کالم/مضامین

عنوان: فٹ پاتھ، سروس روڈ برائے فروخت

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان: فٹ پاتھ، سروس روڈ برائے فروخت۔۔۔!!*
*تحریرجاوید *

زمانہ حال میں ریاست بے معنی اور بے وقعت ہوچکی ھے آئین میں موجود قوانین بااختیار افسران نوکرشاہی اور اشرفیاء کے تلوؤں میں رونتی دکھائی دے رہی ھے، ایک جانب تھانے جرائم کی منڈیاں تو دوسری جانب لوکل گورنمنٹ اور صوبائی حکومت کے کمشنرز اور انکے دفاتر مافیاؤں کا گڑھ بن چکا ھے یہی وجہ ھے کہ خریدنا ہو تو ضلعی انتظامیہ کے دفتر یا ٹاؤن آفس اور متعلقہ تھانوں سے بھی رجوع کیا جاسکتا ھے یہی نہیں بلکہ چوراہوں پیٹرول پمپس اسپتال بینک اسکول ہوٹلز پکوان ہاؤس مسجد و امام بارگاہوں کی راہداریوں اور برج کے نیچے حصہ میں گداگری کا ٹیکھہ بھی صرف چند کڑور کے عوض حاصل کرسکتے ھیں۔ ان تین ضلعی مالکان تھانہ ، بلدیہ اور ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کریں۔ پہلے آپ سے دھینگا مستی نوراکشتی دھوبی پٹکا ہوگا پھر فائن یا چالان کی صورت میں *فٹ پاتھ ، سروس روڈ* باقاعدہ آپکے نام ہوگی۔ پہلے کاغذ میں تین فٹ فٹ پاتھ نام کی گئی ہو لیکن فٹ پاتھ پوری آپکی ہوگی۔ اب مافیا کی مرضی ھے کہ وہ انڈاہ دے یا بچہ، فٹ پاتھ پر دیگیں گاڑے، پوری گرین بیلٹیں اجاڑے کوئی مسلہ نہیں، ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کچھ ایس ہی ہے۔ افسر شاہی کے پریشر میں آجانے کا مشہور تھا لیکن یہاں منتخب سیاسی نمائندگان بھی پریشر کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔ جن جن جگہوں پر انسداد تجاوزات آپریشن ہوا ان سب کو ایک ایک کرکے فائن اور چالان کے عوض دوبارہ قبضے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ پتھارہ مافیا پر منحصر ہے کہ وہ فٹ پاتھ قبضہ کرے یا سڑک کا پورا ایک ٹریک بند کر ڈالے کوئی مسلہ نہیں کیونکہ یہ دھندا ہے پر گندا ھے اور یہاں سب چلتا ہے۔ ماریہ ہومز ، سیفی ٹیکنیکل یونیورسٹی کی سروس روڈ برسوں سے بلاک ھے جبکہ پتھاروں کا آدھی شاہراہ پر قبضہ ہونے کے سبب شاہراہ ٹریفک کیلئے بلاک اور قبضہ مافیا کے ہاتھوں بند ھے۔ ناگن چورنگی شب بھر رشوت کی بدولت پکوانوں کے گھیرے اور قبضہ میں رہتی ھے ، حیدری مارکیٹ سے شروع ھونے والے مین شاہراہ عبداللہ بنگلوز تک انہی مافیا کے رحم و کرم پر ھے۔ الآصف اور سہراب گوٹھ سے شروع ہونے والی شاہراہ پاکستان ٹاور تک مکمل مافیا کے ہاتھوں فروخت کردی گئی ھے سونے پر سہاگہ چند قدموں کے فاصلہ پر خودساختہ ناجائز پارکنگ اسٹینڈ بناکر اربوں روپیہ عوام کی جیبوں سے لوٹا جاتا ھے اگر باریک بینی سے مطالعہ کریں تو خوردبین کھربوں کی تعداد میں رشوتی مافیاعی جراثیم دکھاتا ھے ایسے معاشرے ریاست و ملک میں *اللہ کا نام لینا کفر بن چکا ھے* نعوذباللہ ہر شاغ پر الو دجالی ھے، ہر پھول میں بدبو شیطانی ھے گویا آپ ڈسٹرک سینٹرل کا کوئی بھی حصہ مقام جگہ اٹھالیں نہ قانون نہ ضابطہ نہ اخلاق نہ کردار نہ ہی خوف خدا نظر آتا ھے جینا تو جینا مرنا بھی مشکل قبرستان تمام کے تمام مافیاء کی گود میں پل رھے ہیں اور صحت کے مراکز جانداروں کی جان نکالنے میں مصروف ہیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You