*عنوان: سالانہ رپورٹ ایک تحقیقی جائزہ*
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: سالانہ رپورٹ ایک تحقیقی جائزہ*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
کراچی کے سینئر جرنلسٹ و کالمکار اور ممبر کراچی پریس کلب و ممبر کراچی یونین آف جرنلسٹ جاوید صدیقی نے ریاست پاکستان کے سول و ملٹری ملازمین کا ہر پہلو سے تحقیقی جائزہ لیا۔ تحقیقی جائزہ میں سول و پیرا ملٹری افسران گریڈ سترہ تا بائیس کے تنخواہ و مراعات کے بعد صورتحال یکطرفہ مختلف سامنے آئی۔ سینئر صحافی جاوید صدیقی نے کہا کہ تحقیقی رپورٹ بتاتی ھے کہ حاضر سروس کے دوران مالی طور پر تنخواہ و مراعات سے کئی ہزار اضافہ سامنے آئے ھیں۔ تحقیق میں وہ حقائق سامنے آئے جو منصب سے تجاوز فوائد حاصل کرنے اور قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرنے کے ثبوت ملتے ہیں جبکہ جعل سازی کا عمل واضع طور پر کثیر تعداد میں پایا گیا ھے یہی سبب ھے کہ عام پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رھا ھے جبکہ ملکی و قومی دولت صرف بااختیار افسران و مشیران اور وزراء کی زینت بنی ہوئی ھے۔ گریڈ سترہ تا بائیس کمیشنڈ یا گزیٹیڈ عہدہ یا منصب کہلایا جاتا ھے۔ یہ گریڈز سول سروس اور آرمڈ سروس میں پائے جاتے ہیں جبکہ کچھ ایسے منصب ہیں جو عوام کے انتخابات سے پانچ سال کیلئے بااختیار تمام سروسس کے اوپر ہوتے ہیں انکے ماتحت تمام
سول و آرمڈ کمیشنڈ یا گزیٹیڈ عہدہ ہوتے ہیں، ان منتخب نمائندگان کو بھی بھرپور آزادی میسر حاصل ہوتی ھے، قانونی آزادی یا نرمی کے سبب وزراء کے عیش و تعیش اور بےجا اخراجات ماتحتوں میں نفسیاتی منفی اثرات اور منفی کردار کی طرف لے جاتے ہیں۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو ملک و قوم اور ریاست کے حق میں صاف و شفاف تحقیق کے بعد سالانہ فنانس آڈٹ رپورٹ عوامی سطح پر جاری کرنا چاہئے تاکہ تنخواہ و مراعات کے نصاب سے بچت، دولت اور املاک کا درست موازنہ عوام بھی کرسکیں۔ پاکستانی عوام ریاست و حکومت کی جانب سے جاری اور عائد ہر ٹیکس ادا کرتے چلے آرھے ہیں جو قومی خذانہ میں جمع کیا جاتا ھے اور عوام کو قومی دولت کے اخراجات کا جاننا سمجھنا قانونی آئینی اور دستوری مکمل حق حاصل ھے تاکہ عوام جان سکیں کہ سول و ملٹری افسران کے علاوہ پارلیمنٹیرین و سیاستدان کی بھی سالانہ اخراجات عیاں ہوسکیں تاکہ انکے حاضر سروس و ریٹائرڈمنٹ کے بعد بھی بڑھتے ہوئے کاروبار اور املاک کی حقیقت عوام کے سامنے آسکیں اور وزراء و مشیران کے جائز و ناجائز محلات کی کہانیاں سامنے آسکیں۔ سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے کہا ھے کہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں اور انکے افسران کی مراعات میں وافر مقدار میں کمی کی جائے تاکہ عوام کو جینے کیلئے سکھ کا سانس مل سکے اور بڑھتے رشوت کے عمل کو بریک لگ سکے اور عوام پر عائد ٹیکسوں میں کمی واقع ہوسکے۔ جاوید صدیقی نے بتایا کہ عوام کا کہنا ھے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو حقیقی بنیاد پر جمہوری ملک بنایا جائے اور آئین پاکستان و دستور پاکستان کو مکمل طور پر قرآنی قوانین کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ پاکستان امن و سلامتی اور خوشحالی کی جانب تیزی سے گامزن ہوسکے۔ مکمل ملک کو سود فری یعنی سود سے پاک ملک بنایا جائے۔ دوسری طرف ملک بھر کے عوام بلخصوص کراچی کے مکینوں نے ریاستی اداروں اور سول سروینٹس کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا ھے، عوام کے مطابق سول و ملٹری ادارے عوام کو تحفظ بہم کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی سے عوامی حلقوں نے بتایا کہ محکمہ پولیس جو مکمل صوبائی حکومت کے تابع کام کررھا ہوتا ھے جس کی کارکردگی کے براہ راست ذمہداران میں وزیراعلیٰ اور آئی جی ہوتے ہیں جبکہ پیرا ملٹری فورسس جو وزرات داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہیں ان میں رینجرز ، ایف سی، کوسٹ گارڈ، اینٹی نارکوٹیسٹ و دیگر شامل ہیں جبکہ وزارت دفاع میں صرف افواج پاکستان اور انکے ذیلی ادارے ماتحت کام کررھے ہوتے ہیں۔ آج ملک بھر میں خوارجیوں کی آمد اور مجرموں کی کاروائیاں تیز ہونے کے اسباب وزارت داخلہ اور محکمہ پولیس کی بدترین کرپشن، لوٹ مار، بدعنوانی، لاپرواہی اور نااہلی کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ پاکستان دنیا کے چند برترین ممالک میں سے ایک ہوتا نظر آرھا ھے جہاں کے سول ادارے بدترین کرپشن کی نظر ہیں۔ حکومت کی بیڈ گورنرنس کے سبب عدم تحفظ بڑھ چکا ھے۔ ذہین و قابل تفتیشی افسران بار ہا بار صوبائی حکومتوں کو رپورٹ پیش کرتے چلے آرھے ہیں کہ محکمہ پولیس اور وزارت داخلہ میں نوے فیصد کالی بھیڑیں موجود ہیں۔ ان کالی بھیڑوں کا قلع قمع ناگزیر ھے کیونکہ ان کی طاقت اور اثرات اسقدر جا پہنچے ہیں کہ ان سے ریاست بھی بلیک میل ہوجاتی ھے۔ کراچی کے سینئر جرنلسٹ جاوید صدیقی نے وزیراعلیٰ سندھ سے کہا ہے کہ صوبہ سندھ بلخصوص کراچی کو پر امن بنانے کیلئے حالیہ سروے کے مطابق کومبنگ آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے یہ کومبنگ آپریشن اس وقت تک جاری رکھیں جب تک کہ مکمل طور پر جرائم کا خاتمہ ممکن بن جائے، جاوید صدیقی کے مطابق وفاق سمیت بلخصوص سندھ کی تباہی و بربادی اور تنزلی و غربت کی سب سے بڑی وجہ کرپشن بدعنوانی لوٹ مار، عدم عدل و انصاف جیسے عوامل ہیں جو ریاستی اداروں میں پچانوے فیصد تک جا پہنچی ہیں۔۔۔!!



