کالم/مضامین

عنوان : معروف سینئر صحافی ایم ایس قریشی سے ملاقات

*ٹائٹل : بیدار ھونے تک*

*عنوان : معروف سینئر صحافی ایم ایس قریشی سے ملاقات*

*کالمکار : جاوید صدیقی*

گزشتہ دنوں ھم نے اپنے سینئر صحافی دوست محمد صغیر قریشی المعروف ایم ایس قریشی صاحب سے ملاقات کی، آج کا کالم انہی کے نام پیش خدمت ھے۔ ہمارے دوست اور قلیق صحافتی دنیا کے نامور کئی اشاعتی بییرز کے مدیر اعلیٰ بھی رھے اور کئی جرائد و اخبارات کی ڈیکریشن بھی ھیں ۔ آپ سنہ انیس سو ساٹھ، ستر، اسی ، نوے اور دو ہزار عیسوی کی دھائی میں پرنٹ میڈیا میں بہت متحرک صحافی رھے ہیں، آپ نے رپورٹنگ سے مدیر اعلیٰ تک کا سفر بہت محنت ، لگن ، جستجو اور مہارت و قابلیت ، ذہانت اور سب سے بڑھ کر اللہ کی مہربانی ، کرم ، فضل اور نوازشوں کی بدولت حاصل کیا ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! سینئر صحافی ایس ایم قریشی مجھ سے مخاطب ھوکر کہتے ھیں، بیدار ھونے تک کالم اور بیدار نیوز جوکہ ایک کالم کا ٹائٹل ھے اور دوسرا بیدار میرا ویب نیوز چینل ھے، آپ کے متعلق میں کہتا ہوں کہ جو کام بڑے بڑے جاگیر دار ، سرمایہ دار ، نام نہاد سیاست دان حتیٰ کہ حکومتیں نہ کر سکیں وہ کام ہمارے ملک کے ایک عام سے عامل صحافی ، دشت سیاست کے راہ رو ، وطن عزیز سے بیروزگاری کے خاتمے کی جدو جہد قومی سطح پر اجاگر کرنے کے باضابط منصوبہ بندی کے تحت ، یونائیٹڈ جاب لیس پیپلز ویلفیئر ایسوسی ایشن (رجسٹرڈ) کے نام سے بیروزگاری کے سدباب کیلئے اداریہ قائم کیا ، اسکے ساتھ جابس ، یونائیٹڈ اینڈ سروس ٹرسٹ جسٹ رجسٹرڈ کروایا۔ مفاد عامہ کے لا تعداد ، سماجی فلاحی ادارے ، انجمنںیں ، اسکول، کالجز ، مساجد ، مدارس کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیا۔ لیبر یونینیں بنوائیں، صارفین ویلفیئر کونسل ، نیشنل ویلفیئر کونسل ، ایڈوکیٹ ابرار خان بلوچ کے ساتھ تحریک روغ شعائر اسلامی ، تنظیم دفاع پاکستان میں کام کیا، ایچ بی ایف سی سودی نظام کے خلاف بھرپور مہم چلائی اور لا تعداد سماجی سیاسی و فلاحی اداروں کے سرپرست و روح رواں آج بھی ہیں، اپ پاکستان کی وہ واحد شخصیت ہیں ک ضلع وسطی میں ، نارتھ کراچی میں عوام کی سہولت کیلئے نادرہ سے باضابط شناختی کارڈز کے اجراء کیلئے اپنے ذاتی نام پر شناختی کارڈ آفس کی منظوری لی اور بعد ازاں وہ آفس نارتھ کراچی ٹاؤن آفس بلڈنگ میں منتقل کرواکر سرجانی ، نیو کراچی ، نارتھ کراچی اور ملحقہ آبادیوں کیلئے شناختی کارڈ کا حصول ممکن بنایا یہی نہیں بلکہ اورنگی ٹاؤن کے ہزاروں گھرانوں میں آپکے دستخطوں کے تصدیق شدہ شناختی کارڈ ہیں اور یہ منہ دیکھے کی بات نہیں یہ ریکارڈ پہ موجود ھے ، ایس ایم قریشی گزشتہ چار دہائیوں سے اخبارات و رسائل میں آپکی سماجی ، سیاسی ، معاشرتی و فلاح بہبود سے متعلق جدوجہد اور1 کاوشیں تواتر سے شائع ہوتی رہی ہیں اور ہمیں یہ کہنے میں قطعاً کوئی عار نہیں کہ ماشا اللہ ، بلا مبالغہ آپکی شخصیت فی زمانہ قحط الرجال میں چھپے رستم کی زندہ مثال ہے
جو کام بڑے بڑے جاگیر دار ، سرمایہ دار ، نام نہاد سیاست دان حتیٰ کہ حکومتیں نہیں سوچ سکیں وہ اپ نے بڑی سادگی سے سر انجام دے دیئے ، اور یہ سب تاریخ کا حصہ ہے ، دنیا کچھ بھی کہے مگر ھم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپکے براہ راست شہید جنرل ضیاء الحق سے بہت اچھے تعلقات تھے ، اجتماعی فلاح و بہبود کے بہت کام لئے ، پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا کام آپ نے یہ لیا کہ آپ نے ان سے ، پولیس ریفارمز کرائے ، پولیس کے گریڈ ون سے
گرینڈ پانچویں کی گذارشات ، آپ ہی نے مولانا تنویر الحق تھانوی صاحب کے توسط سے منظور کروائیں، سرکاری اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات جماعت اسلامی کے ایک وزیر صحت ، اطہر صدیقی سے ہزاروں غریب مریضوں کا سرکاری خرچ پر علاج معالجہ بہم پہنچایا ، سابق وزیراعظم پاکستان مرحوم محمد خان جونیجو سے نئی روشنی پروگرام میں بلا تفریق ، لوگوں کو سینکڑوں ملازمین دلوائیں ، صرف کراچی میں تین سو ساٹھ سے زیادہ بلا رشوت و خرچہ ایچ ایس ٹی , ٹیچروں کے اپائٹمنٹ کروانے ، جی ایم سید صاحب کی بھی آپکو خصوصی شفقت حاصل رہی، پیر پگاڑا صاحب سے بھی آپکا قلبی تعلق رہا، بلکہ انیس سو ستر اکہتر عیسوی کے عام انتخابات بمقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی ۔۔۔ مسلم لیگ میں آپ تعلقہ میہڑ ضلع دادو ڈویژن لاڑکانہ سے الیکشن مہم میں آپ بڑے پیر سائیں کے ساتھ رہے ، آپکی جدوجہد کی ایک طویل تاریخ ھے ۔۔ خاندانی مسلم لیگی ھونے کے ناطے بھی ایک وسیع و مقتدر سیاسی حلقہ آپکو میس رہا، شہید غلام حیدر وائن وزیر اعلیٰ پنجاب ، مرحوم فدا محمد خان، صدر پاکستان مسلم لیگ ، مرحوم اقبال احمد خان سیکریٹری جنرل پاکستان مسلم لیگ ، شہید حکیم سعید سابق گورنر سندھ ، مرحوم جام امیر علی خان ، جام صادق وزیر اعلیٰ سندھ ، سید عبداللہ شاہ صاحب مرحوم وزیراعلیٰ سندھ اور خاص طور پر شہید محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ۔۔۔ بینظیر بھٹو صاحبہ کی آپ پر خصوصی عنایات رہیں انہوں نے بھی آپکی گذارشات پر نارتھ کراچی میں متعدد اسکول و کالج منظور کئے ، کھیل کے میدانوں کی ترقی اور تعمیر کیلئے کروڑوں روپے کے فنڈز دئیے ، کئی کھیل کے میدان قبضہ ما فیا سے واگزار کرانے ، میہڑ اور اسکے ساتھ پورے سندھ میں ٹیکنیکل کالجز تعمیر کروانے کا اعزاز بھی آپکو ہی حاصل ھوا اور یہ تمام کارنامے انجام دینے کے باجود آپ پر کہیں کسی بھی قسم کے ذاتی مفاد یا کرپشن کا کوئی حوالہ نہیں ھے اس تمام تر
تمہیدِ کے پس پشت یہ سوال بڑی شد و مد سے حیران کر رہا ہے کہ مفاد عامہ کی جستجو کا متلاشی بجائے وقت حاضر اور
ہر دور میں ممکنہ طور عنان حکومت پر متمکن رہنے والی جماعتوں کا حصہ بننے اور بنے رہنے کے حتمی مواقع حاصل ھونے کے باوجود کسی غیر معروف و نومولود سیاسی جماعت کا حصہ بننے کی وجوہات سمجھ نہیں آرہی ؟ آپکا حلقہ احباب اور عوام الناس اس کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک کی بد نصیب ، نسل درنسل ، منتقل یزیر موروثیت زدہ ، جمہوریت کے لبادے میں، گزشتہ پون صدی سے ملفوف مکروہ طرز حکمرانی نے قوم کو معاشی و معاشرتی بدحالی ، انتشار ، عدم استحکام ، عصبیت کو فروغ ، اپنے ہی اداروں کے خلاف نفرتیں ، کدورتیں ، دشمنی، یہ سب کیا ھے ؟ اور سب سے بڑھ کر شیطان کی آنت سے طویل مہنگائی ، بیروزگاری ، مملوک الحالی ، کبھی ادا نہ ہوسکنے والے ھولناک حد تک سود در سود ، نسل در نسل بیرونی قرضہ جات کی بھرمار ، عوام فاقہ کی شکار ، سیاست دان اور قیادت مال و دولت کی فراوانی سے دنیا کے امیر ترین لوگوں سے مقابلہ کی دوڑ میں نمبر ون آنے کی جستجو میں سر گرداں ؟
حرض و ہوس و مال و دولت کے پجاری ، ملک و قوم پر گزشتہ نصف صدی سے مسلّط یہ حکمران کسی طور مخلص، محب الوطن اور مظلوم عوام کے ہمدرد اور وفادار کہلانے کے مستحق نہیں ہوسکتے اور یہی وہ تلخ ترین سچائی ھے کہ میرے جیسا کوئی بھی زی شعور اور موت کے بعد آخرت میں یوم حساب پر یقین رکھنے والا مسلمان کسی بھی ایسی سیاسی پارٹی کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا جنکے دور اقتدار میں عوام کی اکثریت فاقہ کش کی باعث مہنگائی ، غربت اور بھوک و افلاس سے مجبور ہوکر بچوں سمیت خودکشیوں پر مجبور ہوں آور ہم پر مسلط تمام پارٹیوں کے سربراہ و عہدیداران عیش و تعیش میں مدہوش ھوں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ ھمارے دوست ایم ایس قریشی جیسا الحمدللہ ، طمع و حرص و ہوس سے عاری ایک صحافی اور سوشل ورکر کس پارٹی کی قیادت میں جائے وہ حبیب جالب صاحب مرحوم کے بقول ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ھے۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی یعنی میں نے ان سے سوال کیا کہ آپکے خیال میں عام لوگ اتحاد پارٹی آپکے معیار کی کسوٹی پر پورا اترتی ہے ؟ تو ایم ایس قریشی نے جواب دیتے ھوئے کہا صدیقی بھائی اصولی طور پر ہر ادارے کی کامیابی کی ضمانت اس ادارے کے سربراہ اور منتظمین کا مخلص ہونا بنیادی ضرورت یعنی شرط اول ہے ۔ چہ جائے کہ حکومت کے سربراہان اور اعلیٰ حکام کا ملک وقوم سے مخلص ، ایماندار اور محب الوطن نہ ھونا کسی المیہ سے کم نہیں، قیادت کا مخلص ، دیانتدار ، قابل ، نڈر ، نہ جھکنے والے نہ بکنے والے ، قائدین کا ھونا پارٹی کی کامیابی کیلئے لازم و ملزوم ھے۔ عام لوگ اتحاد کے بانی و قائد کوئی عام شخصیت نہیں ہیں بلکہ علمی قابلیت کے اعتبار سے انتہائی تعلیم یافتہ اور ماہر قانون ، سندھ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس ، سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جسٹس ، پرویز مشرف مرحوم کے مارشل لاء اور آئین پاکستان کے تحفظ کی خاطر غیر آئینی صدارتی احکامات کی مخالفت کرنے کا علمی مظاہرہ کرنے کی جرأت رکھنے والے رہنما کی قیادت کا انتخاب ہی دراصل میرے لئے ایک اعزاز ہے نیز دیگر قیادت جیسے کہ ، ڈاکٹر امجد صاحب ، کموڈور ریٹائرڈ سدید انور ملک کاشر ، چیف آرگنائزر محمد ہلال عثمانی ، سیکٹری جنرل زین العابدین المعروف زین افغان ، مرکزی رہنما ڈاکٹر سید علی سلمان اور دیگر قائدین صبر اپنی ذات میں انجمن اور معاشرتی اعتبار سے گوہر نایاب ھیں اور مجموعی طور پر یہ سب ملک و قوم کیلئے ایک سرمایہ ثابت ھوں گے انشاء اللہ ۔۔۔ جاوید صدیقی صاحب عام لوگ اتحاد کو آپ کی اور آپکے چینل بیدار نیوز کی خصوصی سپورٹ و سرپرستی کی ہمہ وقت ضرورت رہے گی۔ جی ایس ایم قریشی آپ اچھی طرح سے واقف ھیں کہ جو وطن عزیز پاکستان ، پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کیلئے مخلصانہ ہمدردانہ سچائی و ایمانداری کیساتھ بڑھے گا اور ھماری افواج کا تقدس و احترام دل و زبان پر قائم رکھے گا اس کیلئے دامن سخن بدن قلم سو ہر سو ہمہ وقت خدمت کیلئے تیار رہونگا میرا مقصد میری زندگی میرا محبوب میرا وطن ھے۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You