عنوان: مملکت اسلامیہ پاکستان کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: مملکت اسلامیہ پاکستان کیلئے اپنا کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔۔!!*
*کالمکار : جاوید صدیقی*
ان خوارجی حکمرانوں جنکا لگتا ھے دین محمدی ﷺ سے بس اتنا ہی تعلق ھے کہ وہ مسلمان اور محمدی ﷺ کے جذبات و احساسات سے اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل بھرپور انداز سے کرلیں عنقریب پاکستانی قوم مکمل تباہ و برباد ھونے جارھی ھے کیونکہ ان سیاستدانوں اور حکمرانوں نے آئی پی پیز کے بھیانک چنگل میں مکمل دو ہزار چوون تک پھنسا دیا ھے لیکن تعجب و حیرت ھے تمام سابقہ و حاضر جنرلز اور اسٹبلشمنٹ پر کہ وہ یہ ریاست و ملک اور قوم کیساتھ کھیل ہوتا ھوا دیکھتے رھے اور چپ سادھ لی انکی اس کمزوری کے سبب غداران وطن بد ترین مافیاء بن کر وطن عزیز کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ صدر آصف زرداری نے ایک وقت کہا تھا کہ تمہاری اینٹ سے اینٹ بجادیں گے انہیں تو کچھ نہ ہوا البتہ ملک و قوم اور ریاست کی اینٹ سے اینٹ بج گئی۔ دوسری جانب سرفروشان اور مجاہدین اسلام اپنی اسلامی ریاستوں اسلامی تشخص اور دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی سرخرو کیلئے جام شہادت نوش فرما رھے ہیں۔ فلسطین کی آزادی ہو یا مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی رحمٰن کے بندے و عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ سبحان تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل میں جان و مال کی قربانیوں کا سلسلہ تواتر سے جاری رکھے ہوئے ہیں جو انشاءاللہ قیامت تک جاری رہیگا ۔۔۔۔ معزز قارئین!! اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنے والوں کی شہادت ایک عظیم سعادت ہے اور پھر اگر شہادت منافقین کی سازش سے یہودیوں کے ہاتھوں ہوئی ہو تو اس شہادت کا وزن اور بڑھ جاتا ہے۔ اسرائیل کو فلسطین کی جنگ میں عبرتناک شکست اور ذلت اٹھانی پڑیگی انشاءاللہ۔ اسرائیل دنیا کو اپنا منہ دکھانے کیلئے کسی بڑی کامیابی کی ضرورت محسوس کرتا ہے اسکے یار امریکہ کام آرھا ھے اسی سبب اسرائیل کو جو معمولی کامیابی مل گئی مگر یہ کامیابی بھی اسکی مزید ناکامیوں کا پیش خیمہ بنے گی، ھم مجاہدین فلسطین کیساتھ انکے اس غمگین صورحال میں شریک ہیں۔ ہم انہیں بیک وقت مبارکباد اور تعزیت پیش کرتے ہیں اور انہیں دل سے مطلع کرتے ہیں کہ ہماری جانیں اسلام کے غلبہ ختم نبوت، ناموس رسالت اور مسجد اقصیٰ کی حرمت، فلسطین اور کشمیر کی آزادی اور پاکباز شہداء کرام کے انتقام کیلئے حاضر ہیں ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! پاکستان روئے زمین پر اسلام کی سر بلندی کیلئے بنایا گیا ھے۔ اسی لئے پاک افواج کو دنیا کی بہترین پروفیشنل افواج بنایا تاکہ کافر و مشرکین اور غیر مسلم دشمن وطن عزیز پاکستان کی افواج سے خوف زدہ رہیں، ان ستاون اسلامی ممالک میں صرف پاکستان ہی ایٹمی طاقت سے مزین ھے، پاکستان کے مشرق میں بدترین دشمن بھارت بھی ایٹمی طاقت رکھتا ھے جبکہ شمال میں چین بہترین دوست سپر پاور اعلیٰ ترین ایٹمی طاقت کا حامل ھے۔ پاکستان سنہ انیس سو ستنتالیس میں وجود میں آیا لیکن سنہ انیس سو اڑتالیس میںا پاک بھارت جنگ ہوئی مختلف اوقات میں چھوٹی بڑی جنگ مختلف اشکال میں ہوتی رہی۔ عصر حاضر میں اس جنگ میں عوام کو بھی براہ راست شامل کرلیا گیا ھے وہ ھے پریکسی وار شوشل میڈیا وار پروپیگنڈہ وار برین واش وار ان ناموں سے پہچانا جاتا ھے۔ بھارت نے کبھی بھی تن تنہا جنگ نہیں کی ہمیشہ پاکستان کے ازلی دشمن اسرائیل اور اسرائیل کے باپ امریکہ کو ساتھ ملاکر کی۔ پاکستان کی بدقسمتی رہی کہ اسے اسکے اصل مقاصد کی جانب بڑھنے نہیں دیا غلامانان ذہنوں نے ہمیشہ قوم کو بھٹکایا گمراہ کیا اور اصل دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے دور رکھا۔ انکی سازشوں کے سبب اس ملک میں اسلام مخالف نظام قائم رھا ھے جبکہ یہاں کا نظام "نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم” پر ہونا تھا اور ہونا چاہئے۔ ان مرتد اور منافق سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ذاتی و نفسانی خواہشات کی خاطر قوم کو تقسیم در تقسیم کرتے رھے مرواتے رھے لوٹتے رھے اور اپنے اداروں اور عظیم بہادر افواج کے خلاف اکساتے رھے انکی جاہلیت اس قدر بڑھ گئی کہ اپنی ذاتیات پر قربان ہونے والوں کو شہید کہلوایا اور شہادت کی تختیاں لحد پر نصب کیں جبکہ قرآن و حدیث میں صاف صاف واضع ھے کہ شہادت کا رتبہ صرف اللہ کی راہ میں قربان ہونا ھے یعنی اللہ کی راہ میں دشمن سے لڑتے ہوئے جان دینا۔ یہ ظالم سیاستدان و حکمران فرعون شداد نمرود اور یزید کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ پاک افواج غیر مسلموں اور خوارجیوں کے خلاف جنگ لڑتی آرہی ھے۔ یہ خوارجی اور غیر مسلم دین محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کررھے ہیں اس لئے پاک افواج کا ہر فرد اس جنگ میں لڑتے ہوئے مرے گا نہیں بلکہ شہید ہوگا اور کہلائے گا۔۔۔۔ معزز قارئین!! دال چاول میں بھی ایک آدھ کنکر آجاتے ہیں تو اسے نکال باہر کردیا جاتا ھے پانی سے دھوکر پھر نکھار لیا جاتا ھے اسی طرح اگر ایسا ہی کوئی کنکر افواج میں آجائے تو اسکا عمل انفرادی سمجھا جائیگا اجتماعی ہرگز نہیں۔ قائد اعظم اور کچھ بعد کے عرصہ میں پاک افواج میں اعلیٰ منصب پر قادیانی بھی تھے اسکا اس وقت بھی ہرگز مطلب یہ نہ تھا کہ پوری فوج قادیانی ہو لیکن شکر ھے اللہ کا کہ پاک افواج میں اب قانون کے مطابق اس بابت اچھی طرح چیک کیا جاتا ھے اور بھرتی کے فارم میں کالمز بھی موجود ہیں لیکن ریاست کی باگ دوڑ سنبھالنے والوں کیلئے نہ کوئی جانچ پڑتال، نہ حسب و نسب، نہ قابلیت و اہلیت، نہ دینی علوم و رغبت، نہ نفسیات و کردار کے متعلق جانچ پڑتال یہی سبب ھے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم نواب لیاقت علی خان کے بعد سے لادین، بدعقیدہ، کمیونسٹ، دھریئے اور منافقوں کی تواتر حکمران آتے رھے بٹھائے جاتے رھے۔ میرا سوال آرمی چیف، چیف جسٹس اور مفتان پاکستان سمیت تمام شیوخ اسلام سے ہے کہ ریاست پاکستان میں شرعی نظام رائج کرنے میں آخر کیا قباحت ھے، کیا آپ سب اللہ تبارک تعالیٰ اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دہ نہیں کہ منصب اعلیٰ پر ھونے کے باوجود اسلامی نظام کو مروج کرنا آپ پر فرض العین ذمہداری ھے کیونکہ جمہوریت اسلام کی ضد اور اسلام مخالف نظام ھے۔ من حیث القوم ھم سب کو ریاست پاکستان کو مملکت اسلامیہ پاکستان بنانے کیلئے اپنا اپنا انفرادی کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا بصورت روز قیامت ھم سب گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوکر گناہگاروں کی صف میں کھڑے ہونگے۔



