عنوان: بیرونی چھتری سے خلاصی ناگزیر۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: بیرونی چھتری سے خلاصی ناگزیر۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
تاریخ شاہد ھے کہ اسلامی ریاستوں کو تباھ کرنے میں جہاں اسرائیل کارفرما رھا ھے وہیں اس نے اپنے دائیں بائیں بازوں کو بھرپور استعمال کیا۔ اسلامی ریاست کے دور عثمانیہ کے آخری حکمراں سلطان عبدالحمید کے نظام ریاست کا بغور مطالعہ کرتے ھیں تو دو خاص دنیا کے عوامل نظر آتے ہیں ایک یہودی اپنے دائیں اور بائیں جانب کی حکومتوں کے ذریعے انتہائی غلیظ سیاسی کھیل کھیلتے رھے تو دوسری جانب عربوں کو ورغلا کر مسلم امہ کے اتحاد کو پارہ پارہ کیا۔ دور اندیش اور سیاسی بصیرت رکھنے والے عثمانیہ دور کے حکمراں سلطان عبدالحمید نے بڑی مہارت اور ہوش مندی سے اسلام مخالفین قوتوں کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا مگر اپنے پائے تخت میں موجود اور خاندانی رشتہ داروں کی بغاوت کے سبب شدید تکالیف و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب تک سلطان عبد الحمید صحتیاب رھے ان یہودی زائینسٹ و دیگر کفار و مشرکین کا مقابلہ دیدہ دلیری اور بہادری سے کرتے رھے مگر بعد سلطان عبدالحمید کے اقتدار ان کی اولادوں کی نااہلی بیوقوفیوں کے سبب عثمانیہ سلطنت زوال پزیر ھوئی۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! عثمانیہ دور کا سو سالہ معاہدہ سنہ دو ہزار تئیس کو ختم ھورھا ھے اسی لیئے گزشتہ دس سے پندرہ سالوں سے وہی اسلام مخالف قوتیں متحرک ھوگئیں تھیں اور یہودیوں کے وہی دائیں بائیں دنیا کی سپر طاقتوں نے مسلم ممالک کو حیلے بہانے جھوٹے پروپیگنڈے اور اپنے ایجنڈوں کے ذریعے اتحادی جماعتوں کیساتھ دھاوا بول دیا اور کئی مسلم ملکوں کو ہستی سے مٹادیا اور کئی مسلم ممالک میں اپنے ٹٹو یعنی غلام یعنی ایجنڈوں کو حکمران بناڈالا اور عرب ممالک کو منتشر کیئے رکھا تاکہ عالم اسلام متحد بن کر ابھر نہ سکے۔ پاکستان کیونکہ اللہ کی مرضی و منشاء سے ایٹمی طاقت بن چکا ھے انہیں ہضم و برداشت نہیں اسی لیئے اب انکی مکمل نظر اور توجہ پاکستان کو انتہائی کمزور لاغر کرنا ھے اسی مقصد کیلئے سب سے پہلے پاکستانی قوم کو نفرت عصبیت تعصب لسانیت اور مذہبی طور پر مسالک میں انتہا پسندی پیدا کرکے ایک دوسرے کیلئے دشمنی قائم رکھی جائے اور ملک پاکستان کے ایسے غدار اور اپنے ایجنڈ لوگوں کو خاص طاقتور اہم منصب پر فائز کیا جائے جو عدم استحکام حق تلفی اور لاقانونیت کو پڑوان چڑھنے میں بھرپور کردار ادا کرسکیں۔ دنیا جانتی ھے کہ کوئی بھی ریاست ھو یا ملک بناء دولت کے نہ ترقی کرسکتا ھے اور نہ ہی خوش حال رہ سکتا ھے اس کیلئے بھٹو نے ابتدا کی اور انتہا یہ کررھے ھیں۔ پاکستان ستر کی دھائی سے قبل بہترین زرعی ملک تھا صنعتی ملک تھا معاشی حب تھا قومی کرنسی بلند تھی ہر شئے سستی اور وافر مقدار میں تھی تعلیم انتہائی سستی گویا مفت ھو اسی طرح علاج بھی انتہائی سستا۔ دوائیاں کوڑیوں کے بھاؤ۔ عدالتوں میں انصاف عام تھا تھانے ایماندار سچے اور خدمت سے سرشار تھے عوام میں محبت پیار اخوت ایثار و قربانی بھری پڑی تھی لیکن اب ھم سخت اذیت کوفت اور مشکل ترین دور سے گزر رھے ھیں ابھی اور مزید سخت ترین حالات سے گزرنا پڑیگا آئندہ دس سے پندرہ سالوں میں پاکستان میں بہترین تبدیلی دیکھنے میں آئیں گی وہ پاکستان جو اسلام کے نام سے بنا ھے اسلامی ریاست کی طرف تیزی سے جاتا ھوا نظر آئیگا ممکن ھے جلد بھی ھوجائے لیکن ان دس پندرہ میں ھماری نئی نسل صحیح معنوں میں اسلامی ریاست کو نہ صرف دیکھے گی بلکہ ایک بہترین مسلمان مومن بھی ھونگے۔ عرب آہستہ آہستہ اپنی حیثیت کھوتے جائیں گے اور اسرائیل کے اشاروں پر ناچتے رھیں گے یہی انکی تباھی کا سبب موجب ھوگی۔ پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ اللہ سے دعا کریں کہ ان سیاسی فتنہ بازیوں کے فتنہ سے محفوظ رکھے کیونکہ یہ سب دجال کے چیلوں کا کردار ادا کررھے ھیں اور رسیاں بھی دجالی کنٹرول میں ھیں۔۔۔۔۔۔!!!



