کالم/مضامین

عنوان: پاکستان کا اسلامی معاشرہ ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: پاکستان کا اسلامی معاشرہ ۔۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

جھوٹ وہ زہر ھے جو کسی بھی معاشرے کو تباہ و برباد کرنے کیلئے یکتا کافی ھے معاشرہ دنیا میں کہیں کا بھی ھو جھوٹ کا بولنا کہنا لکھنا بیان کرنا قسم کھانا گوکہ کسی بھی شکل میں جھوٹ کا استعمال کینسر سے لاکھوں گنا زہریلا اثر رکھتا ھے۔ درحقیقت جھوٹ ابلیس شیطان کا سب سے بڑا اور سب سے بڑا موثر ہتھیار ھے کیونکہ جھوٹ اللہ کے ناپسندیدہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ جھوٹ ہی ھے۔ اللہ نے اپنی مقدس کتاب قرآن الحکیم میں ارشاد فرمایا اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِۚ- وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ "۱۰۵” ترجمہ: جھوٹ بہتان وہی باندھتے ہیں جو اللہ کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی جھوٹے ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں بدترین گناہ ہے۔ قرآنِ مجید میں اسکے علاوہ بہت سی جگہوں پر جھوٹ کی مذمت فرمائی گئی اور جھوٹ بولنے والوں پر اللّٰہ تعالیٰ نے لعنت بھی فرمائی ھے۔ مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَىٕنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ "۱۰۶” ترجمہ: جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو سوا اس کے جو مجبور کیا جائے اور اسکا دل ایمان پر جما ہوا ہو ہاں وہ جو دل کھول کر کافر ہو ان پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا عذاب ہے۔۔۔۔ معزز قارئین!! بکثرت اَحادیث میں بھی جھوٹ کی برائی بیان کی گئی ھیں۔حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’صدق کو لازم کرلو، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے۔ آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک صدیق لکھ دیا جاتا ہےاورجھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فُجور کیطرف لےجاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اور آدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک کذّاب لکھ دیا جاتا ہے۔ بحوالہ بخاری، کتاب الادب، باب قول اللّٰہ تعالی: یا ایّہا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وکونوا مع الصادقین، ۴ / ۱۲۵، الحدیث: ۶۰۹۴، مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ، ص۱۴۰۵، الحدیث: ۱۰۵,۲۶۰۷ ۔۔۔ معزز قارئین!!مختصر یہ کہ اسلامی معاشرہ جھوٹ، تہمت، الزام اور بہتان ترشی سے کوسوں دور ھوتا ھے اگر کوئی ایک آدھ جھوٹ، بہتان، الزام اور تہمت جیسے کبیرہ گناہ میں ثابت ھوجائے تو اس سے معاشرہ تعلقات ختم کردیتا ھے جس سے اس گناہگار کی نسل تک اثر انداز ھوتی ھے ایک دور تھا جب پاکستان میں ھمارے ہی معاشرے میں ایسا عمل ھوتا تھا تو خود لوگ اس گناہ سے بچتے تھے وہ سچ و حق پر قائم رہتے تھے۔ دنیاوی تکلیف برداشت کرلیتے تھے لیکن اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی سے ڈرتے تھے۔ ھمارے بزرگ اور والدین جس معاشرے کا حصہ رھے ہیں وہاں ضمیر اور ایمان تازہ اور روشن تھا قرآنی تعلیمات کو اولیت دی جاتی تھی اور اعمال قرآنی احکامات کے تحت استوار کیئے جاتے تھے یہی وجہ ھے کہ پاکستان کے معروض کے وقت سچے، ایماندار اور باضمیر ہندوستان کے مسلمانوں نے بیک وقت دو مذہبی طاقتور قوتوں سے نبردآزمائی رہیں اپنی مذہبی آزادی اور اسلامی نظام کے رائج کیلئے ان دو طاقتور مذہب اور سیاست میں ایک انتہا پسند ہندو دوسرے انتہا پسند عیسائی تھے۔ میں ان دونوں کو انتہا پسند اس لیئے کہتا اور لکھتا ھوں کہ تاریخ اور مورخین نے انکے حقیقی اعمال کو عیاں کر رکھا ھے۔ ان دونوں مذہبی قوتوں نے کبھی بھی مسلمانوں کے خلاف کوئی موقع، کوئی جنگ، کوئی نقصان اور کوئی کسی بھی قسم کا دقیقہ نہ چھوڑا ان قوتوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخیاں، سازشیں، مکاریاں اور دھوکہ بازیاں کرنے میں کبھی بھی نہ تھمے۔ اللہ جانتا ھے کہ یہ کفار و مشکرین کبھی بھی مسلمانوں کا بھلا نہیں چاہتے ہیں اور نہ کبھی بھی چاہیں گے اس لئے مسلمانوں کو اللہ نے قرآن میں ہدایت کردیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ "المائدة: 51” ترجمہ: ” اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ، یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک ان ہی میں سے ہے، ظالموں کو اللہ تعالیٰ ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا۔ اور سورۂ آل عمران میں ہے: لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ "آل عمران: 28” ترجمہ: ”مومنوں کو چاہیے کہ ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں، اور جو ایسا کریگا وہ اللہ تعالیٰ کی کسی حمایت میں نہیں، الا یہ کہ انکے شر سے کس طرح بچاؤ مقصود ہو، اللہ تعالیٰ خود تمہیں اپنی ذات سے ڈرا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ جانا ہے۔‘‘ سورۂ بقرہ میں ہے: وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ "البقرة:120” ترجمہ: اور کبھی خوش نہ ہوں گے آپ سے یہ یہود اور نہ یہ نصاریٰ جبتک کہ آپ ‘خدانخواستہ’ انکے مذہب کے ‘بالکل’ پیرو نہ ہوجائیں۔ ‘آپ صاف’ کہہ دیجیے کہ ‘بھائی’ حقیقت میں تو ہدایت کا وہی راستہ ہے جس کو خدا نے بتلایا ہے، اور اگر آپ اتباع کرنے لگیں ان کے غلط خیالات کا، علم ‘قطعی ثابت بالوحی’ آچکنے کے بعد تو آپ کو کوئی خدا سے بچانے والا نہ یار نکلے اور نہ مدد گار۔۔ معززقارئین!! جب کوئی انسان اپنی منزل مقصود کو فراموش کردے تو وہ زمانے میں بھٹکتا رہتا ھے یقیناً انسان کی پیدائش تا موت کی بھی ایک منزل مقصود ھوتی ھے پھر معاشرہ کی کیونکر نہیں ھوسکتی۔ ھم تو اس معاشرے میں رہتے ہیں جو دنیا کی دوسری نظریاتی اسلامی ریاست ھے جس کو اگر مدینہ ثانی کہیں تو غلط نہ ھوگا البتہ یہاں وہ نظام وہ اسلامی معاشرہ رائج نہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو دیا تھا۔ ھم سب مجھ سمیت خود کو مسلمان کہنے سننے اور کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر فخر والے اعمال نہیں اپناتے جو ہمیں ھمارے دین نے ہمیں دیئے ہیں۔ ھم ایسی قوم بن چکے ہیں جو منافقت میں سب سے آگے جھوٹ، الزام، تہمت اور بہتان تراشی میں کمال درجہ رکھتے ہیں۔ سود سے نفرت کا اظہار کرتے تھکتے نہیں لیکن اپنائیت سب سے زیادہ کرتے ہیں۔بحیثیت ایک مسلمان اور پاکستانی میں اپنے اوپر اور اپنے ضمیر کو دیکھتا ھوں تو مجھے صرف گناہ، ریاکاری، منافقت اور جھوٹ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا پھر میں کیونکر تقاضہ کروں کہ مجھے ایماندار سچے مخلص دیندار،
دیانتدار، رہبر و رہنما،
سیاسی حکمراں میسر ھوں پھر میں کس طرح کسی حقدار کا بہتر چناؤ کرکے اسے ووٹ دے سکتا ھوں یقیناٰ مجھے سب سے پہلے خود کو بدلنا ھوگا تاکہ میں پاکستان کے معاشرے کو صاف و شفاف اسلامی طرز زندگی میں لاسکوں۔ آج میں خود کو بدلوں گا کل میرے ساتھ تعلق رکھنے والے بھی خود کو بدلیں گے اور یوں کچھ ہی عرصہ میں ھم سب قرآنی تعلیمات کے مطابق اس معاشرے کو بہتر بناسکیں گے اور اس ریاست کو نظریہ پاکستان پر ڈھال سکیں یعنی اسلامی ریاست۔ شکوہ شکایت کسی سےنہیں بلکہ خود سے کرنی چاہئےاور اپنی کوتاہیوں کا فوری ازالہ کرتے ھوئے خود کو اسلامی قوانین کے مطابق ڈھالنا چاہئے۔ میرا ایمان ھے کہ تب ہی ھم اپنے بزرگوں اور تحریک پاکستان کے شہدوں اور غازیوں کا حق ادا کرسکتے ہیں۔ جب ھمارا ضمیر اور ایمان بیدار ھو جائیگا تو انشاءاللہ ھم مسمانوں کو کوئی بھی نہ خرید سکے گا اور نہ ہی رسوا و ذلیل کرسکے گا۔ ھم اپنے مثبت کردار سےپاکستان اور اسلام کی بہترین ترویج اور نمائندگی کرسکتے ہیں یہی ھمارے ملک اور مذہب کا تقاضہ ھے۔جہاد سے عشق اور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت ہی ہماری کامیابی و کامرانی کا تقاضہ ھے۔ سب سے پہلے مجھ سمیت آپ سب نے خود سے عہد کرنا ھے اپنے وجود ضمیر اور احساس و کیفیت کیساھ کہ آج کے بعد نہ جھوٹ بولنا ھے نہ الزام لگانا ھے نہ تہمت داغنی ھے اور نہ ہی بہتان تراشی کرنی ھے بس خود کی بھی اصلاح کرنی ھے اور ساتھ دوسروں کی اصلاح کیلئے دعا اور ترغیب کرنی ھے اللہ ھمیں ثابت قدم رکھے ایک بہترین پاکستانی اور سچا مسلمان بنائے رکھے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You