عنوان: مودی کا مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے حوالے سے ایک اہم اجلاس

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: مودی کا مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے حوالے سے ایک اہم اجلاس
بھارتی سرکار نے چوبیس جون سنہ دو ہزار اکیس بروز جمعرات کو مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے حوالے سے ایک اہم اجلاس بلایا ہے جس میں کشمیری رہنماؤں کو بھی دعوت دی گئی ہے جن میں محبوبہ مفتی، عمر عبداللّٰہ اور فاروق عبداللّٰہ وغیرہ شامل ہیں. اس اجلاس کے حوالے سے چہما گوئیاں شروع ہوچکی ہیں، کشمیری رہنماؤں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں کشمیر کی پانچ اگست سنہ دو ہزار انیس کی بحالی سے پہلے والی حیثیت کے علاوہ دوسرا کوئی فیصلہ قبول نہیں خیر اس کا فیصلہ آج چوبیس جون کو ہو ہی جائے گا. مودی سرکار نے آرٹیکل 370 ہٹاتے وقت جو خواب دیکھ رکھے تھے وہ خواب بری طرح چکنا چور ہوئے ہیں جبکہ اس وقت مودی سرکار شدید پریشر میں ھے اس کی بڑی وجہ ایک جانب مودی سرکار کی مجروح شدہ ساکھ مزید مجروح ہونا ہے اگر مودی آرٹیکل 370 دوبارہ بحال کرتا ہے تو، یہ ایک طرح بی جے پی کیلئے سیاسی موت ثابت ہوگی اگر بحال نہیں کرتا تو بھی مودی سرکار اس وقت جس پریشر کا شکار ہے یہ لاوا پھٹ سکتا ہے. مودی سرکار نے اپنے آقاؤں کے کہنے پر آرٹیکل 370 ہٹانے کی جلد بازی تو دکھا دی تھی کہ پاکستان ان کے چکروں میں پھنس جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا نہ تو پاکستان جنگ کی جانب گیا اور نہ ہی پاکستان نے جلد بازی میں اوٹ پٹانگ فیصلے کیے بلکہ اپنے تمام پتے ایسے کھیلے کہ مودی سرکار ہی پھنسی اور آج وہی آرٹیکل 370 مودی سرکار کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے جسے نہ مودی نگل سکتا ہے نہ ہی اُگل سکتا ہے. آج 24 جون کو مودی سرکار جو بھی فیصلہ کرے لیکن پاکستان کی جانب سے پیغام دیا جا چکا ہے کہ جو فیصلہ کرنا سوچ سمجھ کر کرنا اب آپکے ہاتھ میں ہے کہ بھارت جنگ چاہے تو بھی پاکستان کی تیاری مکمل ہے اگر امن کی جانب چل کر مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو بھی پاکستان حاضر ہے لیکن ہر صورت میں پہلے کشمیر جبکہ دوسری طرف چین بھی لداخ کے معاملے پر تیار بیٹھا ہے…..!!
کالمکار: جاوید صدیقی



