عنوان: من حیث القوم اور امت کہاں کھڑے ھیں۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: من حیث القوم اور امت کہاں کھڑے ھیں۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
کل کائنات میں صرف اللہ واحد لاشریک کی مخلوق ھیں۔ منشاء خداوندی سے اگر کائنات یا ارض و زمین پر تبدیلی واقع ھوجاتی ھے تو وہ اللہ کے علم اور اجازت سے واقع ھوجاتی ھیں۔ کہیں آزمائش تو کہیں پکڑ کی صورت میں۔ اللہ نے شیطان و ابلیس اور اسکے چیلوں کو تاقیامت طاقت اور کھلی چھٹی دے رکھی ھے وہ جس طرح چاہیں جیسے چاہیں اللہ کے بندوں کو گرفت کرنے پریشان و مصیبت میں ڈالنے کی طاقت رکھتے ھیں تاکہ بعد روز محشر یہ نہ کہہ سکیں کہ اے اللہ تو نے ہمیں باندھے رکھا تھا ہاں اللہ صرف ایک ماہ یعنی ماہ رمضان میں تمام شیاطین کو قید کرلیتا ھے سوائے انسانی نفس کو کیونکہ یہی انسانی نفس بندہ کو اللہ سے ملادیتا ھے اور یہی شیطان و ابلیس کا غلام بھی بناتا ھے فیصلہ کا آزادانہ حق اللہ نے اپنے بندوں کے سپرد کیا ھوا ھے البتہ رہنمائی ہدایت اور راہ راست کی ترغیب کیلئے انیباء کرام مبعوث کئے اور اپنے اول و آخر محبوب و عاشق کائنات کے والی و رحمت اللعالمین کو شرف بخشا کہ جو آپ کی غلامی میں آجائے اسے آپ ﷺ رب کی تمام نعمتیں برکتیں فضل و کرم عطا کرتے رھیں بناء وسیلہ رسول پاک ﷺ اک ریت کے زرہ کے برابر کچھ نہیں مل سکتا یہی وجہ ھے کہ اللہ نے کائنات کو بتادیا کہ وہ کس قدر نبی کریم محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت کرتا ھے کہ خود درود و سلام پڑھتا ھے اور اپنی تمام مخلوقات کو بھی کرنے کا حکم صادر کرتا ھے۔ ھمارے اور آپ کے دل و جاں سے کہیں زیادہ عزیز ھم اور ھمارے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان کہ اللہ کا احسان عظیم ھے کہ اس نے ھمیں اپنے محبوب آخری نبی و پیغمبر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت میں پیدا کیا ھے۔ امت محمدی ﷺ تمام امت میں سب سے معتبر اور عظیم ھے۔ اب سوال یہ پیدا ھوتا ھے کہ آج کے زمانے کے ھم امتی کیا رسول اللہ ﷺ کی اطاعت گزاری میں مکمل ھیں؟؟ کیا ھم سنت رسول ﷺ پر سختی سے کاربند ھیں ؟؟ کیا ھم نے اپنی ریاست اور مملکت کو اسلامی نظام میں ڈھالا ھے ؟؟ کیا ھمارے معاشرے اور ھمارے ملک میں عدل و انصاف کا دور دورہ ھے؟؟ کیا ھم اور ھماری ریاست و حکومت سود و شراب سے پاک ھے؟؟ کیا ھم اور ھماری ریاست و حکومت اپنے ہر کام اور امور سچ و حق کیساتھ سر انجام دیتے ھیں؟؟ اگر ہاں تو ھم خوش نصیب ھیں کہ ھم مسلمان اور ایماندار ھیں اور اگر نہیں تو پھر ھم مسلمان بھی نہیں یاد رکھیں مسلمان صرف کلمہ پڑھنے کیلئے ہر گز نہیں ھوتا اسے کلمہ کے بعد اپنی زندگی کو پر مکمل استوار بھی کرنا ھوتا ھے۔ آج ھم امت مسلمہ کافرین و مشرکین کی اطاعت اور غلامی کرکے خود کو معتبر سمجھتے ھیں جبکہ یہی کافرین و مشرکین اصول اسلام نظام اسلام کو اپنا کر دنیا پے راج کررھے ھیں۔ ھم من حیث القوم اور امت اپنے دین سے اس قدر دور ھوچکے ھیں کہ ھمیں اس بات کا علم بھی نہیں ھوتا کہ ان اعمال سے ھمارے دین کو کس قدر بدنامی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ھے۔ ھم میں اللہ کا ڈر اور احساس شرم تک نہیں کرتے بلکہ یہی کافر و مشرک ھمیں کہتے ھیں کہ ھم بے شرم و بے حیا اور بدکردار ھوچکے ھیں کہ ھم نے ہر نبی و پیغمبر کے امتیوں کی برائیاں اپنالی ھیں اور اپنے نبی ﷺ سے منہ لیا ھے آپ بتائیں اس صورتحال پر ھم پر اللہ کی پکڑ ھوگی کہ نہیں۔ اپنے ایمان کی حفاظت کیجئے اپنا ایمان بچائیں یہی اصل کامیابی و کامرانی ھے، ذرا خود کو پہچانئے کہ ھمارا کیا مقام و مرتبہ اللہ نے اپنی مقدس کتاب قرآن المجید میں دیا ھے کیا ھم اپنے انداز طریقہ کار، کردار و افعال سے ثابت کرسکتے ھیں کہ ھم اس نبی ﷺ کی امت ھیں جنھیں عرش مولیٰ کی سیر کرائی خود اللہ نے اپنا دیدار کرایا جنھیں اللہ نے کہا رحمت العالمین یعنی جہاں جہاں رب اللعالمین ھے وہاں وہاں رحمت اللعالمین بھی ہیں اپنی تمام مخلوق کو عرش پر آخری نبی ﷺ کو مدعو کرکے تمام اعتراضات سوچ تحقیق کو بند کردیا۔اب ھم سب دیکھیں کہ من حیث القوم اور امت ھم سب کہاں کھڑے ھیں۔۔۔!!


