوفیوں کا کردار اور ہم
حضرت امام زین العابدین رضی الله تعالیٰ نے تاریخی جملہ کہا تھا کہ *” مجھے اتنا افسوس اِن کربلا والوں پر نہیں کہ جتنا اِن پر ہے کہ جن کو معلوم بھی تھا کہ ہم حق پر تھے پھر بھی وہ خاموش رہے "* حضرت امام زین العابدین کے اس قول کو ہم جب اہنے مملکت پاکستان کی عوام اور اداروں کے رویئوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو ہم پاکستان میں ہر جانب ہر سوں کوفیوں کے رویئوں سے الگ نہیں محسوس کرتے کیونکہ دینِ اسلام دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا اور آخری بنیادی جز ہی حق و سچ پر محیط ہے یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں مشرکین و کفار کے جھوٹے خداؤں کی بت پرستی کے خلاف اعلانِ حق بلند کیا۔ مشرکین مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا بھر کی مال و دولت, حسین عورت, منصب, عہدہ, اقتدار گوکہ ہر خواہش کی پیشکش کیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو ٹھکرا دیا تھا اور طاقتور مضبوط ظالم و جابر مخالفین کے سامنے ڈٹے رہے اور الله تبارک و تعالیٰ کے پیغام کو خوب پھیلایا۔ خوانوادۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے باپ و نانا حضرت محمد مصطفیٰ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کیلئے جان و مال کی قربانی سے کبھی دریخ نہیں کیا اورامتِ محمدی کیلئے ہر قربانی کے نذرانے پیش کیئے۔ تاریخِ اسلام شہدائے کربلا کے شہیدوں کی عظمت و شان کو سنہری الفاظ میں یاد کرتی ہے اور امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم شہدائے کربلا کو آج تک یاد کرتی ہے اور یہ سلسلہ تا قیامت جاری و ساری رہیگا اور ان کی عظمت, شان و وقار اور قربانی سے سیکھتے ہوئے اپنی زندگیوں میں نوربھرتی ہے اور رہیگی۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور یہاں کے بسنے والے نوے فیصد شہری مسلمان ہیں جو اسلام سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں مگر حالیہ زمانے کی معاشرتی و اخلاقی تبدیلی کے باعث دین سے دوری کا اثراس قدر بڑھ گیا ہے کہ دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ و اثر پر فرق دیکھا جاسکتا ہے اس فرق کی وجہ جہاں منافقین کی منافت, دولت کی حرص و حسد, فتنہ قادیانیت اور مسالک کی تقسیم ہے وہیں ہمارے درمیان عصبیت و تعصب کا زہر بھی ہے جبکہ قرآن پاک میں الله نے واضع کہہ دیا کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! میڈیا اداروں کے مالکان ہوں یا صنعت و حرفت کے مالکان, تاجر ہوں یا سیاسی سربراہان سب کے سب کا باطلی رویئوں اور ظلم و بربریت ناانصافی کے خلاف اٹھنے والےعلمبرداروں کیساتھ کیا ہم حق و سچ جانتے ہوئے بھی کھڑے ہوتے ہیں؟؟ اداروں میں کمزور طبقے یعنی ملازمین کو بلاوجہ ذہنی و مالی دباؤ کا شکار بنایا جاتا ہے تو کیا ہم اس کمزور سچے انسان کا ساتھ دیتے ہیں؟؟ کیا ہمارے قلم اور آواز باطلی آقاؤں کے خلاف مضبوطی کیساتھ کھڑی رہتی ہیں؟؟ کیا ہمارے صحافی اپنی صحافت ار اخلاقی اقدارکیساتھ طاقتور کے خلاف سچ و حق کے جھنڈے میں زیادہ دیر ٹہرتی ہیں؟؟ پھر ہم کیونکر دعوے دار ہوتے ہیں کہ ہم حسینی ہیں ہم مصطفوی ہیں اور ہم مسلم ہیں۔۔۔۔ ذرا سوچیئے گا ضرور اور خود کو تلاش کیجئے گا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔۔یاد رکھئے کہ زندگی ایک نہ ایک دن ختم ہو ہی جائیگی ہم دنیاوی عیش و عشرت کی خاطر کتنے سالوں کیلئے باطل قوتوں, منافقوں اور جھوٹوں کا آلہ کار بنیں گے یاد رکھیں حق و سچ پر قائم رہنے والے بعد از موت بھی زندۂ جاوید رہتے ہیں ان کا ذکر دونوں جہاں میں قائم و دائم رہتا ھے الله ہمیں با عمل حسینی بنائے اور حسینی موت دے آمین ثما آمین۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی


