عنوان: معاشی لٹیروں کو کون لگام دیگا۔۔۔۔ ؟؟؟
عنوان: معاشی لٹیروں کو کون لگام دیگا۔۔۔۔ ؟؟؟
تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی
دنیا کی تاریخ شاہد ھے کہ ریاستیں اور ممالک کسی جنگ سے اس قدر کمزور اور تباہ نہیں ھوتیں جس قدر معاشی بدحالی لوٹ مار اور قومی خذانے کی بے دریخ استعمال اسے نیست و نابود کردیتا ھے۔ پاکستان میں سنہ انیس سو اکہتر کی جنگ کے بعد قائم ھونے والی جمہوری حکومت نے بدنیتی بدکرداری کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ ایک جانب صوبے تنزلی کا شکار ھوتے چلے گئے تو دوسری جانب وفاق کمزور سے کمزور تر ھوتا چلا گیا۔ اُسی دور حکومت کے حکمران نے مورثی سیاست اور مورثی جمہوریت سمیت ایلیٹ طبقہ و بادشاہی نظام کو جمہوری زیب تن کرکے اپنی قوم کو خوب بیوقوف بنائے رکھا۔ اس قوم کو آہستہ آہستہ اسی جمہوری نظام کے تحت بنیادی ضرورتوں سے محروم کیا جانے لگا اور مہنگائی دھیرے دھیرے بڑھنے لگی جس کا احساس قوم کو بہت دیر میں ھوا جب پانی سر سے بلند ھوا وہ اس طرح کہ قومی خذانے کو باپ کی جاگیر سمجھتے ھوئے ان حکمرانوں اشرفیہ اور نوکر شاہی طبقہ نے بے دریخ استعمال کرنا شروع کیا اور یہودیوں سے قرض در قرض لیکر قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جگڑتے رھے اور اب قوم بدترین جگڑ چکے ھیں۔ افسوس کہ ان حکمرانوں کی نسلوں نے بھی خوب اقتدار پر برجمان رھے عیش و تعیش کرتے رھے اور تاحال کررھے ھیں۔ سونے پے سہاگہ کہ موجودہ زمانے میں ان جیسے بیشمار سیاسی رہنما جو مکمل گندے انڈے ہیں مزید کئی اکھٹے اور جمع ھوگئے۔ بھیڑیئے، گد اور کتوں کی طرح پاکستان کو نوچنے ڈبونے میں جتھ گئے ھیں اسی سبب اب صورت حال یہ ھے کہ پاکستان کی کانپیں ٹانگ رھی ھیں اور عنقریب یہی صورتحال رھی تو پوری قوم کانپیں گی ایک دوسرے کا خون چوسیں گیں، بوٹیاں نوچیں گیں گویا نہ تحفظات ھونگے اور نہ ہی جینے کیلئے اجناس۔ یہ ظالم اور ملک دشمن، دشمانان پاکستان سے پاکستان کا سودے پر سودا کررھے ھیں لیکن محبان وطن گہری نیند سورھے ھیں، ھمارے خفیہ اور جانثار بھی غفلت کی نیند لیئے بیٹھے ھیں۔ سول سرونیٹ ھوں یا عسکری سب کے سب تماشائی بنے تالیاں بجا رھے ھیں۔ افسوس صد افسوس کسی میں جذبہ حب الوطنی اور جذبہ ایمانی بیدار نہیں ھورہا کہ ان بربریت پھیلانے والوں، ظلم و تشدد اور قتل و غارت گری کرنے والوں، عزت و آبرو کو تار تار کرنے والوں، حق و سچ پر قدغن لگانے والوں کو کھلی چھٹی دیدی گئی ھے۔ ظلم اپنے عروج پر پہنچ چکی ھے اور ان ظالموں کو سب سے زیادہ میڈیا نے تقویت بخشی یاد رھے میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ھوتا ھے جب میڈیا ہی مکمل پرگندہ اور ملک دشمن بن جائے اور سہولتکاری میں اپنا کردار ادا کرے تو لازماً فوری محبان وطن کی ذمہداری عائد ھوتی ھے کہ وہ میڈیا کو ریاستی اصول اپنے طریقہ سے سمجادیں اور ان سب کا سالانہ آڈٹ پر پابند کردیں کہ آیا دولت کہاں سے آرھی ھے اور کہاں جارھی ھے یہ عمل فی الفور عدالت عظمیٰ کوملک و قوم کی بقاء کیلئے از خود نوٹس لینا چاہئے اب تو سرے عام کھلے عام واضع ھوچکا ھے کہ بڑے چینلز اپنے ذاتی مفادات کو ملک و قوم پر ترجیح دیتے ھیں جو ریاست و آئین و قانون کی کھلی خلاف ورزی ھے اور غداری کے زمرے میں آتا ھے۔ محبان وطن کی بے حسی اور لاپروائی کے بعد میں سمجھتا ھوں کہ اب تو صرف اللہ ہی ان جابروں، ظالموں، معاشی قاتلوں اور جمہوری حکمرانوں پر قہر عظیم نازل کرے گا کیونکہ پاکستانی قوم بھی اللہ ﷻ و رسول اللہ ﷺ کو فراموش کرچکے ھیں جبھی تو ھر وہ کام پاکستان میں آزادانہ ھورھا ھے جس کی سخت ترین ممانعت قرآن و حدیث میں آئیں ھیں۔ میرا محبان وطن، جانثاران وطن کو یہی مشورہ اور نصیحت ھے کہ وہ وقت ضائع کئے بغیر فوری بیدار ھوجائیں بصورت تاخیر سے ایک جانب آپ کا وجود یہ منافقین سہولتکار اور دشمانان پاکستان کے ایجنڈ ختم کردیں گے تو دوسری جانب پاکستان چکنا چور ھوسکتا ھے جیسے شیشہ بریک ھونے پر بکھر جاتا ھے دعا کرتا ھوں کہ اے اللہ اس قوم کو، محبان وطن اور جانثاران وطن کو فوری بیدار کردے اور انہیں ان ظالموں، لٹیروں، قبضہ گیروں، لینڈ مافیاؤں، سازشی عناصروں، سہولتکاروں اور ایجنڈوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی طاقت و عزم عطا کردے تاکہ ھمارا وطن پاکستان شاد و آباد خوشحال اور ترقی کی جانب گامزن ھوسکے آمین یا رب اللعالمین۔۔۔۔۔!!



