عنوان: سوئی سدرن گیس کمپنی کی غیر ذمہدارانہ عمل

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: سوئی سدرن گیس کمپنی کی غیر ذمہدارانہ عمل ۔۔۔!!
سوئی سدرن گیس کمپنی میں بیٹھے وزیر و مشیران و افسران کی نااہلی اور بددیانتی واضع طور پر عیاں ہوچکی ہے۔ سندھ بلخصوص کراچی میں موسمِ سرماں میں اس قدر ٹھنڈ نہیں پڑتی کہ جس سے ہاتھ پاؤں شل ہوجائیں صوبے سندھ بلخصوص کراچی میں سردی جنوری و فروری میں ہلکی پڑتی ہے مگر لالچی اور کرپٹ ادارے کے ذمہداروں نے کراچی شہر بھر میں نومبر سے ہی گھریلو صارفین کو گیس لوڈشیڈنگ کی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔ گزشتہ حکومتوں میں کراچی شہر کے گھریلو صارفین کو کبھی بھی گیس سے محروم نہیں کیا گیا۔ البتہ ہوٹلوں اور پکوان ہاؤس اور سی این جی اسٹیشنوں کو لوڈشیڈنگ کے شیڈول میں داخل کردیا جاتا تھا اور برآمدات تیار کرنے والی فیکٹریوں کارخانوں کو خصوصی حیثیت کیساتھ رعایت دیتے ہوئے انہیں گیس فراہم کی جاتی تھیں مگر اب چند سالوں سے ناہل اور بدنیت کرپٹ ذمہداران و بااختیاران کے سبب اب کراچی سمیت سندھ بھر کے شہری گیس کی فراہمی کو ترس گئے ہیں۔ یہاں میں جناب بلاول بھٹو زرداری اور سردار آصف علی زرداری صاحبان سے گزارش کرتا ہوں کہ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد آپ وفاق کو پابند کرسکتے ہیں کہ سندھ اپنے صوبے سے کئی فیصد گیس وفاق کو فراہم کررہا ہے اس لیئے سندھ بلخصوص کراچی کے گھریلو صارفین سے فی الفور لوڈشیڈنگ کے عمل کو ختم کردیا جائے۔ صوبے سندھ کا مرکزی شہر کراچی جو سب سے زیادہ گیس کی مد میں رقم اور ٹیکس ادا کرنے والا ملک پاکستان کا واحد شہر ہے پھر کراچی کے صارفین کیونکر اذیت و کوفت برداشت کریں۔ اس بابت وزیراعظم عمران خان اور صدرِ مملکت عارف علوی صاحبان کی توجہ اس اہم نقطہ پر مرکوز کرانا چاہتا ہوں کہ کراچی کی آدھی سے زائد آبادی فلیٹس میں بسر کرتی ہیں ان کے لیئے گیس کا نعم البدل مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہے کیونکہ فلیٹ اس انداز میں بنائے جاتے ہیں جہاں نہ دیسی چولہے استعمال کیئے جاسکتے ہیں نہ لوئلے کی انگیٹھیاں۔ ہلال احمر فائر بریگیڈ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بھی فلیٹس میں سوئی گیس کے علاوہ دیگر ذرائع کو خطرناک قرار دیتی ہے ان کے مطابق دیگر ذرائع سے ایندھن استعمال کرنے سے بڑے پیمانے پر حادثات رونما ہوسکتے ہیں بہتر یہی ہے کہ کراچی حیدرآباد اور میرپورخاص سمیت سندھ بھر کے گھریلو صارفین کو موسمِ سرماں میں گیس معمول کے مطابق فراہم کی جائے۔۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی


