کالم/مضامین

عنوان: جیو, اےآروائی اور اب بول کی بندش آخر کیوں۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: جیو, اےآروائی اور اب بول کی بندش آخر کیوں۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

میڈیا انڈسٹری عصر حاضر میں انسانوں کیلئے لازم جز بن چکی ھے گویا آج کا معاشرتی ماحول جدید ٹیکنالوجی کے سبب ایک دوسرے سے اس قدر قریب آچکا ھے کہ بعض اوقات ھماری انتہائی خفیہ راز بھی راز نہیں رہ پاتے ہیں انہی الیکٹرونک ملٹی میڈیا جس میں سٹلائٹ سمیت شوشل میڈیا ہیں باہم سبک رفتاری سے ملکوں ملکوں ریاستوں میں جنگ و جدول کا سبب بھی بن جاتی ہیں تو دوسری جانب معاشی و اقتصادی طور پر خطرناک حملے کرکے ریاستوں ملکوں کو دیوالیہ کنگال کرنے میں لمحہ میں کاروائی کردیتی ہیں اسی لیئے اس صدی میں سب سے زیادہ جگیں سائبر وار اور پروپیگنڈہ ہیں۔ دنیا کوجس قدر جھوٹ دھوکے اور فریب سے شکست دی جارہی ہیں وہاں سچ و حق مغلوب ھوکر رہ گیا ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! بدلتی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ہر ملک ہر ریاست اپنی اپنی الیکٹرونک میڈیا کو قواعد و ضوابط میں سختی سے پابند کئے رکھتی ہیں جن میں ملک و قوم کی حفاظت, عزت و آبرو, حب الوطنی اور اہم ترین حساس موزوں شخصیات و اداروں پر خاص متوجہ اور احتیاط برتنے کا حکم صادر کیا جاتا ھے۔ جب میں نے ٹیلیویژن کے لائسنس کا حصول کیا تو کئی ایجنسیوں کو یقین دلایا اور عہد کیا کہ اپنے چینل سے ملک و ریاست اور اہم اداروں کی حفاظت احترام پر سختی سے پابند رہونگا یہی اور دیگر عوامل پیمرا قوانین میں تحریری درج ہیں۔۔۔۔معزز قارئین!! میں ملکی حالات اور میڈیا کے بدلتے رنگ کو دیکھتے ھوئے اپنے میڈیا ملازمین کو احساس دلانے کی بھرپور کوشش کررہا ھوں کہ وہ چینلز میں ورکرز یونین کا اجراء شروع کریں مانا کہ یہ عمل اس قدر آسان نہیں لیکن نا ممکن بھی نہیں ھے۔ میڈیا انڈسٹری میں ورکرز یونین کی اشد ضرورت ھے اس کی سب سے بڑی وجہ ورکرز کے اتحاد کے بعد میڈیا مالکان کی من مانیاں دم توڑ دیں گی اور یونین کے عہدیداران مالکان اور ان کے سہولتکاران کو ملک و ریاست کے خلاف نہ چلنے دیں گے نہ ہی بولنے دیں گے اور نہ ہی لکھنے دیں گے۔ میڈیا کی آزادی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ریاست و ملکی معاشرے کو خراب اور پرگندہ کرنے کیلئے بیرونی سازش کا حصہ بنیں اور ان سے رقوم سمیٹتے ھوئے ھماری قوم کی نسل کو معاشرتی برائیوں میں مبتلا کردیں کیونکہ آزادی کے نام پر ابتک ایسا ہی ھوتا چلا آرھا ھے۔ ان میڈیا ہاؤسس کی بے جا اڑان سے ریاستی ادارے جب ملکی قانون نافذ کرتے ھوئے بندش لگاتے ہیں تو یہی مالکان اپنے چند چینل کی بقاء کیلئے فرضی میڈیا رہنما ابھار لیتے ہیں اور انہیں مراعات و رقم کے ذریعے نعرے مطالبے جلسہ جلوس اور آزدی صحافت پر قدغن کی آواز بلند کرتے تھکتے نہیں اور خود کو مکارانہ انداز میں بے قصور اور مظلوم ظاہر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا انڈسٹری میں ابتک ورکرز یونین کا وجود نہیں ھے اسی لیئے اپنی بات ان ورکرز کے کاندھوں پر ڈال کر منوالیتے ہیں۔ میرا سوال انہی میڈیا مالکان سے ھے کہ اگر آپ اس قدر اپنے ورکرز سے مخلص اور سچے ہیں تو بتائیں آپ چپکے چپکے کسی نہ کسی عذر سے ملازمین کی بے دخلی کا عمل کیوں رکھتے ہیں اس وقت آپ کو انکی فیملی پر قیامت برپا ھوگی یہ احساس کیوں نہیں بیدار ھوتا ھے۔ آپ سب میڈیا مالکان یقیناً مجھ سے کہیں زیادہ شعور اور آگاہی رکھتے ہیں کہ قرآن و احادیث میں آجر و مزدور کے حقوق بتائے گئے ہیں۔ ھمارا مذہب ضابطہ اخلاق بھی سیکھاتا ھے اور عدل و انصاف بھی۔ عدل و انصاف یہی ھے کہ آجر جہاں اپنے نقصانات میں مزدور کو گھسیٹتا ھے وہیں اپنے فائدے میں بھی اس کا حصہ ادا کرے یاد رھے کہ غیر مسلم فائدے کی صورت میں اپنے ورکرز میں بونس و دیگر مراعات دیتا ھے اور نقصانات کی صورت میں نہ تنخواہ میں کمی کرتا ھے اور نہ ہی معاشی قتل کرنے میں بہانے تلاش کرتا ھے اور وہ ورکرز یونین کو اہمیت کیساتھ تقویت بھی دیتا ھے۔ ھماری قوم با شعور ھوچکی ھے وہ میڈیا مالکان کی چالوں سازشوں مکاریوں اور منافقت سے بہت اچھی طرح واقف ھوچکی ھے تو پھر یہ اپنے ملازمین اور ورکرز کو کیوں بیوقوف سمجھتے ہیں حقیقت تو یہ ھے کہ میڈیا ملازمین اور ورکرز ابھی مجبور ہیں اور سب چاہتے بھی یہی ہیں کہ حکومتِ پاکستان اور پیمرا بشمول چیف جسٹس صاحبان از خود نوٹس لیتے ھوئے تمام کے تمام میڈیا انڈسٹری سے وابستہ چینلز میں ورکز یونین بنانے کی اجازت نامہ جاری کردیں اور سالانہ بنیاد پر میڈیا انڈسٹری کا آڈٹ لازم و ملزوم قرار دیدے یقیناً اس عمل سے میڈیا انڈسٹری میں ملازمین و ورکرز میں اطمینان پیدا ھوجائیگا۔ استحکام اور عدل و انصاف کی فضا قائم ھوجائیگی۔ دعا ھے کہ اللہ میری اس کوشش کو رنگ بھردے اور میڈیا ملازمین و ورکرز یونین کا اجراء جلد شروع کردے آمین یا رب اللعالمین۔ بیشتر سینئر صحافی اور میڈیا پرسن کہتے ہیں کہ آپ تین سالوں سے بیروزگار ہیں آپ سب کیلئے بولتے اور لڑتے ہیں مگر آپ کیساتھ کوئی نہیں آپ کو مرنے کیلئے تنہا چھوڑ دیا ھے آپ کی اس کوشش پر ہنستے بھی ہیں اور طنز بھی کرتے ہیں اور کئی تنقید کا نشانہ بھی بناتے ہیں۔ میرا ایک ہی جواب ھوتا ھے میرا اللہ رازق ھے اور میں اجتماعی حقوق کی جنگ لڑ رھا ھوں میں ایک مر گیا تو کیا ھوا ہزاروں تو زندہ بچ جائیں گے کسی نہ کسی کو قربانی دینی پڑتی ھے پھر میری قربانی کیوں نہیں ان سب کے تحفظ اور خوشحالی سے جو دعائیں ملیں گی وہی تو میرا سب سے بڑا ثمر ھے۔ اللہ مجھے زندگی میں میڈیا انڈسٹری کے اندر ورکز یونین کو تمام چینلز اور تمام میڈیا ہاؤس میں متحرک ھوتا دکھادے آمین ثمہ آمین۔۔۔معزز قارئین۔۔۔۔!! یاد رکھنے کی بات ھے کہ جب میڈیا انڈسٹری میں ورکرز یونین متحرک ھوجائیگی تو پھر نہ تو جیو بند ھوگا نہ اےآروائی اور نہ ہی بول و دیگر چینلز کیونکہ پھر مالکان اور ان کے جوتے کے تلوؤں میں اتنی ہمت نہیں ھوگی کہ وہ چینلز میں ریاست حکومت اور پیمرا پالیسیوں کو نظر انداز کرکے خودسری کرسکیں پھر پاکستانی میڈیا حقیقت میں ترقی یافتہ ممالک کی میڈیا انڈسٹری کے تحت بھرپور انداز میں مثبت صحافت کرسکے گا۔۔۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You