*عنوان: کراچی کا معروف قبرستان "سخی حسن”!!*

*ٹائٹل : بیدار ہونے تک*
*عنوان: کراچی کا معروف قبرستان "سخی حسن”!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*
میں اور میرے گھر والوں کو میرپورخاص شہر سے کراچی شہر سکونت اختیار کرتے ہوئے تقریباً چالیس سال سے زائد عرصہ بیت گیا۔ یہیں میرے والد سردار حسین صدیقی علیگیرین سابق ڈی ای او، والدہ سیدہ نایاب بیگم زیدی، بڑے برادر خورشید اقبال صدیقی سابق ڈی ڈی ای او اور بڑی ہمشیرہ پروفیسر مہہ جبین صدیقی کی وفات کراچی میں ہی ہوئی اور ان سب کی تدفین شادمان ٹاؤن کے قبرستان سخی حسن میں کی گئی۔ شکر الحمدللہ کہ اس نے مجھے سعادت بخشی ھے کہ میں ہفتہ وار اپنے پیاروں کی لحد پر جاکر دعا کرتا ھوں اور قبرستان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیتا رہتا ھوں۔ اس سے قبل کہ میں یہاں کے مسائل سے آگاہ کروں اپنے معزز قارئین کی خدمت میں شادمان ٹاؤن میں واقع کراچی کا معروف ترین قبرستان سخی حسن کے بارے میں تحریر کرنا ضروری سمجھتا ھوں۔ سخی حسن کا قبرستان کراچی شہر کے نواحی علاقے میں وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے، یہ شادمان ٹاؤن میں حضرت بہزاد لکھنوی کے مزار سے شروع ہو کر نصرت بھٹو کالونی کے قریب قلندریہ چوک پر ختم ہوتا ہے۔ سخی حسن قبرستان میں مشہور اور معرف شخصیات بھی محو خواب ہیں، جن میں شعرائے کرام، اداکار، گلوگار، مصور، اور سیاسی رہنما شامل ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس میں تقریباً تین لاکھ سے زائد قبریں ہیں جبکہ یہاں مزید قبروں کی اب قطعی گنجائش نہیں۔ سخی حسن قبرستان کو حضرت مخدوم میاں صوفی سخی حسن شاہ مشرفی، رحمانی، سکندری، الہ آبادی کے نام سے موسوم کیا گیا ہے، جو گزشتہ صدی کے ایک صوفی بزرگ تھے، جن کا مزار شریف یہاں سے تقریباً تین فرلانگ کے فاصلے پر نارتھ ناظم آباد بلاک این میں واقع ہے اور اسی کی مناسبت سے قبرستان کے علاوہ اس کے ساتھ کا تمام علاقہ سخی حسن کہلاتا ہے۔ سخی حسن کے احاطے میں حضرت قلندر بابا اولیاء سلسلہ عظیمیہ کے روح رواں کی درگاہ، دارالعلوم اور آستانہ بھی موجود ہے جب کہ اس سے ذرا فاصلے پر سخی حسن چورنگی کے ساتھ حاجی جمیل عارفی سرکار کا بھی مزار مبارک واقع ہے۔ سخی حسن قبرستان میں تقریباً دو فٹ کی بلندی پر کئی کئی فٹ اونچی قبریں بنائی گئی ہیں، جن میں قیمتی پتھروں، سنگ مرمر اور سنگ سیاہ کا وافر مقدار میں استعمال کیا گیا ہے اور یہ قبریں سر سبز پودوں، بلند و بالا اور گھنے درختوں سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ سخی حسن قبرستان میں داخلے کے چار مرکزی دروازے ہیں جن میں سے تین نصرت بھٹو کالونی سے سخی حسن چورنگی کی طرف جانے والی شاہ راہ پر جب کہ ایک دروازہ عقب میں شادمان ٹاؤن کی رابطہ سڑک پر واقع ہے، اس کے علاوہ درجنوں چھوٹے چھوٹے راستے موجود ہیں، جو سایہ دار درختوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ سخی حسن قبرستان میں مدفون افراد کے لواحقین نے اپنے طور سے بورنگ کرائی ہوئی ہے۔ قبرستان کا شمار شہر کے وی آئی پی قبرستانوں میں ہوتا ہے، یہاں اہم شخصیات کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے، ان ہی کی طرف سے اپنے اعزاء کی قبروں کی دیکھ بھال کیلئے گورکنوں کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جس کی وجہ سے ان کا روزگار چل رہا ہے۔ پورے قبرستان میں گھنے درخت سایہ کئے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں قبروں کے اطراف زیادہ تر تاریکی چھائی رہتی ہے۔ میتوں کی تدفین یا فاتحہ خوانی کی غرض سے آنے والے افراد بلند و بالا قبروں کی آڑ میں چھپے ہوئے لٹیروں کے ہاتھوں نقد رقومات، قیمتی اشیاء، موبائل فون سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہاں قبروں کے درمیان بجلی کے پول اور لائٹوں کی تنصیب انتہائی ضروری ہے۔ راہداری اور سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی ہیں۔ سخی حسن قبرستان کے چار دیواری برسوں قبل بارش کی نظر ٹوٹ کر ختم ہوگئیں۔ گزشتہ سال سنہ دو ہزار تیئس میں شب برات سے چند روز قبل کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار نے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کو سخی حسن قبرستان اور اطراف کی صورتحال سے تفصیلی آگاہ کیا جسے سن کر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے یقین دلایا کہ سخی حسن کی بہتری کیلئے فی الفور ہنگامی بنیاد پر فنڈ جاری کرتے ہوئے مسائل کو حل کریں گے جو تاحال نہ حل ہوسکے۔ یاد رھے کہ سینٹرل کراچی میں ڈی ایم سی کے چیئرمین عاطف علی خان ہیں جنکا جماعت اسلامی سے تعلق ھے جبکہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ھے، مانا کہ دونوں سیاسی جماعت کا سیاسی اختلاف ہوسکتا ھے مگر عوام الناس کی خدمات کو یکساں طور پر کرنا ہی ایک اچھی جمہوریت اور اچھے سیاسی رہنما ثابت کرتی ھے۔ اختلافات اپنی جگہ لیکن فلاحی امور میں باہمی تعاون ضروری ھے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی کہتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ و چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نوجوان پڑھے لکھے اور بہترین ویژن رکھنے والی شخصیت ہیں اسی طرح جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن بھی جوان پڑھے لکھے اور بہترین ویژن رکھنے والی شخصیت ہیں تو پھر وسطی کراچی بلخصوص شادمان ٹاؤن کی تعمیری امور اور سیکیورٹی کے انتظامات ناقص و ناپید کیوں؟؟ شادمان ٹاؤن سخی حسن قبرستان سمیت آئے روز ڈکیتی، چوری، رہزنی اور اسٹریٹ کرائم کے واقعات کی بہتات تھانہ نورجہاں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ھے؟؟ ایس ایس پی سینٹرل ذیشان صدیقی اور ڈپٹی کمشنر فواد غفار کی صلاحیتوں کا کوئی انکار نہیں کرسکتا تو کیا اوپر کے اعلیٰ حکام نے ان سب کے ہاتھ پاؤں باندھ رکھے ہیں۔ شادمان ٹاؤن اور سخی حسن قبرستان میں روڈ کارپیٹنگ، اسٹریٹ لائٹس، پولیس چوکیاں اور برساتی نالوں کی از سر نو تعمیر ناگزیر ہیں جنہیں ہنگامی بنیادوں پر کرنا بہت ضروری ھے، ایک بات واضع کرتا چلوں کہ کراچی بھر کا یہ واحد قبرستان ھے جسے اللہ نے اپنے کرم و فضل سے گھنے درختوں سے ڈھانپا ھوا ھے یہ کسی سیاسی و سماجی یا دینی تنظیم و گروہ کی کاوش نہیں البتہ جن نکات کی جانب سے بااختیاران ذمہداران کو آگاہ کرتا رھا ھوں انھوں نے ابتک کوئی سنجیدگی اور توجہ نہ دی ھے جو انتہائی افسوس کا مقام ھے دعا کرتا ھوں اللہ ان سب کو ہدایت بخشے کہ وہ شہر خاموشاں کی تقدس و احترام کا خیال رکھتے ہوئے لواحقین کیلئے آسانی بہم پہنچائیں کیونکہ ایک دن انہیں بھی یہیں آنا ھے۔۔۔۔!!




