عنوان: صدر مملکت کے ہاتھوں وفاقی اردو یونیورسٹی تباہی و بربادی کا شکار ۔۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: صدر مملکت کے ہاتھوں وفاقی اردو یونیورسٹی تباہی و بربادی کا شکار ۔۔۔۔!!
کالمکار : جاوید صدیقی
تحریک انصاف کے انصاف پسند سرگرم کارکن اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر عارف علوی نے وفاقی اردو یونیورسٹی میں من پسند اور نا اہل دوست واجد جواد کو انجمن ترقی اردو میں صدر اور وفاقی اردو یونیورسٹی میں اپنا نمائندہ بنادیا جس پر وہ بیجا ہر معاملات میں مداخلت کرکے ادارے کی بربادی و تباہی کا سبب بننے ھوئے ھیں۔ میرے ذرائع کا کہنا ھے کہ صدر مملکت عارف علوی کے دوست واجد جواد جو انجمن ترقی اردو کے صدر بھی ہیں گزشتہ کئی سالوں سے بغیر کسی باضابطہ اطلاع کے اردو یونیورسٹی کے معاملات میں مداخلت کررہے ہیں۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ واجد جواد گزشتہ پانچ سال سے زائد عرصے سے وفاقی وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے کسی باضابطہ اطلاع کے بغیر وفاقی اردو یونیورسٹی کے سینیٹ اجلاسوں میں شرکت کررہے ہیں جو کہ ایف یو یو اے ایس ٹی ۖؕ”فوواسٹ” کے ایکٹ کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ انجمن ترقی اردو پاکستان، باب فور، اور اسکی شق ایف سترہ، ون”صدر، انجمن ترقی اردو پاکستان یا انکے نامزد کردہ”
اور ایف یو یو اے ایس ٹی ۖؕ”فوواسٹ” ایکٹ، باب فور، اور اس کی شق سترہ، تین کیمطابق مذکورہ بالا کو اپنانے کے طریقہ کار کے بارے میں: "سینیٹ میں تمام تقرریاں چانسلر کے ذریعہ کی جائیں گی۔ ذیلی سیکشن "ون” کی شق "ای” سے "آئی” میں بیان کردہ افراد کی تقرریوں کا نام سیکشن چوبیس کے لحاظ سے قائم کردہ نامزد کمیٹی کے ذریعہ تجویز کردہ ہر اسامی سے تین ناموں کے پینل میں سے اور تجویز کردہ کیمطابق رکھا جائیگا۔ طریقہ کار ” اس تناظر میں تین ناموں کا ایک نامزد پینل ہونا چاہئے جسے نامزد کرنے والی کمیٹی کے ذریعے حتمی شکل دی جائے اور ان تینق ناموں میں سے ایک کو وفاقی وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کو مقررہ طریقے سے مطلع کیا جائے۔
واجد جواد رکن سینیٹ ہونے کی وجہ سے وائس چانسلر سرچ کمیٹی کا حصہ بھی ہیں۔ اسکے علاوہ وہ ایف یو یو اے ایس ٹی ۖؕ”فوواسٹ” کی سنڈیکیٹ کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس سلسلے میں اہلیت اور تجربہ کی کمی کے باوجود انہیں سلیکشن بورڈ کی نظرثانی کمیٹی کا کنوینر بھی بنایا گیا۔ اس سے قبل جب سابق قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر روبینہ مشتاق کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو ایک ہنگامی کمیٹی نے سینیٹ کے سابق ڈپٹی چیئرمین اے کیو خلیل کو وائس چانسلر آفس کا انچارج بنانے کی سفارش کی۔ بعد ازاں سینیٹ نے اس ہنگامی کمیٹی کے منٹس کی سفارشات کو غیر قانونی اور ایمرجنسی کمیٹی کے دائرہ کار سے باہر قرار دیتے ہوئے منظور نہیں کیا تھا۔ حال ہی میں جب سابق قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ایم ضیاء الدین کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو ایک اور ہنگامی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے ڈاکٹر ایم ضیاء الدین کی مدت ملازمت میں توسیع کی سفارش کی۔ حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ جناب واجد جواد سینیٹر کی حیثیت سے ان دونوں ہنگامی کمیٹیوں کا حصہ رہے ہیں۔ بحیثیت سینیٹر ہنگامی کمیٹیوں میں انکی شمولیت نے ہنگامی کمیٹیوں کی تشکیل کیخلاف سنگین سوالات اٹھائے ہیں کیونکہ ہنگامی کمیٹی بنانے کیلئے سینیٹرز کے تین ارکان کا ہونا ضروری ہے۔ یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبر مسٹر صدیق نے آئینی پٹیشن ڈی فائیو نائن زیرو ون سنہ دو ہزار اکیس کے ذریعے اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی کوشش کی۔ ایس ایچ سی نے پچھلے دو سالوں میں اس معاملے کو ٹھیک سے نہیں اٹھایا یہ اس حقیقت کے باوجود ہے کہ اس نے کان نہ دھرنے کیلئے فوری درخواست دائر کی ہے۔ دوسری جانب
چانسلر صدر مملکت عارف علوی اور وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کیا لیکن دونوں اہم عہدوں پر فائز ھونے کے باوجود سنی ان سنی کا طریقہ اپنایا ھوا ھے اور اس بابت تمام اصول و ضوابط کا گلا کاٹ دیا گیا ھے ان کے روئیوں کے سبب ایچ ای سی ممبران اور ایف یو یو اے ایس ٹی ۖؕ”فوواسٹ” قوانین کو نظر انداز کا سلسلہ جاری ھے جس سے محکمہ تعلیم نا تلافی نقصان سے متواتر متاثر ھوتا چلا آرھا ھے لگتا ھے یہ ملک جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے تحت چل رھا ھے لاقانونیت اور عدم نظام کی مثال کہیں نہیں ملتی۔۔۔۔!!



